ماہرین تعلیم، پالیسی سازوں، صنعتکاروں اور وائس چانسلرز و ریکٹرز نے پاکستان میں مہارتوں کے خلا کو دور کرنے، جامعات کے فارغ التحصیل نوجوانوں کو مارکیٹ سے ہم آہنگ مہارتیں فراہم کرنے اور روزگار کے مواقع بہتر بنانے کے لیے اکیڈمیا اور صنعت کے درمیان مضبوط اور منظم تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اکیڈمیا اور صنعت کا اشتراک پاکستان کے سکلز گیپ کے خاتمے کے لیے ناگزیر ہے، ماہرین

مزید خبریں
اسلام آباد۔9ستمبر (اے پی پی):ماہرین تعلیم، پالیسی سازوں، صنعتکاروں اور وائس چانسلرز و ریکٹرز نے پاکستان میں مہارتوں کے خلا کو دور کرنے، جامعات کے فارغ التحصیل نوجوانوں کو مارکیٹ سے ہم آہنگ مہارتیں فراہم کرنے اور روزگار کے مواقع بہتر بنانے کے لیے اکیڈمیا اور صنعت کے درمیان مضبوط اور منظم تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
یہ باتیں ایف پی سی سی آئی ریجنل آفس اسلام آباد میں منعقدہ فورم ’’سکلنگ پاکستان: چیلنجز اور بہترین طریقہ کار سے سیکھنے‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہیں۔ فورم ایف پی سی سی آئی، ینگ انٹرپرینیورز سمٹ (YES)، ایچ ای سی ٹاسک فورس برائے بزنس انکیوبیشن سینٹرز، اٹلس ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اور وائس چانسلر فورم آف فیڈرل یونیورسٹیز کے اشتراک سے منعقد ہوا۔فورم کی میزبانی و نظامت محمد مرتضیٰ نور، چیف ایگزیکٹو/نیشنل کوآرڈینیٹر انٹر یونیورسٹی کنسورشیم نے کی۔
پروفیسر ڈاکٹر سید حبیب علی بخاری، ممبر آر اینڈ ڈی و اکیڈمکس ایچ ای سی، پروفیسر ڈاکٹر محمد اکمل، چیئرمین پاکستان سائنس فائونڈیشن، پروفیسر ڈاکٹر محمد علی ناصر، ایڈوائزر ایچ ای سی، ڈاکٹر سید شہباز حسین شمسی، ڈائریکٹر جنرل وزیراعظم یوتھ پروگرام، طارق خان جدون، نائب صدر ایف پی سی سی آئی، اور عزیز ملک، چیئرمین ایف پی سی سی آئی کیپیٹل آفس اسلام آباد سمیت وائس چانسلرز، ریکٹرز اور صنعت کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر اٹلس ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کی خصوصی ڈاکیومنٹری بھی دکھائی گئی جبکہ بہترین طریقہ کار کے سیشن میں پاک آسٹریلیا انسٹی ٹیوٹ ہری پور، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، ہونڈا اٹلس، ہیلتھ سروسز اکیڈمی، راولپنڈی ویمن یونیورسٹی اور دیگر اداروں کے تجربات پیش کیے گئے۔
مقررین نے نصاب کو صنعت کی ضروریات کے مطابق مسلسل اپ ڈیٹ کرنے، انٹرن شپ کو لازمی اور عملی بنانے، صنعت کی تدریس، تحقیق، جدت اور انٹرپرینیورشپ میں شمولیت بڑھانے اور یونیورسٹیوں کے او آر آئی سیز اور بی آئی سیز کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر مضبوط بنانے پر زور دیا۔ شرکا نے مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجیز کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے جامعات سے مطالبہ کیا کہ طلبہ کو ڈیجیٹل، تکنیکی، کاروباری اور سافٹ سکلز سے آراستہ کیا جائے۔ ڈاکٹر سید شہباز حسین شمسی نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے سکلز بیسڈ تعلیم کی اہمیت کے پیش نظر 2027 کو ’’سال مہارت‘‘ قرار دیا ہے۔ شرکا کو اکتوبر 2026ء میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والے ینگ سی ای اوز، انٹرپرینیورز اینڈ انوویٹرز (YES) سمٹ، ایکسپو اینڈ ایوارڈز میں شرکت کی دعوت بھی دی گئی۔








