6 ستمبر ہماری قومی تاریخ میں ایک یادگار مقام رکھتا ہے، یہ دن آزادی، خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے دی گئی عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے، صدر مملکت آصف علی زرداری
6ستمبر1965 کومسلح افواج اور پاکستانی قوم کا جذبۂ ایمانی و اتحادکا مظاہرہ ،ہماری اجتماعی قوت کا مظہر ہے،صدرآصف علی زرداری کا یوم دفاع وشہدا پر پیغام

مزید خبریں
اسلام آباد۔5ستمبر (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے یوم دفاع و شہداء کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ 6 ستمبر ہماری قومی تاریخ میں ایک یادگار مقام رکھتا ہے ،یہ دن ہمیں ان عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جو ہماری آزادی، خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے دی گئیں۔
یومِ دفاع و شہدائے پاکستان ہمیں یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم قوم کے ان عظیم سپوتوں کی لازوال قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کریں، جنہوں نے 1965ء میں اپنے پیارے وطن کے دفاع میں بے مثال عزم، بہادری جرات اور فرض شناسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے مذموم عزائم کو ہر محاذ پر ناکام بنا یا،میں پوری قوم کی جانب سے پاکستان کی مسلح افواج کے شہداء، غازیوں اور ان کے اہلِ خانہ کو سلام پیش کرتا ہوں، ہمارے شہداء نے اپنے خون اور قربانیوں سے قومی تاریخ میں شجاعت اور حب الوطنی کی ایسی لازوال داستانیں رقم کیں جو ہمیشہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ 6 ستمبر 1965ء کو ہماری مسلح افواج اور پاکستانی قوم نے جس اتحاد اور جذبۂ ایمانی کا مظاہرہ کیا، وہ ہماری اجتماعی قوت کا مظہر ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب کوئی قوم اپنی آزادی، خودمختاری اور وطن کے دفاع کے لیے متحد ہو جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کے عزم کو شکست نہیں دے سکتی۔انہوں نے کہا کہ6 ستمبر کا یہی جذبہ ایک بار پھر آپریشن بنیان مرصوص کی شاندار کامیابی میں نمایاں ہوا ہے ،معرکۂ حق میں حاصل ہونے والی فتح 6 ستمبر کے جذبۂ حب الوطنی اور جذبۂ آزادی کا تسلسل ہے۔ معرکۂ حق نے ہماری قومی تاریخ میں ایک اور سنہرا باب رقم کیا ہے۔ یہ غیر معمولی کامیابی ہماری مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، عزم، حوصلے اور بہادری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ کامیابی مسلح افواج اور عوام کے درمیان دیرینہ، مضبوط اور مثالی باہمی رشتے کی بھی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ذمہ دار ریاست کی حیثیت سے پاکستان خطے اور دنیا بھرمیں امن، مکالمے اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔ صدرمملکت نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و سلامتی کے استحکام کا ایک موثر اور ذمہ دار ستون بن کے ابھرا ہے اور اپنی سرحدوں سے آگے بھی امن، استحکام اور اجتماعی سلامتی کے لیے مؤثر کردار ادا کر رہا ہے، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کے اجتماعی سلامتی ، علاقائی امن و استحکام اور قابلِ اعتماد شراکت دار کی حیثیت سے بڑھتے ہوئے کردار کا مظہر ہے۔ صدرِ مملکت نے کہا کہ پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس حوالے سے عالمی برادری کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت کو پاکستان میں اپنے پراکسی عناصر کے ذریعے دہشت گردی کو فروغ دینے سے باز آنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹس اس امر کی گواہی دیتی ہیں کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کو بیرونی سرپرستی حاصل رہی ہے اور بھارت و طالبان رجیم کے درمیان گٹھ جوڑ اب کوئی راز نہیں رہا ہے ،دشمن کی جانب سے مسلط کی جانے والی ہر روایتی اور غیر روایتی جنگ میں ہماری مسلح افواج نے اپنی مستعدی، ہمہ وقت تیاری اور وطن کے دفاع کے لیے غیرمتزلزل عزم کا عملی ثبوت دیا ہے۔ پوری قوم آج بھی اپنی بہادر مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مضبوط دفاع کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام، سیاسی رواداری، قومی یکجہتی، تعلیم اور ترقی بھی پاکستان کی طاقت کی بنیادی اساس ہیں، ہم سب کو مل کر اپنی نوجوان نسل اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن، محفوظ اور ترقی یافتہ پاکستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا آج جب ہم اپنے شہداء کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں، ہم پاکستان کی آزادی، خودمختاری اور سلامتی کا ہر قیمت پر دفاع کرنے کے عزم کی تجدید کرتے ہیں، ہم اس عہد کا بھی اعادہ کرتے ہیں کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کے وژن کے مطابق پاکستان کو ایک مضبوط، جمہوری، خوشحال اور ترقی یافتہ ریاست بنانے کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمارے شہداء کے درجات بلند فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبر و استقامت عطا فرمائے اور پاکستان کو ہمیشہ امن، استحکام اور خوشحالی سے نوازے۔







