اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگیا۔شنہوا کے مطابق جنرل اسمبلی کے نئے صدر خلیل الرحمٰن نے اجلاس کے افتتاح کا اعلان کیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81 واں اجلاس شروع، کثیرالجہتی نظام پر اعتماد کی بحالی ترجیح قرار

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔9ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگیا۔شنہوا کے مطابق جنرل اسمبلی کے نئے صدر خلیل الرحمٰن نے اجلاس کے افتتاح کا اعلان کیا۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل اسمبلی کے صدر خلیل الرحمٰن نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کے لیے ایک اہم اور فیصلہ کن وقت میں اپنی ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارے نے گزشتہ نو دہائیوں کے دوران متعدد کامیابیاں حاصل کی ہیں تاہم اسے سنگین چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں تنازعات بدستور انسانی مشکلات کا باعث بن رہے ہیں، ترقیاتی کامیابیاں کمزور اور غیر مستحکم ہیں جبکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان چیلنجز نے کثیرالجہتی نظام پر اعتماد کو شدید متاثر کیا ہے۔خلیل الرحمٰن نے کہا کہ 81ویں اجلاس کے دوران ان کی اولین ترجیح اقوام متحدہ پر اعتماد کی بحالی ہوگی۔ اجلاس کا موضوع”اعتماد کی بحالی، تبدیلی کا انتظام: ایسی اقوام متحدہ جو سب کے لیے مؤثر ثابت ہو”رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اجلاس کے دوران چھ ترجیحات پر توجہ مرکوز کی جائے گی جن میں امن و سلامتی کا فروغ، پائیدار ترقی کی رفتار تیز کرنا، موسمیاتی اقدامات میں اضافہ، انسانی حقوق کا فروغ، ٹیکنالوجی کی تبدیلی کو عوامی مفاد میں یقینی بنانا اور کثیرالجہتی نظام پر اعتماد کی بحالی شامل ہیں۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ ہنگامہ خیز عالمی حالات میں عالمی مسائل کے حل کے لیے کثیرالجہتی نظام پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ دنیا کو تنازعات، تقسیم، جوہری کشیدگی کے خطرے، غربت و عدم مساوات، موسمیاتی بحران اور مصنوعی ذہانت سمیت ٹیکنالوجی کے تیزی سے بدلتے ہوئے منظرنامے جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد ریکارڈ سطح کے قریب پہنچ چکی ہے جبکہ انسانی مصائب میں اضافہ اور امداد و ترقی کے لیے فنڈز میں کمی ہو رہی ہے۔
بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کی بھی اکثر خلاف ورزی کی جا رہی ہے جبکہ جغرافیائی سیاسی عدم اعتماد عالمی مسائل کے مؤثر حل کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔انتونیو گوتریش نے امید ظاہر کی کہ خلیل الرحمٰن کی قیادت میں جنرل اسمبلی سفارت کاری، مذاکرات اور تعاون کے ذریعے عالمی سطح پر اعتماد بحال کرنے میں کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’پیکٹ فار دی فیوچر‘‘ اور ’’UN80 انیشی ایٹو” اقوام متحدہ کو مستقبل کے لیے تیار کرنے، اصلاحات اور عملی اقدامات کا خاکہ فراہم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 81ویں جنرل اسمبلی کے آغاز پر عالمی برادری کو موجودہ حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے عظیم مقاصد کو عملی جامہ پہنانا اور عالمی مسائل کے حل کے لیے یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔








