جنگلی حیات کا تحفظ، قدرتی وسائل کا پائیدار استعمال اور مقامی آبادی کی ترقی ایک دوسرے کو تقویت دے سکتے ہیں، سید یوسف رضا گیلانی

قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے جنگلی حیات کے تحفظ، مقامی آبادیوں اور مشترکہ مستقبل کے لیے باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگلی حیات کا تحفظ، قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال اور مقامی آبادی کی ترقی ایک دوسرے کو تقویت دے سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں سفاری کلب انٹرنیشنل کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے …

اسلام آباد۔6ستمبر (اے پی پی):قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے جنگلی حیات کے تحفظ، مقامی آبادیوں اور مشترکہ مستقبل کے لیے باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگلی حیات کا تحفظ، قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال اور مقامی آبادی کی ترقی ایک دوسرے کو تقویت دے سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں سفاری کلب انٹرنیشنل کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

تقریب میں سفاری کلب انٹرنیشنل کی پاکستان شاخ کے چیئرمین سید صمصام علی بخاری، سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ، سابق وفاقی وزیر ماحولیات ملک امین اسلم، صدر مملکت کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی اور غیر ملکی مندوبین نے شرکت کی۔ قائم مقام صدر نے کہا کہ بین الاقوامی کنزرویشن گالا 2026 میں شرکت میرے لیے باعثِ مسرت ہے۔ انہوں نے سفاری کلب انٹرنیشنل پاکستان شاخ کی کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نے جنگلی حیات کے تحفظ، آگاہی، شکاریوں کے حقوق اور ذمہ دارانہ شکار کے لیے پُرعزم قومی و بین الاقوامی شخصیات کو ایک جگہ جمع کیا، اس طرح کے پلیٹ فارمز ہمیں بین الاقوامی تجربات سے استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے مختلف ماحولیاتی خطوں میں حاصل کیے گئے اپنے علم اور تجربات کو دنیا کے ساتھ بانٹنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان قدرتی تنوع اور دنیا کی بعض منفرد اور قابلِ ذکر جنگلی حیات سے مالا مال ہے جن میں مارخور، آئی بیکس، اڑیال اور بلیو شیپ شامل ہیں، اس قدرتی ورثے کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ جنگلی حیات کے تحفظ کی کوششیں اس وقت کامیاب ہوتی ہیں جب پارلیمان، حکومت، مقامی آبادی، شکاری، شکار کے منتظمین اور جنگلی حیات کے تحفظ کی تنظیمیں مل کر کام کریں۔ قائم مقام صدر نے کہا کہ قانون کے مطابق اور پائیدار طریقے سے کیا جانے والا اخلاقی اور ذمہ دارانہ شکار جنگلی حیات کے تحفظ میں معاون ثابت ہوسکتا ہے اور ساتھ ہی جنگلی حیات کے ساتھ رہنے والی مقامی آبادیوں کے لیے بھی اہم فوائد پیدا کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زمینی سطح پر حقیقی تبدیلی لانے کے لیے ضروری ہے کہ ہمارے قانون سازی اور پالیسی کے فریم ورک میں مقامی آبادی، جنگلی حیات کے ماہرین، شکاریوں، شکار کے منتظمین اور دیگر جائز متعلقہ فریقوں کی آرا اور تجربات کو مدنظر رکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ذمہ دارانہ شکار کو حیاتیاتی تنوع اور جنگلی حیات کے تحفظ کے تقاضوں سے ہم آہنگ رکھنے کے لیے ہم سب کو قریبی رابطے اور باہمی مفاہمت کے ساتھ کام کرنا ہوگا، اسی طرح ان ذمہ دار شکاریوں کے جائز کردار کو بھی تسلیم کرنا ضروری ہے جو قانون کا احترام، اخلاقی شکار کے اصولوں کی پابندی اور تحفظِ جنگلی حیات اور مقامی آبادیوں کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ قائم مقام صدر نے کہا کہ ان کے حقوق کے ساتھ جنگلی حیات اور آنے والی نسلوں کے حوالے سے ان کی ذمہ داریاں بھی لازم و ملزوم ہونی چاہئیں، ہمیں لائسنس یافتہ شکار کے منتظمین کو بھی اہم متعلقہ فریق تسلیم کرنا چاہیے، وہ شکاریوں، جنگلی حیات کے حکام اور مقامی آبادیوں کے درمیان ایک اہم رابطے کا کردار ادا کرتے ہیں جبکہ ان کا عملی تجربہ پائیدار شکار اور جنگلی حیات کے مؤثر انتظام میں مثبت کردار ادا کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سفاری کلب انٹرنیشنل جیسی تنظیموں کا جنگلی حیات کے تحفظ، جنگلی حیات کے انتظام، تعلیم اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ہے جبکہ یہ دنیا بھر میں ذمہ دار شکاریوں کی نمائندگی بھی کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس بات کی ایک بین الاقوامی مثال ہے کہ جنگلی حیات کا تحفظ، قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال اور مقامی آبادی کی ترقی ایک دوسرے کو تقویت دے سکتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ اسے مزید مؤثر بنانے کے لیے ہماری پالیسیاں شفاف، مستقل اور عملی ہونی چاہئیں۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی اداروں کو مل کر کام کرنا چاہیے اور ان پالیسیوں کی تشکیل کے وقت مقامی آبادی، جنگلی حیات کے ماہرین، شکاریوں، شکار کے منتظمین اور دیگر جائز متعلقہ فریقوں کی آواز بھی سنی جانی چاہیے، صرف قوانین اور ضوابط کے ذریعے جنگلی حیات کا تحفظ کامیاب نہیں ہوسکتا۔

قائم مقام صدر نے کہا کہ تحفظ اس وقت کامیاب ہوتا ہے جب لوگوں کے پاس جنگلی حیات کے تحفظ کی ایک واضح وجہ اور ترغیب موجود ہو، ہمیں جنگلی حیات کے انتظام، قدرتی مسکن کے تحفظ، تحفظِ جنگلی حیات کے لیے مالی وسائل اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں ایک دوسرے سے سیکھنے کے وسیع مواقع حاصل ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ جنگلی حیات کی صحت مند آبادی، مضبوط مقامی برادریاں، ذمہ دارانہ اور اخلاقی شکار، مؤثر قوانین اور آنے والی نسلوں کے لیے پاکستان کے قدرتی ورثے کا تحفظ ہمارا مقصد واضح رہنا چاہیے۔ انہوں نے اس موقع پر پاکستان آنے والے بین الاقوامی مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ اس اجتماع کے دوران ہماری گفتگو اور باہمی روابط آنے والے برسوں میں مزید مضبوط تعاون اور عملی پیش رفت میں معاون ثابت ہوں گے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سفاری کلب انٹرنیشنل پاکستان شاخ کے چیئرمین سید صمصام علی بخاری نے کہا کہ سفاری کلب انٹرنیشنل پاکستان شاخ جنگلی حیات کے تحفظ، قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال اور ذمہ دارانہ شکار کے فروغ کے لیے فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی آئی کی پاکستان شاخ قومی اور بین الاقوامی سطح پر جنگلی حیات کے ماہرین، متعلقہ سرکاری اداروں اور ماحولیاتی تحفظ سے وابستہ تنظیموں کے ساتھ تعاون اور رابطوں کو بھی فروغ دے رہی ہے تاکہ پاکستان کے متنوع ماحولیاتی نظام میں جنگلی حیات کے تحفظ اور قدرتی وسائل کے پائیدار انتظام کے لیے مؤثر اقدامات کو تقویت دی جاسکے۔

مزید خبریں