وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے علم، تحقیق اور پالیسی تجاویز کو عملی اور قابلِ عمل حل میں تبدیل کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔وفاقی وزیر نے اسلام آباد میں منعقدہ پیوان اکنامک پالیسی چیلنج 2026 کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے منتظمین کا شکریہ ادا کیا کہ انہیں اس اہم موقع پر اظہارِ خیال کی دعوت دی …
وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ کا پیوان اکنامک پالیسی چیلنج 2026 سے خطاب، علم کو عملی حل میں تبدیل کرنے پر زور

مزید خبریں
اسلام آباد۔9ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے علم، تحقیق اور پالیسی تجاویز کو عملی اور قابلِ عمل حل میں تبدیل کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔وفاقی وزیر نے اسلام آباد میں منعقدہ پیوان اکنامک پالیسی چیلنج 2026 کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے منتظمین کا شکریہ ادا کیا کہ انہیں اس اہم موقع پر اظہارِ خیال کی دعوت دی گئی۔
انہوں نے متنوع تعلیمی اور پیشہ ورانہ پس منظر رکھنے والے نوجوان ماہرین اور سابق طلبہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے پر میزبان اداروں کو سراہا۔ تقریب کا انعقاد امریکی سفارتخانے، یونائیٹڈ سٹیٹس ایجوکیشنل فائونڈیشن ان پاکستان (یوسف)، پاکستان-امریکہ سابق طلبہ نیٹ ورک (پیوان) اور اکائونٹیبلٹی لیب پاکستان کے اشتراک سے کیا گیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ علم کا ہونا اہم ہے، لیکن علم کی اصل قدر اس وقت سامنے آتی ہے جب ہم اسے عملی مسائل پر لاگو کرتے ہوئے مناسب حل تلاش کرنے کے قابل ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ کے پاس علم ہے اور آپ صورتحال کا درست جائزہ لیتے ہیں تو آپ مناسب حل پیش کر سکتے ہیں۔
کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر کی حیثیت سے اپنے تجربے اور حکومت میں موجودہ ذمہ داریوں کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ معاشی اور کاروباری مسائل کا درست اور جامع جائزہ موثر پالیسی سازی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرکا نے اپنی تعلیمی اور پیشہ ورانہ زندگی کے دوران جو علم اور تجربہ حاصل کیا ہے، اسے اب حقیقی دنیا کے مسائل کے حل، پالیسی سازی اور ملکی معاشی ترقی میں بروئے کار لایا جانا چاہیے۔وفاقی وزیر نے پاکستان کے لیے امریکہ کے تعاون کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان عوامی، تعلیمی اور پیشہ ورانہ روابط کی طویل تاریخ کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سابق طلبہ کے نیٹ ورک ان روابط کو مزید مضبوط بنانے اور بین الاقوامی تجربے اور علم کو پاکستان کے عملی فائدے میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
شرکا پر زور دیا گیا کہ وہ سابق طلبہ کے نیٹ ورک سے مسلسل منسلک رہیں، ایک دوسرے کے تجربات اور مہارتوں سے استفادہ کریں، پیشہ ورانہ روابط کو فروغ دیں اور اپنے بین الاقوامی تجربے کو تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، کاروباری سرگرمیوں اور پالیسی سازی کے شعبوں میں نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے استعمال کریں۔ اس امر کو اجاگر کیا گیا کہ سابق طلبہ کے نیٹ ورک پاکستان اور عالمی برادری کے درمیان ایک موثر پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔گزشتہ دو برس کے دوران حکومت کی جانب سے بالخصوص بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے تعاون سے کیے گئے معاشی اصلاحات کے اقدامات کو پاکستان کی معاشی بنیادوں کو مضبوط بنانے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔
کہا گیا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت معاشی استحکام کے فروغ اور کاروبار و سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے قواعد و ضوابط میں اصلاحات پر فعال طور پر کام کر رہا ہے۔ قواعد و ضوابط میں اصلاحات کے لیے امریکی ماہرین کی جانب سے فراہم کی جانے والی معاونت اور مہارت کو بھی سراہا گیا۔اس امر کی نشاندہی کی گئی کہ ضرورت سے زیادہ قواعد و ضوابط، ایک جیسے تقاضوں کی تکرار اور طریقہ کار میں رکاوٹیں ماضی میں پاکستان میں کاروباری سرگرمیوں کے لیے مشکلات کا باعث بنتی رہی ہیں۔
