یوم دفاع سمپوزیم میں مسلح افواج کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا

اسلام آباد میں یومِ دفاع سمپوزیم کا انعقاد، مسلح افواج کی قربانیوں، بہادری اور فتوحات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا

اسلام آباد۔5ستمبر (اے پی پی):ہیل پاکستان نے کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز (کے آئی آئی آر ) کے تعاون سے پاکستان کی مسلح افواج کی قربانیوں، بہادری اور فتوحات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ہفتہ کو اسلام آباد میں یوم دفاع سمپوزیم کا انعقاد کیا، جس میں نوجوان اسکالرز، دانشوروں، قانونی ماہرین اور سماجی کارکنوں نے شہدا کو خراج تحسین پیش کیا قومی سلامتی پر تبادلہ خیال بھی کیا ۔

قربانی، بہادری اور فتح: ہماری مسلح افواج، ہمارا فخر، کے موضوع کے تحت منعقدہ تقریری اور پریزنٹیشن ایونٹ نے پاکستان کی سلامتی کے تقاضوں اور پیچیدہ علاقائی ماحول سے درپیش چیلنجز کے حوالہ سے شہید ہونے والے ہیروز اور ان کے خاندانوں کو خراج تحسین پیش کیا۔کارروائی کی صدارت کے آئی آئی آر کے چیئرمین الطاف حسین وانی نے کی اور پاکستان کے عوام اور ان کے محافظوں کے درمیان پائیدار بندھن کو اجاگر کیا۔ انہوں نے خاص طور پر ملک کے وسیع تر قومی سلامتی کے مباحثے میں کشمیر کی اہمیت اور اس کی غیر حل شدہ حیثیت کو اجاگر کیا۔سمپوزیم میں مختلف یونیورسٹیوں کے نوجوان اسکالرز کی کثیر تعداد بھی شریک تھی ، مقررین نے حب الوطنی، قربانی اور لچک کی میراث نوجوان نسل تک پہنچانے کی اہمیت پر زور دیا۔انٹرنیشنل سینٹر فار کنفلیکٹ اینڈ پیس (آئی سی سی پی) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر زاہد حارث نےخاص طور پر ایک جوہری مسلح ریاست کے طور پر پاکستان کی پوزیشن کے پیش نظر پیچیدہ علاقائی سلامتی کی حرکیات کو نیویگیٹ کرنے کے لیے ایک مضبوط فوج کی تزویراتی اہمیت کا جائزہ پیش کیا۔ بحث میں آئینی اور شہری نقطہ نظر کو سامنے لاتے ہوئے ایڈووکیٹ ملک آصف اعوان نے ملک کی سرحدوں کی حفاظت اور شہریوں کی حفاظت ریاست کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری پر زور دیا۔سماجی کارکن اللہ نواز اور حبیب الرحمان نے مسلح افواج کے کردار کی انسانی جہت پر روشنی ڈالی، قومی آفات کے دوران ان کے کردار اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران ان کی قربانیوں اور عزم کو اجاگر کیا۔سمپوزیم میں پاکستان کی مسلح افواج کی تاریخ اور ارتقاء کے بارے میں ایک جامع پریزنٹیشن پیش کی گئی۔ جس میں 1965 کی جنگ اور مسلح افواج کی حالیہ انسداد دہشت گردی مہموں کے ساتھ ساتھ میجر راجہ عزیز بھٹی کی غیر معمولی بہادری کو بھی اجاگر کیا گیا جنہیں نشان حیدر سے نوازا گیا تھا۔پریزنٹیشن میں آپریشن ضرب عضب پر بھی روشنی ڈالی گئی اور ملک کی عسکری تیاریوں اور سٹریٹجک چیلنجز "آپریشن بنیان المرصوص” سے وابستہ سٹریٹجک دور اندیشی پر بھی روشنی ڈالی گئی۔مقررین نے کہا کہ مسلح افواج قوم کی ڈھال بنی ہوئی ہیں ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس ڈھال کی مضبوطی کا انحصار بالآخر قومی اتحاد، معاشی استحکام اور اندرونی اختلاف کے خاتمے پر ہے۔انہوں نے نوجوان اسکالرز پر زور دیا کہ وہ روایتی میدان جنگ سے ہٹ کر حب الوطنی کو دیکھیں، ان سے غربت، ناخواندگی اور مہنگائی کے خلاف "امن کی لڑائیاں” لڑنے کا مطالبہ کیا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ ہم سب کو بھی اسی عزم کے ساتھ ملک کی سرحدوں کا دفاع کر نا چاہئے جس کا سپاہیوں نے مظاہرہ کیا۔سمپوزیم کا اختتام پاکستان کے شہداء اور ان کے خاندانوں کو سلامی کے ساتھ ہوا۔شرکاء نے قومی ہم آہنگی، لچک اور اجتماعی ذمہ داری کی اہمیت کا اعادہ کرتے ہوئے ان ہیروز کو خراج تحسین پیش کیا جن کی قربانیوں سے قوم کو مسلسل تحریک ملتی ہے۔اس تقریب نے اس پیغام کی تصدیق کی جو قومی دفاعی اقدار میں شامل ہے: ’’ایمان، تقویٰ، جہاد فی سبیل اللہ‘‘۔

مزید خبریں