چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے ملک کے اعلیٰ تعلیمی شعبے کو درپیش چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لئے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی تعاون اور مربوط حکمت عملی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے
ملک کے اعلیٰ تعلیمی شعبے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی تعاون کی ضرورت ہے، ڈاکٹر نیاز احمد اختر

مزید خبریں
اسلام آباد۔3ستمبر (اے پی پی):چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے ملک کے اعلیٰ تعلیمی شعبے کو درپیش چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لئے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی تعاون اور مربوط حکمت عملی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔چیئرمین ایچ ای سی نے ان خیالات کا اظہار پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر اقرار احمد خان، سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ایس ایم طارق رفیع اور خیبر پختونخوا و بلوچستان کے محکمہ ہائر ایجوکیشن کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ایچ ای سی کے کوالٹی ایشورنس، تحقیق و جدت ڈویژنوں کے اراکین اور مشیر برائے تحقیق و جدت نے بھی شرکت کی۔ ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا کہ ملک بھر میں اعلیٰ تعلیم سے متعلق تمام شراکت داروں کے درمیان بہتر رابطہ اور تعاون اعلیٰ تعلیمی شعبے کی بہتری کے مشترکہ مقصد کے حصول میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
انہوں نے رابطوں کے ذرائع کو مزید مؤثر بنانے اور اعلیٰ تعلیمی شعبے سے متعلق امور پر باقاعدگی سے مشاورت کے انعقاد کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی تیزی سے بدلتی دنیا میں مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ تعلیم میں اس کا مؤثر انضمام اداروں اور طلبہ کو مستقبل کے چیلنجز اور مواقع کے لئے تیار کرنے کے لئے ناگزیر ہو چکا ہے۔ چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ جامعات کو اساتذہ اور طلبہ کو مصنوعی ذہانت سے متعلق ضروری علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ جدت، تحقیق، کاروباری سرگرمیوں اور نئی ٹیکنالوجیز کے عملی استعمال کو فروغ دینا چاہئے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ مربوط اقدامات کے ذریعے پاکستانی جامعات کو عالمی تکنیکی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ رکھا جائے تاکہ وہ ابھرتی ہوئی علمی اور ڈیجیٹل معیشت میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
اجلاس کے شرکاء نے باہمی تعاون کے فروغ اور اعلیٰ تعلیمی شعبے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مزید مربوط طریقہ کار اختیار کرنے سے متعلق اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ شرکاء نے باقاعدہ رابطوں کا سلسلہ جاری رکھنے اور اعلیٰ تعلیمی شعبے کی مضبوطی کے لئے پالیسیوں اور اقدامات پر وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے مشترکہ کوششیں کرنے پر اتفاق کیا۔








