سپریم کورٹ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے افسران کو ہیڈکوارٹر الاؤنس دینے سے متعلق سروس ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے ایف بی آر کی اپیلیں خارج کر دیں۔
سپریم کورٹ نے ایف بی آر افسران کو ہیڈکوارٹر الاؤنس دینے کے فیصلے کے خلاف اپیلیں خارج کردیں

مزید خبریں
اسلام آباد۔8ستمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے افسران کو ہیڈکوارٹر الاؤنس دینے سے متعلق سروس ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے ایف بی آر کی اپیلیں خارج کر دیں۔
کیس کی سماعت منگل کو چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ، بنچ میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ملک شہزاد شامل تھے۔دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ کیا ہیڈکوارٹر الاؤنس کی منظوری وزیراعظم نے دی تھی؟ عدالت نے الاؤنس سے متعلق سمری فوری طور پر طلب کرلی تاکہ اس معاملے کی حقیقت سامنے آسکے۔ایف بی آر کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سرکاری ملازمین کو ایگزیکٹو الاؤنس دیا جاتا ہے تاہم ایف بی آر ملازمین کو ایگزیکٹو الاؤنس کے بجائے ہیڈکوارٹر الاؤنس دیا گیا۔
ٹائم اسکیل والے ملازمین کو یہ الاؤنس نہیں دیا جاسکتا۔عدالتی حکم پر دوران سماعت ایف بی آر ہیڈکوارٹر الاؤنس کی سمری منگوائی گئی۔ وکیل ایف بی آر نے بتایا کہ یہ الاؤنس گریڈ 17 کے افسران کے لیے ہے جبکہ موجودہ درخواست گزار گریڈ 17 کے ملازمین نہیں ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سمری میں ایسی کوئی بات نہیں لکھی۔ اگر ایف بی آر ٹائم اسکیل ملازمین کو الگ کرنا چاہتا ہے تو دوبارہ سمری بھجوائی جا سکتی ہے۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اس الاؤنس کی سمری فوری منگوائیں تاکہ حقیقت کا پتہ چل سکے۔
ایف بی آر کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ کیس سروس ٹریبونل کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، عدالت فنانس ڈویژن کو نوٹس جاری کرے۔عدالت نے ایف بی آر کی اپیلیں خارج کرتے ہوئے سروس ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھا۔واضح رہے کہ ایف بی آر کے 40 سے زائد ملازمین نے ٹائم اسکیل کی بنیاد پر ہیڈکوارٹر الاؤنس کے حصول کے لیے درخواستیں دائر کی تھیں، جس پر سروس ٹریبونل نے ملازمین کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے سروس ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔








