دانش سکول اتھارٹی کی پہلی سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس، تنظیم نو اور مالی پائیداری کا جائزہ

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال کی زیر صدارت دانش سکول اتھارٹی کی پہلی سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں دانش سکول اتھارٹی کی تنظیم نو، افرادی قوت میں بہتری، مالی اثرات، انتظامی و حکمرانی کے نظام اور ادارہ جاتی ڈھانچے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں دانش سکولوں کی آئندہ پانچ سے دس سال تک مالی پائیداری یقینی بنانے، اساتذہ کی تربیت، …

اسلام آباد۔8ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال کی زیر صدارت دانش سکول اتھارٹی کی پہلی سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں دانش سکول اتھارٹی کی تنظیم نو، افرادی قوت میں بہتری، مالی اثرات، انتظامی و حکمرانی کے نظام اور ادارہ جاتی ڈھانچے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں دانش سکولوں کی آئندہ پانچ سے دس سال تک مالی پائیداری یقینی بنانے، اساتذہ کی تربیت، تدریسی معیار میں بہتری اور اصلاحات پر مؤثر عملدرآمد کے لئے لائحۂ عمل پر بھی غور کیا گیا۔

سیکرٹری تعلیم نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دانش سکول کا بنیادی تصور مستحق اور غریب طلبہ و طالبات کو معیاری تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرنا ہے، اس مقصد کے تحت طلبہ و طالبات کو تعلیم کے ساتھ رہائش، خوراک اور دیگر ضروری سہولیات بھی بلا معاوضہ فراہم کی جاتی ہیں۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے ہدایت کی کہ دانش سکولوں میں اساتذہ کی بھرتی طلبہ و اساتذہ کے مناسب تناسب کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائے تاکہ تدریسی معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت کے مطابق دانش سکول غریب اور مستحق بچوں کو ایچی سن کالج کے معیار کی تعلیم فراہم کرنے کا ذریعہ بنیں گے۔

انہوں نے کہا کہ دانش سکول پسماندہ اور کم ترقی یافتہ علاقوں میں قائم کئے جا رہے ہیں تاکہ معیاری تعلیم کے ذریعے ان علاقوں کے بچوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کئے جائیں اور ان علاقوں کی تقدیر بدلی جا سکے۔اجلاس میں دانش سکولوں کے لئے درکار افرادی قوت کا ازسرنو جائزہ لینے کی بھی ہدایت کی گئی تاکہ ضروریات کے مطابق مناسب اور مؤثر انتظامی و تدریسی عملہ یقینی بنایا جا سکے۔وفاقی وزیر نے قومی نصاب کے حوالے سے کہا کہ قومی نصاب کا فریم ورک 2026ء وزیراعظم کو پیش کیا جائے تاکہ وہ اس کا تفصیلی جائزہ لینے کے لئے ایک باقاعدہ اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے سکیں اور مستقبل میں کسی بھی قسم کے اختلاف یا مسئلے سے بچا جا سکے۔

احسن اقبال نے کہا کہ قومی نصاب فریم ورک کا جامع اور تفصیلی جائزہ لینے کے لئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کا قیام ضروری ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ قومی نصاب فریم ورک پر تمام سیاسی جماعتوں، اراکینِ صوبائی اسمبلی اور متعلقہ فریقین کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے کیونکہ قومی نصاب ملک کے مستقبل اور نئی نسل کی فکری و تعلیمی سمت متعین کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

مزید خبریں