انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کا موسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ فصلوں کی افزائش کے حوالے سے تربیتی کورس اختتام پذیر
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کا موسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ فصلوں کی افزائش کے حوالے سے تربیتی کورس اختتام پذیر

مزید خبریں
فیصل آباد۔4ستمبر (اے پی پی):نیوکلیئر انسٹی ٹیوٹ فار ایگریکلچر اینڈ بائیولوجی (نیاب) فیصل آباد میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے تعاون سے فصلوں کو موسمیاتی تبدیلیوں اور مختلف زرعی خطرات سے محفوظ بنانے کے حوالے سے دو ہفتوں پر مشتمل علاقائی تربیتی کورس اختتام پذیر ہوگیا۔کورس کا انعقاد پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) کے ذیلی ادارے نیاب نے آئی اے ای اے کے تعاون سے کیا۔ تربیتی کورس میں 17 ممالک کے 34 ماہرین اور سائنسدانوں نے شرکت کی جن میں پاکستان کے 6 شرکا بھی شامل تھے۔جمعہ کو پاکستان اٹامک انرجی کمیشن سے جاری بیان کے مطابق اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ممبر سائنس ڈاکٹر شکیل عباس روفی تھے۔

انہوں نے تربیتی کورس مکمل کرنے والے شرکا کو مبارکباد دی اور پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی میں پرامن مقاصد کے لئے نیوکلیئر سائنس اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے پی اے ای سی کے کردار کو اجاگر کیا۔ڈاکٹر شکیل عباس روفی نے کہا کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے زراعت اور بائیوٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والے چار خصوصی ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچر (این آئی اے )، نیوکلیئر انسٹی ٹیوٹ فار ایگریکلچر اینڈ بائیولوجی (نیاب)، نیوکلیئر انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ اینڈ ایگریکلچر (این آئی ایف اے ) اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ (این آئی بی جی ای )، موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے والی فصلوں کی تیاری، پائیدار زرعی طریقوں کے فروغ اور ملکی غذائی تحفظ کے لئے کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے پی اے ای سی کی دیگر اہم خدمات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے 21 کینسر ہسپتال ملک کے تقریباً 80 فیصد کینسر مریضوں کو تشخیص اور علاج فراہم کر رہے ہیں جبکہ پی اے ای سی کے 6 نیوکلیئر پاور پلانٹس قومی بجلی کے نظام کو تقریباً 3500 میگاواٹ بجلی فراہم کر رہے ہیں۔ممبر سائنس ڈاکٹر شکیل عباس روفی نے جدید تحقیق اور ماہر افرادی قوت کی تیاری میں بھی پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے کردار کو اجاگر کیا اور کہا کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز (PIEAS)، کراچی انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر پاور انجینئرنگ (KINPOE)، چاشنٹ (CHASCENT) اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (PINSTECH) جیسے ادارے اس حوالے سے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ نیوکلیئر انسٹی ٹیوٹ فار ایگریکلچر اینڈ بائیولوجی (نیاب) خوراک اور زراعت میں نیوکلیئر تکنیکوں کے استعمال کے حوالے سے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کا کولیبریٹنگ سینٹر ہے جو اس شعبے میں نیاب کی مہارت اور بین الاقوامی سطح پر اس کے دیرینہ تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔ڈاکٹر شکیل عباس روفی نے کہا کہ زراعت میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، فصلوں کو مضبوط بنانے اور غذائی تحفظ کے لئے پی اے ای سی کا آئی اے ای اے اور جوائنٹ ایف اے او/آئی اے ای اے سینٹر کے ساتھ تعاون انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی مسلسل معاونت کو سراہا اور پاکستان اور نیاب کو علاقائی تربیتی کورس کی میزبانی کے لئے منتخب کرنے پر آئی اے ای اے کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئی اے ای اے کے مختلف رکن ممالک کے سائنسدانوں کے لئے پاکستان میں اس طرح کی خصوصی تربیت کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے سائنسی ادارے، لیبارٹریاں اور ماہرین جدید تکنیکی تربیت فراہم کرنے اور اپنی مہارت بین الاقوامی سطح پر شیئر کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی پروگرام مینجمنٹ آفیسر لنیانگ نے بھی تربیتی کورس مکمل کرنے والے شرکا کو مبارکباد دی۔
