وزیراعظم محمد شہباز شریف نے طویل مدتی معاشی تبدیلی کے لیے حکومت کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامی رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے خصوصی ٹاسک فورسز کے ذریعے موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں،
پاکستان نے سخت مالیاتی، ساختی اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے مشکل معاشی بحالی کے مرحلے کو کامیابی سے عبور کیا ہے،وزیراعظم کی اے ڈی بی کے نائب صدر سے ملاقات میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد۔4ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے طویل مدتی معاشی تبدیلی کے لیے حکومت کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامی رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے خصوصی ٹاسک فورسز کے ذریعے موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں،پاکستان نے سخت مالیاتی، ساختی اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے مشکل معاشی بحالی کے مرحلے کو کامیابی سے عبور کیا ہے،ان اصلاحات کے نتیجے میں ملکی معیشت میں استحکام آیا، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا جبکہ فچ، موڈیز اور ایس اینڈ پی سمیت عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کے لیے مستحکم معاشی منظرنامے کی درجہ بندی کی ہے۔
جمعہ کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) کے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا کے نائب صدر ینگ منگ یانگ نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔وزیراعظم نے ینگ منگ یانگ کے اعزاز میں ناشتے کا اہتمام کیا۔ملاقات میں پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط ترقیاتی شراکت داری کا جائزہ لیا گیا اور نئی کنٹری پارٹنرشپ سٹریٹیجی (سی پی ایس) 2026-2030 کے تحت ترجیحی شعبوں میں اقدامات پر غور کیا گیا۔وزیراعظم نے ینگ منگ یانگ کا اس حیثیت سے پاکستان کے پہلے سرکاری دورے پر خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان میں شہری بنیادی ڈھانچے، ٹرانسپورٹ اور عوامی خدمات کے اہم منصوبوں کی تکمیل میں اے ڈی بی کی مسلسل پیشہ ورانہ کارکردگی اور بروقت تعاون کو سراہا۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے سخت مالیاتی، ساختی اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے مشکل معاشی بحالی کے مرحلے کو کامیابی سے عبور کیا ہے۔
ان اصلاحات کے نتیجے میں ملکی معیشت میں استحکام آیا، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا جبکہ فچ، موڈیز اور ایس اینڈ پی سمیت عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کے لیے مستحکم معاشی منظرنامے کی درجہ بندی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ طویل مدتی معاشی تبدیلی کے لیے حکومت کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ انتظامی رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے خصوصی ٹاسک فورسز کے ذریعے موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ملاقات میں کراچی سے پشاور تک مین لائن-1 (ایم ایل-1) ریلوے کوریڈور کی جدید خطوط پر اپ گریڈیشن پر خصوصی توجہ دی گئی جو قومی بنیادی ڈھانچے کی ایک اہم ترجیح ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایم ایل-1 کی اپ گریڈیشن مال برداری کے نظام کو جدید بنانے، علاقائی تجارتی روابط مضبوط کرنے اور بڑے صنعتی منصوبوں کو فروغ دینے کے لیے انتہائی اہم ہے۔
ملاقات میں ایم ایل-1 منصوبے پر جلد عملی کام شروع کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور ملک میں رابطوں کے نظام کو جدید بنانے کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے ملاقات میں نجی شعبے اور ایس ایم ایز کی معاونت ، توانائی اور غذائی تحفظ، برآمدات کی مسابقتی صلاحیت میں اضافے، مصنوعی ذہانت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مشترکہ تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ملاقات کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ کنٹری پارٹنرشپ سٹریٹیجی 2026-2030 کی ترجیحات کو ٹھوس اور موثر اقدامات میں تبدیل کیا جائے گا جو پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے عوام کے معیار زندگی میں نمایاں بہتری لانے میں معاون ثابت ہوں گے۔








