آئی بی سی سی فورم کا دو روزہ 184واں اجلاس اختتام پذیر ،امتحانی نظام میں اہم اصلاحات کی منظوری

انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن (آئی بی سی سی) فورم کا دو روزہ 184واں اجلاس مری میں اختتام پذیر ہوگیا، جس میں ملک کے امتحانی نظام کو رٹہ سسٹم سے تصوراتی اور فہم پر مبنی اسیسمنٹ کی جانب منتقل کرنے، شفافیت و یکسانیت کے فروغ اور پاکستانی تعلیمی اسناد کی بین الاقوامی شناخت مزید بہتر بنانے کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں ملک بھر کے ثانوی و اعلیٰ ثانوی …

اسلام آباد۔5ستمبر (اے پی پی):انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن (آئی بی سی سی) فورم کا دو روزہ 184واں اجلاس مری میں اختتام پذیر ہوگیا، جس میں ملک کے امتحانی نظام کو رٹہ سسٹم سے تصوراتی اور فہم پر مبنی اسیسمنٹ کی جانب منتقل کرنے، شفافیت و یکسانیت کے فروغ اور پاکستانی تعلیمی اسناد کی بین الاقوامی شناخت مزید بہتر بنانے کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں ملک بھر کے ثانوی و اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈز، ٹیکنیکل ایجوکیشن بورڈز، نصاب اور ٹیکسٹ بک بورڈز کے سینئر نمائندگان نے شرکت کی۔

نیشنل کوآرڈینیٹر آئی بی سی سی فورم عنایت اللہ وسیم نے امتحانی اصلاحات میں تمام بورڈز کی فعال شرکت اور مشترکہ ذمہ داری کی اہمیت پر زور دیا۔فورم نے وزیراعظم کی ملک بھر کے امتحانی نظام کو معیاری اور یکساں بنانے سے متعلق ہدایات پر عملدرآمد کے لیے اسیسمنٹ اور امتحانی طریقہ کار میں یکسانیت لانے کے اقدامات کی منظوری دی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ سندھ کے تعلیمی بورڈز، فیڈرل بورڈ، میرپور آزاد کشمیر بورڈ، قراقرم بورڈ، آغا خان بورڈ اور ضیاء الدین بورڈ نے نئی گریڈنگ پالیسی پر عملدرآمد شروع کردیا ہے، جس کے تحت کم از کم پاسنگ مارکس **40 فیصد** مقرر کیے گئے ہیں۔ نظرثانی شدہ گریڈنگ فارمولے سے متعلق آگاہی کے لیے ملک بھر میں سیشنز اور ورکشاپس منعقد کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔طلبہ کے تعلیمی ریکارڈ کو شفاف اور قابلِ تصدیق بنانے کے لیےایس ایس سی اور ایچ ایس ایس سی سرٹیفکیٹس پر ب فارم/سی این آئی سی نمبر درج کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

فورم نے بورڈز کے پوزیشن ہولڈرز کے لیے اسکالرشپس اور بیرون ملک تعلیمی و مطالعاتی مواقع فراہم کرنے جبکہ نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کے لیے ونٹر اور سمر کیمپس منعقد کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔اجلاس میں مزید 12 دینی مدارس کی اسناد کو ایس ایس سی اور ایچ ایس ایس سی کے مساوی قرار دینے کی سفارش کی گئی، جس کے بعد اس فریم ورک کے تحت مساوی قرار دیے جانے والے مدارس کی مجموعی تعداد 26 ہوجائے گی۔غیر ملکی امتحانی بورڈز کے طلبہ کے لیے بھی اہم فیصلہ کیا گیا، جس کے تحت کم از کم دو سائنس مضامین پاس کرنے والے طلبہ کو سائنس گروپ کی مساوات (ایکوی ویلنس) دی جائے گی۔فورم نے ملک بھر میں تھیوری اور پریکٹیکل امتحانات کے لیے یکساں کیلنڈر تیار کرنے اور پریکٹیکل امتحانات کے لیے مشترکہ گائیڈ لائنز و طریقہ کار وضع کرنے پر بھی اتفاق کیا۔اجلاس میں بی آئی ایس ای کوہاٹ، بی آئی ایس ای کوئٹہ اور ایف بی آئی ایس ای نے اپنے بہترین طریقہ ہائے کار، جدید اقدامات اور ان کے نتائج پیش کیے۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر آئی بی سی سی ڈاکٹر غلام علی ملاح نے حکومت پنجاب کی جانب سے امتحانی بورڈز میں میرٹ کی بنیاد پر چیئرپرسنز کی تقرری اور حکومت سندھ و تعلیمی بورڈز کی جانب سے ای مارکنگ کے نفاذ کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ آئی بی سی سی فورم کے ذریعے کی جانے والی اصلاحات کا مقصد ایسا امتحانی نظام تشکیل دینا ہے جو محض یادداشت کے بجائے طلبہ کی فہم اور تصوراتی صلاحیتوں کو جانچے، جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرے اور پاکستانی تعلیمی اسناد کی ملکی و بین الاقوامی ساکھ مزید مستحکم بنائے۔

فورم نے ملک بھر کے امتحانی، ٹیکنیکل، نصابی اور ٹیکسٹ بک بورڈز کے درمیان تعاون مزید مضبوط بنانے اور شفاف، ٹیکنالوجی پر مبنی، طلبہ دوست اور بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ امتحانی نظام کے قیام کے عزم کا اعادہ کیا۔ اجلاس کی کارروائی سیکریٹری آئی بی سی سی فورم و ڈائریکٹر جنرل آئی بی سی سی محمد عثمان خان نے چلائی۔