بورڈ آف انویسٹمنٹ کی جانب سے جاری اصلاحاتی عمل کا مقصد طریقہ کار کو آسان بنانا، غیر ضروری ضابطہ جاتی بوجھ کم کرنا، سرکاری اداروں کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانا اور کاروبار و سرمایہ کاری کے لیے زیادہ شفاف، قابل پیش گوئی اور سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔اسلام آباد میں بورڈ آف انویسٹمنٹ کی جانب سے قائم کیے گئے بزنس فیسلیٹیشن سینٹر کو بھی کاروبار اور سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کرنے کی ایک اہم کاوش قرار دیا گیا۔ بتایا گیا کہ مختلف وزارتوں اور سرکاری اداروں کو ایک ہی چھت تلے جمع کیا گیا ہے تاکہ کاروباری افراد اور سرمایہ کاروں کو مربوط سہولیات اور رہنمائی فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر نے خصوصی اقتصادی زونز کے کردار کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ یہ زونز صنعتی ترقی، سرمایہ کاری اور برآمدات کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاروں کو حاصل مراعات، جن میں آمدنی پر ٹیکس سے متعلق سہولیات اور مشینری کی درآمد پر ٹیکس و ڈیوٹی سے استثنیٰ شامل ہے، پیداواری صنعتی منصوبوں کے قیام کی حوصلہ افزائی کے لیے اہم اقدامات ہیں۔اس امر پر زور دیا گیا کہ پاکستان کو قدر میں اضافے والی برآمدات، صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی کی منتقلی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور پیداواری صلاحیت میں اضافے پر مزید توجہ مرکوز کرنا ہوگی تاکہ سرمایہ کاری پائیدار معاشی ترقی میں براہ راست کردار ادا کر سکے۔وفاقی وزیر نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان معاشی تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ پاکستان کی برآمدات کی سب سے بڑی منڈی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت تقریباً 10 ارب ڈالر ہے۔ تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، کاروباری سرگرمیوں، تعلیم اور ہنرمندی کے فروغ سمیت مختلف شعبوں میں مزید تعاون کے وسیع امکانات کو بھی اجاگر کیا گیا۔
پاکستانی اور امریکی برادری اور سابق طلبہ کے نیٹ ورکس کے کردار کو بھی اہم قرار دیا گیا۔ کہا گیا کہ پاکستانی سابق طلبہ کا اجتماعی علم، بین الاقوامی تجربہ اور پیشہ ورانہ روابط پاکستان اور امریکہ کے درمیان کاروباری روابط، سرمایہ کاری شراکت داری اور علم و تجربے کے تبادلے کو مزید فروغ دینے کے لیے بروئے کار لائے جا سکتے ہیں۔ملک کی بیرونی معاشی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 18 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں تاہم خطے اور دنیا بھر میں جاری جنگوں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث معاشی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ کہا گیا کہ تنازعات کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی لاگت اور غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاری، تجارت اور مجموعی معاشی سرگرمیوں پر اثرانداز ہو رہی ہے۔پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ مثبت اور تعمیری تعلقات برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا اور کہا گیا کہ پاکستان اپنے قومی اور معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے سفارت کاری، مذاکرات اور پرامن روابط کو اہمیت دیتا ہے۔وفاقی وزیر نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی صلاحیتوں کو بھی سراہا۔
اپنے حالیہ دورہ برطانیہ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہاں پاکستان کے کردار اور سفارتی کوششوں کو خاصی پذیرائی حاصل ہوئی۔ علاقائی اور عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت اور کردار کو بھی سراہا گیا۔بعد ازاں امریکی ناظم الامور اینڈی ہالس نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور شرکا، منتظمین اور سابق طلبہ کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو بھی سراہا۔تقریب کے دوران نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے شرکا اور کامیاب ٹیموں کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی۔ وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے کامیاب شرکا میں شیلڈز اور اسناد تقسیم کیں اور انہیں کامیابی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے تمام شرکا کی محنت، تجزیاتی صلاحیتوں اور اہم معاشی پالیسی معاملات پر سنجیدہ غور و فکر کو بھی سراہا۔
وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے تمام شرکا کو مبارکباد دی اور ان کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ شرکا کے پاس پاکستان کے مستقبل میں بامعنی کردار ادا کرنے کے لیے کافی علم اور مہارت موجود ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ شرکا کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ وہ ایسے پروگراموں سے حاصل ہونے والے علم کو عملی میدان میں کس طرح بروئے کار لاتے ہیں، پالیسی مباحث میں اپنا کردار کس طرح ادا کرتے ہیں اور پاکستان کو درپیش معاشی چیلنجز کے لیے قابل عمل حل کس طرح پیش کرتے ہیں۔