انہوں نے کورس کی کامیابی کے لئے حکومت پاکستان اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے بھرپور تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے آئی اے ای اے کے کولیبریٹنگ سینٹر کی حیثیت سے نیاب کی مسلسل اور بھرپور معاونت کو بھی سراہا۔ انہوں نے کورس کو کامیاب اور مؤثر بنانے میں شرکا کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بھرپور دلچسپی اور شرکت ان کے اور ان کے متعلقہ ممالک کے معیار اور عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
نیوکلیئر انسٹی ٹیوٹ فار ایگریکلچر اینڈ بائیولوجی (نیاب) 1972 میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے تحت قائم کیا گیا تھا اور اسے زراعت اور حیاتیات کے شعبے میں نیوکلیئر اور جدید تکنیکوں کے استعمال کا پانچ دہائیوں سے زائد کا تجربہ حاصل ہے۔نیاب کی زرعی تحقیق اور خدمات کے اعتراف میں اسے 2015 اور 2021 میں آئی اے ای اے/ایف اے او کے آؤٹ اسٹینڈنگ اچیومنٹ ایوارڈز بھی مل چکے ہیں۔
اس کے علاوہ نیاب کی تیار کردہ بائیو سیلائن ایگریکلچر ٹیکنالوجی، یعنی نمکیات سے متاثرہ زمینوں میں کاشت کاری کی ٹیکنالوجی، آئی اے ای اے کے تعاون سے 12 سے زائد ممالک تک پہنچ چکی ہے۔موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بے ترتیب بارشوں، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، زمین میں نمکیات، کیڑوں اور بیماریوں کے پھیلاؤ سے زراعت کو درپیش بڑھتے ہوئے چیلنجز کے تناظر میں یہ تربیتی کورس خاص اہمیت کا حامل تھا۔کورس میں نیوکلیئر اور مالیکیولر ٹیکنالوجیز کے استعمال پر توجہ دی گئی، جن میں میوٹیشن بریڈنگ اور مالیکیولر تکنیکوں کے ذریعے پودوں میں جینیاتی تبدیلی پیدا کرنا شامل ہے۔
ان تکنیکوں کا مقصد فصلوں کو کیڑوں، بیماریوں، خشک سالی، نمکیات اور شدید درجہ حرارت جیسے عوامل کے خلاف زیادہ مضبوط بنانا ہے۔دو ہفتوں کے دوران شرکا کو نیوکلیئر اور مالیکیولر تکنیکوں کے ساتھ ساتھ ان تکنیکوں کو روایتی فصلوں کی افزائش کے طریقوں کے ساتھ استعمال کرنے کی تربیت دی گئی،تربیتی پروگرام میں میوٹیشن بریڈنگ، مالیکیولر اسکریننگ، جین ٹائپنگ اور فینوٹائپنگ، مارکر اسسٹڈ سلیکشن، جینوم ایڈیٹنگ، فنکشنل جینومکس، ایسوسی ایشن میپنگ اور ڈی این اے سیکوینسنگ سمیت مختلف جدید تکنیکیں شامل تھیں۔ اس کے علاوہ درست اور بہتر فصلوں کی افزائش کے لیے بگ ڈیٹا کے تجزیے اور مصنوعی ذہانت کے استعمال پر بھی تربیت دی گئی۔
پروگرام میں تکنیکی لیکچرز کے ساتھ عملی لیبارٹری تربیت اور نیاب اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ (NIBGE) کے ادارہ جاتی دورے بھی شامل تھے۔شرکا نے ڈی این اے کی تیاری اور تجزیے، جینوٹائپنگ بائی سیکوینسنگ، میوٹیشن بریڈنگ، مالیکیولر اسکریننگ، میٹابولائٹ اینالیسس اور ایسوسی ایشن میپنگ سمیت مختلف تکنیکوں کی عملی مشق بھی کی۔تربیتی کورس میں چین کی چائنیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز (CAAS) کے انسٹی ٹیوٹ آف کراپ سائنسز سے پروفیسر ڈاکٹر یون بی ژو اور ڈاکٹر ہوجن گو نے بھی اپنی مہارت اور تجربات سے شرکا کو مستفید کیا، جبکہ پاکستانی سائنسدانوں اور ماہرین نے بھی تربیت فراہم کی۔
یہ تربیتی کورس انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ٹیکنیکل کوآپریشن پروجیکٹ RAS5102 کے تحت منعقد کیا گیا، جس کا مقصد جدید نیوکلیئر اور متعلقہ تکنیکوں کے ذریعے مضبوط اور پائیدار زرعی و غذائی نظام کو فروغ دینا ہے۔کورس ڈائریکٹر اور نیاب کے پرنسپل سائنٹسٹ ڈاکٹر میاں عبدالرحمان عارف نے کہا کہ اس تربیتی پروگرام میں مختلف جدید تکنیکوں اور طریقہ کار کو ایک ہی پروگرام کا حصہ بنایا گیا، جس سے شرکا کو یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ فصلوں کی افزائش میں ان تکنیکوں کو کس طرح یکجا کرکے مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ڈائریکٹر نیاب ڈاکٹر عظمیٰ مقبول نے اختتامی تقریب میں اظہارِ تشکر کیا۔ انہوں نے تربیتی کورس کی کامیابی کے لیے آئی اے ای اے، بین الاقوامی ماہرین، پاکستانی ماہرین، شرکا اور منتظمین کی معاونت کو سراہا۔اختتامی تقریب کے دوران ڈاکٹر شکیل عباس روفی نے تربیتی کورس مکمل کرنے والے شرکا میں سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کئے۔
علاقائی تربیتی کورس کا کامیاب انعقاد پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے درمیان پرامن مقاصد کے لیے نیوکلیئر سائنس اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے شعبے میں دیرینہ تعاون کی ایک اور مثال ہے۔پاکستان اٹامک انرجی کمیشن، نیاب جیسے اداروں کے ذریعے سائنسی مہارت کو دیگر ممالک تک پہنچانے، بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے اور نیوکلیئر و متعلقہ ٹیکنالوجیز کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، پائیدار زراعت اور پاکستان سمیت خطے میں غذائی تحفظ کے لیے استعمال کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔








