مکہ معاہدہ سٹریٹجک سلامتی، معاشی تعاون اور ترقی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال
مکہ معاہدہ سٹریٹجک سلامتی، معاشی تعاون اور ترقی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال

مزید خبریں
لاہور۔3ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ معاہدہ اجتماعی دفاع اور خطے میں استحکام کی جانب ایک اہم قدم ہے تاہم اس کی طویل المدتی اہمیت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ سٹریٹجک تعاون کو معاشی طاقت، ٹیکنالوجی کی صلاحیت اور انسانی ترقی میں کس حد تک تبدیل کیا جاتا ہے۔جامعہ لاہور میں ’’مکہ معاہدہ اور طاقت کی نئی تشکیل‘‘ کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ دنیا ایک بڑی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہے، سرد جنگ کے بعد قائم ہونے والا یک قطبی عالمی نظام زوال پذیر ہے جبکہ نیا کثیر قطبی عالمی نظام ابھی تشکیل پا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی منظرنامے میں چین ایک بڑی معاشی و تکنیکی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے، روس کا سٹریٹجک اثر و رسوخ برقرار ہے، یورپ اپنے سکیورٹی نظام پر نظرثانی کر رہا ہے، خلیجی ممالک کی معاشی و سفارتی اہمیت بڑھ رہی ہے، ترکیہ ایک خودمختار علاقائی طاقت کے طور پر اپنا کردار وسیع کر رہا ہے جبکہ بھارت بھی عالمی سطح پر زیادہ نمایاں کردار کا خواہاں ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ اس صورتحال میں گلوبل ساؤتھ کے ممالک بھی تیزی سے اپنے مستقبل کے خود مصنف بننے کے حق کا اظہار کر رہے ہیں، بجائے اس کے کہ وہ بڑی طاقتوں کے باہمی مقابلے کا محض میدان بنے رہیں۔مکہ میں 7 اگست 2026 کو وزیراعظم محمد شہباز شریف، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے دستخط کئے گئے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ مکہ معاہدے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ مکہ معاہدہ جارحیت کے لئے اتحاد نہیں، نہ ہی کسی ملک کے خلاف ہے اور نہ ہی کسی نئے محاذ آرائی کے دائرے کے قیام کا مقصد رکھتا ہے، یہ اجتماعی دفاع اور باز deterrence کا ایسا انتظام ہے جس کا مقصد طاقت کے ذریعے امن، یکجہتی کے ذریعے سلامتی اور سٹریٹجک تعاون کے ذریعے استحکام کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدے کے پیچھے فلسفہ سادہ ہے کہ جب جارحیت کی قیمت ناقابل برداشت حد تک بڑھ جائے تو جارحیت کی ترغیب اسی تناسب سے کم ہوجاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتظام اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت انفرادی اور اجتماعی دفاع کے تسلیم شدہ حق سے ہم آہنگ ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان شراکت داری کے پیچھے گہری سٹریٹجک منطق موجود ہے کیونکہ تینوں ممالک کی قومی صلاحیتیں ایک دوسرے کے لئے معاون اور تکمیلی ہیں، سعودی عرب کے پاس معاشی وسائل، توانائی کی قوت، مالیاتی استعداد اور تیزی سے بڑھتی ہوئی تکنیکی صلاحیت ہے، ترکیہ کے پاس مضبوط صنعتی و دفاعی بنیاد، اہم جغرافیائی محل وقوع اور سفارتی رسائی ہے جبکہ پاکستان اہم دفاعی صلاحیتوں، سٹریٹجک جغرافیائی رابطے اور نوجوان انسانی وسائل کے بڑے ذخیرے کا حامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس شراکت داری کی اصل طاقت صرف فوجی صلاحیتوں کو یکجا کرنے میں نہیں بلکہ انہیں سلامتی، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، رابطہ کاری اور معاشی تعاون کے وسیع تر نظام میں تبدیل کرنے میں ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ وہ مقام ہے جہاں جغرافیائی سیاست کو جغرافیائی معیشت سے ملنا ہوگا۔احسن اقبال نے زور دیا کہ پاکستان کا سٹریٹجک مقصد ’’اسٹریٹجک تنہائی کے بغیر اسٹریٹجک خودمختاری‘‘ ہونا چاہئے، پاکستان چین کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، امریکا اور یورپ کے ساتھ تعمیری تعلقات کا خواہاں ہے، ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات چاہتا ہے اور مسلم دنیا کے ساتھ شراکت داری کے لئے بھی پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سٹریٹجک سوچ کا اصول ہونا چاہئے،سب سے دوستی، کسی پر انحصار نہیں، سب کے ساتھ امن، کسی کے سامنے کمزوری نہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ صرف فوجی سلامتی کسی ملک کو