شاہ اللہ دتہ میں ڈیجیٹل ہیلتھ کلینک کے قیام سے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے صحت کی سہولیات شہریوں کو دہلیز پر فراہم کی جائیں گی ، مصطفیٰ کمال

وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ شاہ اللہ دتہ میں ڈیجیٹل ہیلتھ کلینک کے قیام سے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے صحت کی سہولیات شہریوں کو ان کی دہلیز پر فراہم کی جائیں گی اور انہیں ہر معمولی طبی ضرورت کےلئے پمز یا پولی کلینک جانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔

اسلام آباد۔9ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ شاہ اللہ دتہ میں ڈیجیٹل ہیلتھ کلینک کے قیام سے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے صحت کی سہولیات شہریوں کو ان کی دہلیز پر فراہم کی جائیں گی اور انہیں ہر معمولی طبی ضرورت کےلئے پمز یا پولی کلینک جانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔

ان خیات کا اظہار انہوں نے بدھ کو شاہ اللہ دتہ میں ڈیجیٹل ہیلتھ کلینک کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے صحت کی سہولیات کو شہریوں کی دہلیز تک پہنچایا جا رہا ہے، اب دور دراز علاقوں کے مریضوں کو ہر معمولی طبی ضرورت کے لیے پمز یا پولی کلینک جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ وزیر صحت نے کہا کہ شاہ اللہ دتہ اسلام آباد کا گاؤں ہے اور اسلام آباد سے یہاں پہنچنے میں تقریباً 40 منٹ لگتے ہیں، اگر یہاں کسی شہری کو ہنگامی طبی ضرورت پیش آئے تو ہسپتال پہنچنے میں کم از کم 45 منٹ لگ سکتے ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ شاہ اللہ دتہ میں قائم کیا جانے والا یہ اسلام آباد کا 10واں ٹیلی میڈیسن کلینک ہے اور اس منصوبے کا پہلا فیز مکمل ہو چکا ہے، دنیا کے ماہر ڈاکٹرز آن لائن یہاں دستیاب ہوں گے جبکہ پانچ مختلف شعبوں کے ماہرین ہفتے میں دو دن آن لائن مریضوں کو طبی مشاورت فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مریض کو سکرین پر دیکھ سکیں گے، مریض کی نبض سمیت دیگر اہم طبی معلومات ڈاکٹر کو اسی وقت آن لائن دستیاب ہوں گی، ہم نے فاصلے ختم کر دیے ہیں، دنیا کے ماہر ڈاکٹر کو یہاں آکر بیٹھنے کی ضرورت نہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے دنیا کے جدید تقاضوں کو اپناتے ہوئے صحت کے شعبے میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کیا ، وزارت صحت نے صحت کہانی کے ساتھ ایم او یو سائن کیا ہے جس کے ذریعے ہزاروں مریضوں کا علاج ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف مقامات پر موجود ماہر ڈاکٹر یہاں بیٹھے مریضوں کا علاج اور مشاورت کر رہے ہیں، اب مریض کو اپنی دہلیز پر دنیا کا بہترین ڈاکٹر دستیاب ہے۔مصطفیٰ کمال نے اعلان کیا کہ پہلے فیز کے بعد اگلے مرحلے میں مزید ٹیلی میڈیسن کلینکس قائم کیے جائیں گے۔ اسلام آباد کے 28 بنیادی مراکز صحت (بی ایچ یوز) کو بھی ٹیلی میڈیسن کی سہولت سے آراستہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ٹیلی میڈیسن کلینکس کے اوقات کار بھی بڑھائے گئے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ گزشتہ 14 ماہ میں وزارت صحت نے جتنا کام کیا ہے اتنا گزشتہ 30 سال میں نہیں ہوا، ہمارے 14 ماہ کے کام گزشتہ 30 سال کے کاموں سے زیادہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب وزارت صحت کی ذمہ داری سنبھالی تو اسلام آباد کے ہسپتالوں میں 2,126 بیڈز کی گنجائش تھی، حکومت نے اس میں 2,500 نئے بیڈز کا اضافہ کیا ۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حکومت نے صحت سہولت کارڈ کی فائل کو دوبارہ فعال کیا، اب اسلام آباد کے 15 نجی ہسپتالوں میں شہریوں کو مفت علاج کی سہولت حاصل ہوگی اور اس علاج کے اخراجات حکومت پاکستان ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ ہسپتالوں کی گنجائش میں 100 فیصد سے بھی زیادہ اضافہ کیا گیا ہے، اگر حکومت نئے ہسپتال بنانے پر جاتی تو اس عمل میں 25 سال لگ جاتے لیکن موجودہ سہولیات میں اضافہ کرکے کم وقت میں عوام کو زیادہ طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔ وزیر صحت نے کہا کہ پمز کا نیا ایمرجنسی وارڈ آئندہ 10 دنوں میں فعال ہونے جا رہا ہے، 176 بیڈز پر مشتمل یہ ایمرجنسی وارڈ خطے کا سب سے بڑا ایمرجنسی وارڈ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد جدید ٹیکنالوجی، بہتر انتظامی اقدامات اور موجودہ وسائل کے مؤثر استعمال کے ذریعے اسلام آباد کے شہریوں کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات ان کی دہلیز تک فراہم کرنا ہے۔