برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے کہا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ جاری ٹیرف تنازع کے دوران ملک کے ڈیجیٹل ادائیگی نظام ’’پکس‘‘ کا دفاع کریں گے۔
برازیل کا امریکی ٹیرف تنازع کے دوران ملک کے ’پکس‘ ادائیگی نظام کے دفاع کا اعلان
ساؤ پالو۔9ستمبر (اے پی پی):برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے کہا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ جاری ٹیرف تنازع کے دوران ملک کے ڈیجیٹل ادائیگی نظام ’’پکس‘‘ کا دفاع کریں گے۔
شنہوا کے مطابق ساؤ پالو کی ریاست کے شہر ساؤ جوزے ڈو ریو پریٹو میں ایک سیاسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لولا دا سلوا نے کہا کہ وہ ستمبر میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ممکنہ ملاقات کے دوران یہ معاملہ اٹھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ سے کہیں گے کہ ’’پکس‘‘ استعمال کریں اور دیکھیں کہ یہ کتنا مؤثر نظام ہے۔برازیل کے مرکزی بینک نے ’’پکس‘‘ نظام نومبر 2020 میں متعارف کرایا تھا، جس کے ذریعے ہفتے کے ساتوں دن اور 24 گھنٹے فوری ادائیگیاں اور رقوم کی منتقلی ممکن ہے۔ یہ نظام برازیل میں ادائیگی کے اہم ذرائع میں شامل ہوچکا ہے۔لولا دا سلوا کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب برازیل اور امریکا کے درمیان تجارتی تنازع جاری ہے، جس میں بعض برازیلی مصنوعات پر 25 فیصد تک اضافی امریکی ٹیرف اور برازیل کے ڈیجیٹل ادائیگی نظام پر واشنگٹن کی تنقید بھی شامل ہے۔









