6 ستمبر 1965ء کو مسلح افواج نے دشمن کے عزائم ناکام بنائے، شہداء اور غازیوں کی قربانیاں ہماری قومی تاریخ کا لازوال سرمایہ ہیں، وزیراعظم شہباز شریف
6 ستمبر 1965ء ہماری قومی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے،مسلح افواج اور قوم نے مل کر ہماری قومی تاریخ میں قابلِ رشک اور لازوال میراث رقم کی ۔ وزیراعظم شہباز شریف کا یومِ دفاع و شہداء پر پیغام

مزید خبریں
اسلام آباد۔5ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مسلح افواج کے شہداء،غازیوں اور ان کے اہل خانہ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 6 ستمبر 1965ء کو دشمن کی بلااشتعال جارحیت اور عددی برتری کے باوجود پاکستان کی مسلح افواج نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور آپریشنل تیاری سے اُسے ہر محاذ پر ذلت آمیز اور فیصلہ کن شکست سے دوچار کیا،مسلح افواج اور قوم نے مل کر ہماری قومی تاریخ میں قابلِ رشک اور لازوال میراث رقم کی ،آپریشن بنیان مرصوص کی شاندار کامیابی نے ہماری عسکری تاریخ میں ایک اور سنہری باب رقم کیا،پاکستان کو آج درپیش چیلنجز ہم سے مزید قومی اتحاد اور یکجہتی کا تقاضا کرتے ہیں،پاکستان علاقائی اور عالمی سطح پر امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنا فعال اور تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
ہفتہ کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے یومِ دفاع و شہداء 6 ستمبر 2026 پر جاری پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ 6 ستمبر ہماری قومی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے، جو ہمیں وطن عزیز کے دفاع کے لیے مسلح افواج اور قوم کے بے مثال عزم، اتحاد اور عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔ یہ دن ہمیں ان شہداء اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے جنہوں نے پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور آزادی کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔ 6 ستمبر 1965ء کو دشمن کی بلااشتعال جارحیت اور عددی برتری کے باوجود پاکستان کی مسلح افواج نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور آپریشنل تیاری سے اُسے ہر محاذ پر ذلت آمیز اور فیصلہ کن شکست سے دوچار کیا۔انہوں نے کہا کہ یومِ دفاع کے موقع پر میں پوری قوم کی جانب سے اپنی مسلح افواج کے شہداء، غازیوں اور ان کے اہلِ خانہ کو دلی خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔ تاریخ گواہ ہے کہ 1965ء کی جنگ میں ہماری مسلح افواج نے غیرمعمولی پیشہ ورانہ مہارت اور شجاعت کا مظاہرہ کیا ،جبکہ پاکستانی قوم نے مثالی اتحاد، عزم اور ثابت قدمی کا ثبوت دیا۔ مسلح افواج اور قوم نے مل کر ہماری قومی تاریخ میں قابلِ رشک اور لازوال میراث رقم کی ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بہادری کی تابناک روایت کو برقرار رکھتے ہوئے معرکۂ حق میں پاک افواج نے چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ائر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی کمال پیشہ ورانہ حکمت عملی سے اپنے ازلی دشمن کو ایسا جواب دیا جسے اُس کی نسلیں یاد رکھیں گی۔ پوری قوم اپنی بہادر پاک فوج، پاک فضائیہ اور پاکستان نیوی پر فخر کرتی ہے۔ آپریشن بنیان مرصوص کی شاندار کامیابی نے ہماری عسکری تاریخ میں ایک اور سنہری باب رقم کیا ۔ہماری مسلح افواج نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ 6 ستمبر کا جذبہ اور ولولہ آج بھی پوری قوت کے ساتھ زندہ اور مضبوط ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آج درپیش چیلنجز ہم سے مزید قومی اتحاد اور یکجہتی کا تقاضا کرتے ہیں۔ ہمارا روایتی دشمن، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے سرگرم ہے، تاہم ان دشمن قوتوں کو مسلسل اور فیصلہ کن شکستوں کا سامنا ہے۔ ہائبرڈ وارفیئر کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے والی دشمن قوتوں کی مذموم سازشوں کو بھی پوری قوت اور عزم کے ساتھ ناکام بنایا جا ئے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمارا سب سے بڑا چیلنج جہالت، غربت اور پسماندگی کا خاتمہ اور پاکستان کو قائداعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کے وژن کے مطابق ڈھالنا ہے۔ ہماری حقیقی طاقت محض ہماری دفاعی صلاحیتوں میں نہیں بلکہ ایک متحد، پُرامن، مستحکم اور معاشی طور پر مضبوط قوم میں بھی مضمر ہے۔ حکومت، ملکی سلامتی، خودمختاری اور دفاع کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم اقدامات جاری رکھے گی ۔معاشی ترقی، سیاسی استحکام اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے بھرپور کوششیں بھی ترجیح رہیں گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی اور عالمی سطح پر امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنا فعال اور تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، ایک ذمہ دار ریاست کی حیثیت سے پاکستان خطے میں امن و سلامتی کے علمبردار کے طور پر ابھرا ہے اور اجتماعی امن اور علاقائی استحکام کے لیے مُوثر کردار ادا کر رہا ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ علاقائی سلامتی میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کا مظہر ہے اور اجتماعی دفاع، باہمی سلامتی اور برادر ممالک کے ساتھ پائیدار شراکت داری کے لیے ہمارے عزم کا عکاس ہے۔ پاکستان امن و سلامتی کے ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا رہے گا، اور علاقائی چیلنجز کے حل کے لیے تعاون اور مکالمے کو ہی اولیت دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی اُمنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں حقیقی اور دیرپا امن ممکن نہیں، قائداعظم ؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ مسئلہ کشمیر پر بھارت کا قابلِ مذمت طرزِ عمل اور مسلسل ہٹ دھرمی خطے میں پائیدار امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ آئیں آج کے تاریخی دن ہم اس عزم کی تجدید کریں کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کے اصولوں ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط کو اپنی قومی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں گے۔ آئیں، ہم سب مل کر پاکستان کو ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بنانے کے لیے کام کریں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئیے کہ مضبوط دفاع پائیدار امن اور ترقی کی بنیاد ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج ہماری قومی سلامتی کی ضامن ہیں ، پوری قوم اپنے بہادر محافظوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ امن، استحکام اور خوشحالی سے نوازے اور ہمارے شہداء کے درجات بلند فرمائے۔







