آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں خلل سے پیداواری لاگت میں اضافے اور طلب میں کمی کا امکان ہے، عالمی بینک

عالمی بینک نے کہاہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں خلل کے اثرات صرف خلیجِ فارس تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں بڑھنے، پیداواری لاگت میں اضافے اور طلب میں کمی کا امکان ہے۔

اسلام آباد۔4ستمبر (اے پی پی):عالمی بینک نے کہاہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں خلل کے اثرات صرف خلیجِ فارس تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں بڑھنے، پیداواری لاگت میں اضافے اور طلب میں کمی کا امکان ہے۔

عالمی بینک کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ آبنائے ہرمز خلیجِ فارس کو بحرِ ہند سے ملانے والی اہم آبی گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کے بڑے حصے کی ترسیل ہوتی ہے۔ کسی ممکنہ مسلح تنازعہ یا جغرافیائی سیاسی دبا ئوکے باعث اس راستے میں رکاوٹ عالمی سپلائی چینز، تجارت، صنعت اور روزگار کو متاثر کر سکتی ہے۔80 ممالک پر مشتمل ایک حالیہ تجزیے کے مطابق حالیہ بحران سے 61 ممالک میں 90 فیصد سے زیادہ کارکنوں کی حقیقی آمدنی میں کمی کا امکان ہے، تاہم اس بحران کے اثرات تمام ممالک اور شعبوں پر یکساں نہیں ہوں گے، کمبوڈیا، یوکرین اور ویتنام ان ممالک میں شامل ہیں جہاں کارکنوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

اس کے برعکس تیل برآمد کرنے والے ممالک، جن میں نائجیریا، انگولا، آسٹریلیا، برونائی دارالسلام، قازقستان، ناروے اور روس شامل ہیں، نسبتا محفوظ رہیں گے،ان ممالک میں 20 فیصد سے بھی کم کارکنوں کی آمدنی متاثر ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔تجزیے کے مطابق ٹیکسٹائل، زراعت اور پلاسٹک کے شعبے توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، جبکہ خام تیل نکالنے کا شعبہ ان چند شعبوں میں شامل ہے جو بلند عالمی قیمتوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں اضافہ پیداوار، نقل و حمل اور خام مال کی لاگت بڑھا دے گا۔ دوسری جانب عالمی طلب میں کمی برآمدی صنعتوں کو مزید دبائو میں لے آئے گی۔ چین کی الیکٹرانکس صنعت اور کمبوڈیا کا ٹیکسٹائل شعبہ ان صنعتوں میں شامل ہیں جو توانائی کے بالواسطہ اثرات اور عالمی طلب میں کمی سے متاثر ہو سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس بحران سےزراعت کا شعبہ بھی شدید دبائو کا شکار ہورہاہے ،زرعی پیداوار میں کیمیائی کھاد، زرعی ادویات، ایندھن، آب پاشی اور نقل و حمل کا اہم کردار ہے، اس لیے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ زرعی لاگت کو براہِ راست بڑھا دیتا ہے۔رپورٹ میں حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ مزدوروں کی شعبہ جاتی منتقلی آسان بنانے کے لیے فنی تربیت، دوبارہ مہارت حاصل کرنے کے پروگرام، قابلِ منتقلی سماجی فوائد اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کریں۔ خوراک درآمد کرنے والے کم آمدنی والے ممالک کو توانائی کی قیمتوں میں اچانک اضافے کی صورت میں سبسڈی، نقد امداد اور سماجی تحفظ کے پروگرام فوری طور پر فعال کرنے کی تیاری بھی کرنی چاہیے۔