وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی زیر صدارت اجلاس،کمپلینٹ سیل کو 8ماہ کے دوران موصول ہونے والی شکایات کے ازالے کا جائزہ لیا

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت اجلاس کا انعقاد کیا گیا،جس میں وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل کو 8 ماہ کے دوران موصول ہونے والی شکایات اور ان کے ازالے کا جائزہ لیا گیا۔

پشاور۔ 09 ستمبر (اے پی پی):وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت اجلاس کا انعقاد کیا گیا،جس میں وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل کو 8 ماہ کے دوران موصول ہونے والی شکایات اور ان کے ازالے کا جائزہ لیا گیا۔ ترجمان وزیر اعلیٰ ہائوس پشاور کے مطابق اجلاس میں بتایا گیا کہ رواں سال جنوری سے اگست تک وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل کو مختلف ذرائع سے 3 ہزار 551 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 499 شکایات کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں موقع پر حل یا ضروری رہنمائی فراہم کی گئی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ 498 شکایات دائرہ اختیار یا قانونی پیچیدگیوں کے باعث ناقابلِ عمل تھیں جبکہ 2 ہزار 610 شکایات صوبائی محکموں کو کارروائی کے لیے ارسال کی گئیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ 2610 شکایات میں سے 988 پر ریلیف دیا گیا، 11 پر جزوی ریلیف جبکہ 781 شکایات پر کارروائی جاری ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ 774 شکایات میرٹ پر پورا نہ اترنے کے باعث قابلِ کارروائی نہیں تھیں، زمینی تنازعات اور تعلیم شکایات کی بڑی کیٹیگریز میں شامل تھے۔اجلاس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ہماری حکومت کی کارکردگی کا فیصلہ اجلاسوں اور پریزنٹیشنز سے نہیں، عوام کی گواہی اور اطمینان سے ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت اور بیوروکریسی کا مستقبل عوامی اطمینان سے وابستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ کمپلینٹ سیل کے ذریعے شہریوں کو ملنے والے ریلیف سے عوام کو آگاہ کیا جائے تاکہ مزید لوگ اس سہولت سے مستفید ہوں۔انہوں نے کہا کہ پشاور نرسنگ کالج واقعے کا نوٹس لیا گیا ہے، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیں گےنرسنگ کالج واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے طلبہ ہمارے بچے ہیں، ان کے حقوق کے تحفظ اور خدمت کے لیے خیبرپختونخوا حکومت ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں شکایات کے ازالے کے دستیاب نظام سے عوام کو آگاہ کرنے کے لیے بھرپور آگاہی مہم چلائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ چیف سیکرٹری اور دیگر شکایات سیلز کو وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل سے منسلک کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ شکایات کے رجحانات اور کیٹیگریز کا اے آئی سے تجزیہ کرکے حکومتی نظام میں ضروری اصلاحات لائی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ1090 شکایات دستی طور پر، 1047 واٹس ایپ، 687 ای میل، 343 فون کالز، 273 فیس بک اور 111 ایکس کے ذریعے موصول ہوئیں۔

 

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت اجلاس کا انعقاد کیا گیا،جس میں وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل کو 8 ماہ کے دوران موصول ہونے والی شکایات اور ان کے ازالے کا جائزہ لیا گیا۔ ترجمان وزیر اعلیٰ ہائوس پشاور کے مطابق اجلاس میں بتایا گیا کہ رواں سال جنوری سے اگست تک وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل کو مختلف ذرائع سے 3 ہزار 551 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 499 شکایات کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں موقع پر حل یا ضروری رہنمائی فراہم کی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ 498 شکایات دائرہ اختیار یا قانونی پیچیدگیوں کے باعث ناقابلِ عمل تھیں جبکہ 2 ہزار 610 شکایات صوبائی محکموں کو کارروائی کے لیے ارسال کی گئیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ 2610 شکایات میں سے 988 پر ریلیف دیا گیا، 11 پر جزوی ریلیف جبکہ 781 شکایات پر کارروائی جاری ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ 774 شکایات میرٹ پر پورا نہ اترنے کے باعث قابلِ کارروائی نہیں تھیں، زمینی تنازعات اور تعلیم شکایات کی بڑی کیٹیگریز میں شامل تھے۔اجلاس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ ہماری حکومت کی کارکردگی کا فیصلہ اجلاسوں اور پریزنٹیشنز سے نہیں، عوام کی گواہی اور اطمینان سے ہوگا۔انہوں نے کہا کہ شکایات کے مؤثر ازالے اور حکمرانی میں عوامی شمولیت عمران خان کا وژن ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت عمران خان کے اس وژن کو عملی بنیادوں پر آگے بڑھا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت اور بیوروکریسی کا مستقبل عوامی اطمینان سے وابستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمپلینٹ سیل کے ذریعے شہریوں کو ملنے والے ریلیف سے عوام کو آگاہ کیا جائے تاکہ مزید لوگ اس سہولت سے مستفید ہوں۔انہوں نے کہا کہ پشاور نرسنگ کالج واقعے کا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا سخت نوٹس، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیں گےنرسنگ کالج واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے طلبہ ہمارے بچے ہیں، ان کے حقوق کے تحفظ اور خدمت کے لیے خیبرپختونخوا حکومت ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں شکایات کے ازالے کے دستیاب نظام سے عوام کو آگاہ کرنے کے لیے بھرپور آگاہی مہم چلائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ چیف سیکرٹری اور دیگر شکایات سیلز کو وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل سے منسلک کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ شکایات کے رجحانات اور کیٹیگریز کا اے آئی سے تجزیہ کرکے حکومتی نظام میں ضروری اصلاحات لائی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ1090 شکایات دستی طور پر، 1047 واٹس ایپ، 687 ای میل، 343 فون کالز، 273 فیس بک اور 111 ایکس کے ذریعے موصول ہوئیں۔

 

مزید خبریں