طاقتور نہیں بنا سکتی بلکہ معاشی پیداوار، تکنیکی صلاحیت، انسانی وسائل اور سماجی ہم آہنگی ہی قومی سلامتی کی حقیقی بنیادیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدے کو دفاعی تعاون سے آگے بڑھاتے ہوئے مشترکہ دفاعی پیداوار، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، خلائی ٹیکنالوجی، توانائی و غذائی تحفظ، اہم معدنیات، تحقیق، سرمایہ کاری اور علاقائی رابطہ کاری جیسے شعبوں میں تعاون کا ذریعہ بننا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی انسانی وسائل، ترک ٹیکنالوجی و صنعتی صلاحیت اور سعودی سرمایہ کاری کو یکجا کرکے اس سٹریٹجک شراکت داری کو وسیع تر ترقیاتی شراکت داری میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔پاکستان کی قومی ترقیاتی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ جب بھی ملک کی خودمختاری کو چیلنج کیا گیا، پاکستان نے عزم اور اتحاد کا مظاہرہ کیا، تاہم اب ملک کی اگلی بڑی قومی جدوجہد ’’معرکہ ترقی‘‘ ہوگی۔انہوں نے کہا کہ مستقبل کی مسابقت صرف فوجی طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ برآمدات، تعلیم، پیداواری صلاحیت، ٹیکنالوجی، جدت اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے ہوگی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اڑان پاکستان کے تحت حکومت نے 2035 تک پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر اور 2047 تک تین ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے جبکہ ایز 5 فریم ورک میں برآمدات، ای پاکستان، ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی، توانائی و انفراسٹرکچر اور مساوات، اخلاقیات و بااختیاری پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا حتمی قومی مقصد اپنی صلاحیت میں اضافہ ہونا چاہئے کیونکہ اکیسویں صدی میں خودمختاری ان قوموں کو حاصل ہوگی جو پیداوار، جدت، تعلیم اور اپنی ٹیکنالوجی کی ترقی کی صلاحیت رکھتی ہوں۔علامہ اقبال کے فلسفہ خودی کا حوالہ دیتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ قومی خود شناسی اور خود انحصاری کے لئے آزادانہ سوچ، پیداوار، جدت اور آزادانہ فیصلوں کی صلاحیت ضروری ہے۔
انہوں نے کہاکہ میزائل دشمن کو روک سکتے ہیں لیکن علم قوموں کی تقدیر کا فیصلہ کرتا ہے، جنگی طیارہ آپ کی فضائی حدود کا دفاع کرسکتا ہے لیکن یونیورسٹی آپ کے مستقبل کا دفاع کرتی ہے۔نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے جامعات پر زور دیا کہ وہ قومی تبدیلی کی تجربہ گاہیں بنیں اور طلبہ، محققین، انجینئرز، کاروباری افراد اور سماجی علوم کے ماہرین پاکستان کو درپیش اہم مسائل کے حل تلاش کریں۔انہوں نے کہا کہ آنے والی نسل کو مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، کوانٹم کمپیوٹنگ، روبوٹکس، جدید مواد، قابل تجدید توانائی اور خلائی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں عالمی مقابلے کا سامنا ہوگا۔
احسن اقبال نے کہا کہ غلط معلومات اور بڑھتی ہوئی تقسیم کے دور میں سماجی ہم آہنگی بھی قومی سلامتی کا اہم جزو بن چکی ہے۔ کوئی بیرونی دشمن اس قوم کو مستقل طور پر کمزور نہیں کرسکتا جو خود پر یقین رکھتی ہو تاہم کوئی بھی فوج ایسی قوم کا مستقل دفاع نہیں کرسکتی جو اندرونی طور پر تقسیم ہو۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مکہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ اپنی بڑھتی ہوئی سٹریٹجک صلاحیت کو محاذ آرائی کے بجائے زیادہ ذمہ داری کےلئے استعمال کریں۔
علامہ اقبال کے معروف شعر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قیادت کی بنیاد سچائی، انصاف اور جرأت پر ہے جبکہ جدید دور میں علم، اتحاد اور پیداواری صلاحیت بھی ناگزیر تقاضے بن چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر مکہ معاہدہ پاکستان کو زیادہ اسٹریٹجک سلامتی فراہم کرتا ہے تو پاکستان کو اس سلامتی کو دانشمندی سے استعمال کرتے ہوئے عالمی معیار کی جامعات، عالمی سطح پر مسابقت رکھنے والی صنعتیں، مقامی ٹیکنالوجیز اور نوجوانوں کے لئے مواقع پیدا کرنے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ ’’پاکستان 2047 میں اپنی صد سالہ سالگرہ اس قوم کے طور پر منائے جو اب بھی اپنی صلاحیتوں پر بحث نہیں کر رہی ہو بلکہ اپنی صلاحیتوں کو حقیقت میں تبدیل کرچکی ہو۔








