پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ نے کہا ہے کہ چین اور پاکستان آہنی بندھن میں بندھے دوست ہیں اور دونوں ممالک عالمی نظم و نسق کے اقدام پر مشترکہ عملدرآمد کے ساتھ ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزیدمضبوط بنانے کے لئے پرعزم ہیں
چین پاکستان عالمی نظم و نسق کے اقدام پر مشترکہ عملدرآمد کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزیدمضبوط بنانے کے لئے پرعزم ہیں،چینی سفیر

مزید خبریں
اسلام آباد۔9ستمبر (اے پی پی):پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ نے کہا ہے کہ چین اور پاکستان آہنی بندھن میں بندھے دوست ہیں اور دونوں ممالک عالمی نظم و نسق کے اقدام پر مشترکہ عملدرآمد کے ساتھ ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزیدمضبوط بنانے کے لئے پرعزم ہیں۔بدھ کو چینی سفارتخانہ سے جاری بیان کے مطابق چینی سفیر نے کہا کہ گزشتہ ستمبر میں چین کے صدر شی جن پنگ نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے تیان جن سربراہی اجلاس میں عالمی نظم و نسق کا اقدام پیش کیا جو کثیرالجہتی نظام، عالمی یکجہتی، مساوات اور انصاف کے فروغ کے لیے ایک واضح اور قابلِ عمل لائحہ عمل فراہم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خودمختار مساوات، بین الاقوامی قانون کی حکمرانی، کثیرالجہتی نظام، عوام کو مرکز میں رکھنے اور عملی اقدامات کے ذریعے نتائج حاصل کرنا اس اقدام کے بنیادی اصول ہیں۔جیانگ زیڈونگ نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران عالمی نظم و نسق کے اقدام کو عالمی سطح پر وسیع پذیرائی حاصل ہوئی ہے اور تقریباً 160 ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے اس کی حمایت اور مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ نیویارک، جنیوا اور ویانا میں ’’گروپ آف فرینڈز آف گلوبل گورننس‘‘ قائم کئے گئے ہیں جن میں 60 سے زائد ممالک شامل ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین نے عالمی نظم و نسق کے اقدام سے متعلق تصوراتی خاکہ اور ’’زیادہ منصفانہ اور مساوی عالمی نظم و نسق: چین کے اصول، تجاویز اور اقدامات‘‘ کے عنوان سے وائٹ پیپر بھی جاری کیا ہے جس میں عالمی نظم و نسق کو مزید منصفانہ، مساوی اور موثر بنانے کے لئے اہداف، اصول اور عملی اقدامات واضح کئے گئے ہیں۔چینی سفیر نے کہا کہ پاکستان نے عالمی نظم و نسق کے اقدام کی مسلسل حمایت کی ہے۔ صدر شی جن پنگ کی جانب سے گلوبل گورننس پیش کئے جانے کے بعد وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے اسے عالمی امن، ترقی اور استحکام کے لئے اہم قرار دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان نے مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں امن و استحکام کے لئے مشترکہ اقدامات کے ذریعے گلوبل گورننس کے اصولوں کو عملی جامہ پہنایا ہے جبکہ صدر شی جن پنگ نے مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی کے لئے پاکستان کے فعال کردار اور سفارتی کوششوں کو سراہا ہے۔جیانگ زیڈونگ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بھی پاکستان عالمی سطح پر منصفانہ اور مساوی نظم و نسق کے قیام کے لئے فعال کردار ادا کر رہا ہے اور ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن کا بانی رکن ہے۔انہوں نے کہا کہ چین مستقبل میں پاکستان کے ساتھ مل کر عالمی نظم و نسق کے اقدام پر مزید موثر اور ٹھوس پیشرفت کے لئے کام کرے گا۔ دونوں ممالک عالمی جنوب کے تعاون کو فروغ دینے، اقوام متحدہ کے مرکزی کردار پر مبنی بین الاقوامی نظام اور بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے لئے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔چینی سفیر نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے شنگھائی تعاون تنظیم کی گردشی صدارت سنبھالنا ایک اہم پیشرفت ہے۔ چین دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر پاکستان کی صدارت کی بھرپور حمایت کرے گا اور ایس سی او کے پلیٹ فارم پر پاکستان کے ساتھ مثالی کثیرالجہتی تعاون کو فروغ دے گا۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک سی پیک 2.0 کی تعمیر کو بھی تیز کریں گے جس میں صنعت، زراعت، معدنیات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ اس سلسلے میں ترقی، عوامی بہبود، جدت، سبز ترقی اور کھلے پن کے پانچ ترقیاتی کوریڈورز کو فروغ دیا جائے گا۔جیانگ زیڈونگ نے کہا کہ بڑے ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ’’چھوٹے لیکن خوبصورت‘‘ عوامی فلاحی منصوبوں کو بھی آگے بڑھایا جائے گا جن میں بلوچستان میں 100 آبی سہولیات کی تعمیر، 1,000 کلاس رومز کی اپ گریڈیشن اورایک لاکھ سکول سپلائی کٹس کی فراہمی کا پروگرام شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ چین پاکستان تعاون کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ملک کے تمام علاقوں کے عوام دوطرفہ تعاون کے ثمرات سے مستفید ہوں اور ترقی کے فوائد عام آدمی تک پہنچیں۔چینی سفیر نے کہا کہ عالمی نظم و نسق ایک نئے دوراہے پر کھڑا ہے، اس لئے چین اپنے آہنی بندھن میں بندھے دوست پاکستان کے ساتھ مل کر بین الاقوامی منظرنامے میں موجود غیر یقینی صورتحال کا مقابلہ چین پاکستان تعلقات کی پائیدار قوت کے ذریعے کرنے کے لئے تیار ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ چین اور پاکستان عالمی نظم و نسق کے اقدام پر عملدرآمد میں صفِ اول میں رہتے ہوئے انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے حامل معاشرے کی تعمیر کے لئے مزید موثر کردار ادا کریں گے۔







