وفاقی تعلیمی بورڈ کے انٹرمیڈیٹ پارٹ ون اور ٹو کے سالانہ امتحانات کے نتائج کا اعلان، وزیر تعلیم مہمان خصوصی تھے
وفاقی تعلیمی بورڈ کے انٹرمیڈیٹ پارٹ ون اور ٹو کے سالانہ امتحانات کے نتائج کا اعلان، وزیر تعلیم مہمان خصوصی تھے

مزید خبریں
اسلام آباد۔9ستمبر (اے پی پی):وفاقی تعلیمی بورڈ نے انٹرمیڈیٹ پارٹ ون اور ٹو کے سالانہ امتحانات 2026 کے نتائج کا اعلان کر دیا جن میں مجموعی شرح کامیابی 85.95 فیصد رہی ، طالبات کی شرح کامیابی طلبا کے مقابلے میں زیادہ رہی۔نتائج کے اعلان کی تقریب میں وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ چیئرمین وفاقی تعلیمی بورڈ ڈاکٹر اکرام علی ملک نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ تقریب کے دوران بتایا گیا کہ سالانہ امتحانات میں مجموعی طور پر 2 لاکھ 12 ہزار 416 امیدواروں نے شرکت کی جبکہ نتائج کی تیاری کے عمل میں 1237 افراد پر مشتمل عملے نے حصہ لیا، امتحانات کے دوران نقل کے 7 کیسز رپورٹ ہوئے۔
وفاقی تعلیمی بورڈ کے مطابق امیدوار اپنے نتائج بورڈ کی ویب سائٹ سمیت تین مختلف ذرائع سے حاصل کر سکیں گے۔پری میڈیکل گروپ میں آرمی پبلک سکول کی عمارہ اظہر نے 1079 نمبر حاصل کر کے پہلی پوزیشن حاصل کی، پنجاب کالج کے محمد جہانزیب نے 1078 نمبروں کے ساتھ دوسری جبکہ سیدہ ایمان فاطمہ نے 1076 نمبروں کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔ پری انجینئرنگ گروپ میں ایمان ارجمند نے 1075 نمبروں کے ساتھ پہلی، زینب سمیع نے 1070 نمبروں کے ساتھ دوسری جبکہ عنزہ فاطمہ نے 1068 نمبر حاصل کر کے تیسری پوزیشن اپنے نام کی۔سائنس گروپ میں عبداللہ اظہر 1063 نمبر حاصل کر کے پہلی جبکہ ایان اظہر دوسری اور ہادی زکریا تیسری پوزیشن پر رہے۔ کامرس گروپ میں اقصیٰ فاروق نے 1051 نمبروں کے ساتھ پہلی، عائزہ افضل نے 1047 نمبروں کے ساتھ دوسری جبکہ آمنہ آصف نے 1046 نمبر حاصل کر کے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
ہیومینٹیز گروپ میں ایمان فاطمہ نے 1007 نمبروں کے ساتھ پہلی، آمنہ اظہر نے 1003 نمبروں کے ساتھ دوسری جبکہ یحییٰ فاضل اور عمیر رضا نے 1002 نمبر حاصل کر کے مشترکہ طور پر تیسری پوزیشن اپنے نام کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کامیاب طلبا و طالبات اور نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس مرتبہ بچیوں کے ساتھ بچے بھی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے نظر آئے ہیں جو حوصلہ افزا بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بچے ملک کا قیمتی ترین اثاثہ ہیں اور انہیں محفوظ اور بہتر مستقبل فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس افواج پاکستان نے ملکی پہچان کو نمایاں طور پر بہتر بنایا جبکہ ہم اپنی تعلیم کے ذریعے بھی دنیا میں اپنی شناخت اور مقام کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ معیار تعلیم کے حوالے سے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں صرف تعلیم کا معیار ہی نہیں بلکہ تعلیم کے مقصد اور وجوہات کو بھی نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہو گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمیں آنے والے کل کا خاکہ تبدیل کرنا ہے کیونکہ تعلیم اور ذہانت پوری دنیا کا مشترکہ اثاثہ ہیں، وفاقی حکومت اور وزارت تعلیم مستقبل کے نقشے اور خدوخال کو نئے تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاق میں شعبہ تعلیم ایک معیار کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، تاہم تعلیم اب صوبوں اور مقامی حکومتوں کی بھی اہم ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مقامی سطح پر تعلیمی نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ اداروں کو مل کر ملک کے بچوں کے بہتر اور محفوظ مستقبل کے لئے کردار ادا کرنا ہو گا۔ تقریب کے آغاز میں چیئرمین وفاقی تعلیمی بورڈ ڈاکٹر اکرام علی ملک نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور امتحانی نتائج کی تیاری اور بورڈ کی جانب سے کیے جانے والے انتظامات کے بارے میں آگاہ کیا۔








