6 ستمبر پاکستان قوم کے عزم، اتحاد اور ملکی دفاع کے لیے دی جانے والی قربانیوں کی علامت ہے ، قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے یومِ دفاع و شہداء کے موقع پرپیغام

6 ستمبر قوم کے عزم، اتحاد اور ملکی دفاع کے لیے دی جانے والی قربانیوں کی علامت ہے، قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی

اسلام آباد۔5ستمبر (اے پی پی):قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے یومِ دفاع و شہداء کے موقع پر پاکستان کی مسلح افواج کے افسران و جوانوں، شہداء اور غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 6 ستمبر پاکستان کی تاریخ کے اہم ترین ابواب میں سے ایک کی یاد دلاتا ہے، جو قوم کے عزم، اتحاد اور ملکی دفاع کے لیے دی جانے والی قربانیوں کی علامت ہے۔

ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق قائم مقام صدر نے کہا کہ 1965 کی جنگ کے دوران مسلح افواج نے دشمن کے عزائم کے مقابلے میں بہادری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور حکمتِ عملی کی مہارت کا مظاہرہ کیا، جبکہ پوری قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑی رہی۔ یہ اس امر کی مثال تھی کہ جب ملک ایک قوم بن کر متحد ہو تو وہ کیا کچھ حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں پاکستان کی آزادی، خودمختاری اور سلامتی کی بنیاد ہیں۔ قوم ان عظیم سپوتوں اور ان کے خاندانوں کو سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے ملک کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آج ایک خودمختار ریاست کی حیثیت سے ان ہی قربانیوں کی بدولت قائم ہے۔انہوں نے کہا کہ فوجی فاؤنڈیشن جیسے ادارے شہداء کی بیواؤں اور بچوں کی مسلسل معاونت کر رہے ہیں، جن میں تعلیمی اخراجات، طبی سہولیات اور پنشن کی فراہمی شامل ہے جواس بات کی یاد دہانی ہے کہ ملک کے دفاع کی قیمت میدانِ جنگ سے کہیں آگے تک جاتی ہے۔معرکۂ حق کا حوالہ دیتے ہوئے قائم مقام صدر نے مسلح افواج کی جانب سے دکھائی جانے والی بہادری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور قومی سلامتی کے تحفظ کے ساتھ ساتھ علاقائی امن اور مذاکرات کے فروغ میں موجودہ عسکری قیادت کے کردار کو بھی تسلیم کیا۔انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرأت، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز اور دیگر اعلیٰ عسکری قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے مخلصانہ کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدے جیسے اقدامات پاکستان کی اس ترجیح کی عکاسی کرتے ہیں کہ طاقت کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کے عوام اور مسلح افواج کا باہمی اتحاد ہے، اور شہداء کے مشن کو اتحاد، جمہوریت اور ترقی کے لیے اجتماعی کاوشوں کے ذریعے آگے بڑھانا ہوگا۔قائم مقام صدر نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو امن و سلامتی عطا فرمائے، مسلح افواج کے اہلکاروں کی حفاظت فرمائے اور شہداء کے درجات بلند فرمائے ۔

مزید خبریں