ٹائسن فیوری نے نیا حریف تلاش کرنے کا عندیہ دے دیا، اولیکسینڈر اوسک سے پھر مقابلے کا چیلنج

ٹائسن فیوری نے نیا حریف تلاش کرنے کا عندیہ دے دیا، اولیکسینڈر اوسک سے پھر مقابلے کا چیلنج

لندن ۔7ستمبر (اے پی پی):انگلینڈ کے ہیوی ویٹ باکسر ٹائسن فیوری نے رواں سال نومبر کے لیے نیا حریف تلاش کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے یوکرین کے اولیکسینڈر اوسک کو دوبارہ مقابلے کا چیلنج دے دیا، حالانکہ وہ آئندہ مقابلے کے لیے ہم وطن انتھونی جوشوا کے ساتھ معاہدہ کرچکے ہیں۔ بی بی سی کے مطابق ٹائسن فیوری اور انتھونی جوشوا کے درمیان نومبر میں متوقع آل برٹش ہیوی ویٹ مقابلے کا مقام تاحال طے نہیں ہوسکا۔ جوشوا کی خواہش ہے کہ مقابلہ لندن کے ویمبلے سٹیڈیم میں ہو، جبکہ منتظمین اسے امریکا میں منعقد کرانے کے خواہاں ہیں۔ ٹائسن فیوری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری ویڈیو میں دعویٰ کیا کہ انتھونی جوشوا مقابلے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ انہوں نے اولیکسینڈر اوسک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر انتھونی جوشوا سے مقابلہ نہیں ہوتا تو وہ نومبر میں اولیکسینڈر اوسک کے خلاف دوبارہ رنگ میں اترنا چاہتے ہیں۔ ٹائسن فیوری نے کہا کہ اب فیصلہ اولیکسینڈر اوسک کے ہاتھ میں ہے کہ وہ 2026 میں دوبارہ ان کا سامنا کرنا چاہتے ہیں یا نہیں، کیونکہ وہ نئے حریف کی تلاش شروع کرچکے ہیں۔ ٹائسن فیوری کو اولیکسینڈر اوسک کے ہاتھوں پہلے ہی 2 مرتبہ شکست ہوچکی ہے۔ اولیکسینڈر اوسک اس وقت انتھونی جوشوا کی تربیتی ٹیم کا حصہ ہیں، جہاں وہ ان کی کوچنگ اور تیاری میں معاونت کررہے ہیں۔ دوسری جانب انتھونی جوشوا اور ٹائسن فیوری کے مجوزہ مقابلے کے انعقاد پر مذاکرات جاری ہیں۔ سعودی عرب کی کمپنی سیلا مقابلے کی منتظم ہے، جبکہ دونوں باکسرز اس کمپنی کے ساتھ الگ الگ معاہدے کرچکے ہیں۔ انتھونی جوشوا کے معاہدے میں مقابلہ برطانیہ میں منعقد کرنے کی شرط شامل ہے، جس کے باعث ان کے پروموٹر ایڈی ہیرن مقامی انتظامات پر دوبارہ مذاکرات کررہے ہیں۔ لندن کے میئر صادق خان بھی ویمبلے میں یہ تاریخی مقابلہ کرانے کی حمایت کرچکے ہیں۔ سیلا اور نیٹ فلیکس کے نیویارک کے میڈیسن سکوائر گارڈن کو ترجیح دینے کی اطلاعات ہیں، تاہم لندن میں مقابلہ کرانے کے امکانات بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ صادق خان کے مطابق لندن اس مقابلے کی میزبانی کے لیے تیار ہے اور ویمبلے میں تقریباً 100،000 تماشائیوں کی گنجائش کے باعث یہ مقابلہ عالمی سطح پر بھی بڑی توجہ حاصل کرسکتا ہے۔