اسلام آباد۔7ستمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ عدالت کسی مستحق شخص یا خاندان کے کیس کو پاکستان بیت المال کے سامنے امداد کے لیے بھیج سکتی ہے تاہم امداد کی نوعیت، رقم اور مدت کا تعین بیت المال اپنے قانونی و انتظامی ضوابط کے مطابق کرے گا۔چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل …
مستحق افراد کی نشاندہی عدالت کا اختیار، امداد کی رقم اور مدت کا تعین بیت المال کرے گا، سپریم کورٹ
اسلام آباد۔7ستمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ عدالت کسی مستحق شخص یا خاندان کے کیس کو پاکستان بیت المال کے سامنے امداد کے لیے بھیج سکتی ہے تاہم امداد کی نوعیت، رقم اور مدت کا تعین بیت المال اپنے قانونی و انتظامی ضوابط کے مطابق کرے گا۔چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل تین رکنی بینچ نے پاکستان بیت المال کی جانب سے دائر درخواست پر فیصلہ جاری کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ پاکستان بیت المال ایک قانونی ادارہ ہے جو مستحق، نادار، بیوائوں، یتیموں، معذور اور دیگر ضرورت مند افراد کی مدد کے لیے قائم کیا گیا ہے تاہم اس کی امدادی سرگرمیاں متعلقہ قانون، پالیسی، اہلیت کے معیار، انتظامی طریقہ کار اور دستیاب بجٹ کے تحت چلتی ہیں۔کیس میں دو کمسن ہندو بچیوں جسیکا اور سانیکا کے نان و نفقہ کا معاملہ زیر غور آیا۔ ان کے والد روی کمار 20 مئی 2017ء کو خودکشی کے باعث وفات پا گئے تھےجبکہ والدہ شریمتی ریتا کا کوئی مستقل ذریعہ آمدن نہیں تھا۔
خاندانی عدالت نے دونوں بچیوں کے دادا رام راج کو ہر بچی کے لیے ماہانہ 3 ہزار روپے نان و نفقہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا تاہم سندھ ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ قابل اطلاق ہندو قانون کے تحت دادا پر پوتیوں کی کفالت کی ذاتی قانونی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔سندھ ہائیکورٹ نے بچیوں کی مالی مشکلات کے پیش نظر پاکستان بیت المال کو دونوں کو مستقل مستحقین کے طور پر رجسٹر کرنے اور ہر بچی کو ماہانہ 10 ہزار روپے، سالانہ 10 فیصد اضافے کے ساتھ، شادی تک ادا کرنے کی ہدایت کی تھی۔پاکستان بیت المال نے سپریم کورٹ میں موقف اختیار کیا کہ وہ پاکستان بیت المال ایکٹ 1991 کے تحت کام کرنے والا قانونی ادارہ ہے اور امداد اس کے مقررہ قواعد، اہلیت کے معیار، پالیسی اور دستیاب فنڈز کے مطابق دی جاتی ہے، اس لیے عدالت کی جانب سے مخصوص رقم اور مدت مقرر کرنا قانونی طریقہ کار کو متاثر کرتا ہے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ موجودہ کیس میں ہائیکورٹ کی جانب سے بچیوں کی مدد کے لیے بیت المال سے رجوع کرنا قابل اعتراض نہیں کیونکہ دونوں بچیاں کم عمری میں والد سے محروم ہوئیں، والدہ کے پاس مستقل ذریعہ آمدن نہیں جبکہ ان کے دادا خود عمر رسیدہ، بیمار اور انتہائی کسمپرسی کی حالت میں تھے۔ فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 35، 36 اور 38 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ آئین خاندان، ماں اور بچے کے تحفظ، اقلیتوں کے جائز حقوق و مفادات کے تحفظ اور عوام کی سماجی و معاشی بہبود پر زور دیتا ہے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ عدالت کسی مستحق شخص کا معاملہ بیت المال کے علم میں لا سکتی ہے اور اسے امداد کے لیے متعلقہ ادارے سے رجوع کرنے میں سہولت دی جا سکتی ہے لیکن امداد کی مخصوص رقم، نوعیت اور مدت طے کرنا بیت المال کے دائرہ اختیار میں ہے۔
عدالت نے مستقبل کے مقدمات کے لیے رہنما اصول وضع کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگر کسی عدالت کے سامنے ایسے حالات آئیں جہاں بیت المال سے مدد لینا مناسب معلوم ہو تو متعلقہ شخص کا کیس بیت المال کو بھیجا جائے۔ بیت المال درخواست میں سہولت فراہم کرنے کے بعد متعلقہ پالیسی اور اہلیت کے معیار کے مطابق معاملے کا جائزہ لے گا اور امداد کی مناسب نوعیت اور مقدار کا تعین کرے گا۔سپریم کورٹ نے موجودہ کیس میں بیت المال کی جانب سے دونوں کمسن بچیوں کو امداد فراہم کرنے پر آمادگی کو مدنظر رکھتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کے حکم میں مداخلت سے انکار کرتے ہوئے پاکستان بیت المال کی درخواست خارج کر دی تاہم مستقبل کے مقدمات میں امداد کا تعین بیت المال کے قانونی و پالیسی فریم ورک کے مطابق کرنے کی ہدایت کی۔









