پانچ روزہ نیشنل ینگ لیڈرز سمٹ 2026 کامیابی سے اختتام پذیر

ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ افیئرز خیبر پختونخوا اور خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورزم اتھارٹی کے خصوصی تعاون سے ینگ لیڈرز پارلیمنٹ کے زیرِ اہتمام منعقدہ پانچ روزہ نیشنل ینگ لیڈرز سمٹ 2026 کامیابی سے اختتام پذیر ہوگیا

پشاور۔ 03 ستمبر (اے پی پی):ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ افیئرز خیبر پختونخوا اور خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورزم اتھارٹی کے خصوصی تعاون سے ینگ لیڈرز پارلیمنٹ کے زیرِ اہتمام منعقدہ پانچ روزہ نیشنل ینگ لیڈرز سمٹ 2026 کامیابی سے اختتام پذیر ہوگیا۔ سمٹ میں ملک بھر سمیت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے 120 مرد و خواتین نوجوان رہنماؤں نے شرکت کی۔اس دوران نوجوانوں کے لیے پارلیمانی امور، قانون سازی، قیادت، قومی یکجہتی، بین الصوبائی ہم آہنگی، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل اسکلز کے حوالے سے خصوصی سیشنز اور تربیتی سرگرمیاں منعقد کی گئیں۔ شرکاء نے صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا، وزیراعلیٰ ہاؤس، پارلیمنٹ ہاؤس، سینیٹ آف پاکستان اور پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پارلیمنٹری سروسز کے مطالعاتی دورے بھی کیے۔پشاور میں نوجوانوں پر مشتمل مشترکہ پارلیمانی اجلاس منعقد ہوا جبکہ اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی، ایم پی اے و چیئرمین ڈیڈک پشاور شیر علی آفریدی، چیف وِپ و ایم پی اے اکبر ایوب خان، ایم پی اے اشبر جدون، سیکریٹری صوبائی اسمبلی سید وقار شاہ اور دیگر معزز شخصیات نے نوجوانوں کے ساتھ خصوصی انٹرایکٹو سیشنز کیے۔

اسلام آباد میں PIPS کے تحت قانون سازی اور پارلیمانی نظام پر خصوصی ورکشاپ منعقد ہوئی، جس میں سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سینیٹر مرزا محمد آفریدی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔سمٹ کے آخری مرحلے میں شرکاء نے نتھیا گلی کے خوبصورت سیاحتی مقامات کا خصوصی دورہ کیا، اس موقع پر مختلف صوبوں کے ثقافتی رنگوں پر مشتمل کلچرل ایونٹ اور بون فائر کا بھی اہتمام کیا گیا۔ خیبر پختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے آفیسر پیر عماد علی شاہ نے AI اور لیڈرشپ ڈیولپمنٹ حوالے نوجوانوں کے ساتھ خصوصی انٹرایکٹو سیشن کیا۔اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ینگ لیڈرز پارلیمنٹ نوید احمد خان نے ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ افیئرز خیبر پختونخوا، خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورزم اتھارٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ینگ لیڈرز سمٹ 2026 کا بنیادی مقصد نوجوانوں میں قیادت، پارلیمانی شعور، قانون سازی سے آگاہی، قومی یکجہتی اور بین الصوبائی ہم آہنگی کو فروغ دینا اور انہیں قومی تعمیر و ترقی میں مؤثر کردار کے لیے تیار کرنا تھا۔