قومی پیغامِ امن کمیٹی کاپہلا سال مکمل ، بین المذاہب ہم آہنگی، قومی اتحاد اور امن کے پلیٹ فارم کے طور پر ابھری، حافظ محمد طاہر محمود اشرفی

وزیراعظم کے قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر، حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی کی ایک سالہ کارکردگی بین المسالک اور بین المذاہب ہم آہنگی، قومی اتحاد اور انتہا پسندی و دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے اجتماعی ردِعمل کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

اسلام آباد۔9ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم کے قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر، حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی کی ایک سالہ کارکردگی بین المسالک اور بین المذاہب ہم آہنگی، قومی اتحاد اور انتہا پسندی و دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے اجتماعی ردِعمل کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔قومی پیغامِ امن کمیٹی کے ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ کمیٹی 9 ستمبر 2025ء کو وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایات پر قائم کی گئی تھی، جو پاکستان کی مذہبی قیادت کو امن، برداشت، قومی یکجہتی اور استحکام کے لئے ایک مؤثر قوت کے طور پر استعمال کرنے کے وسیع تر وژن کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی کا قیام پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے کیونکہ پہلی مرتبہ اس نوعیت کے قومی سطح کے اقدام میں مختلف مکاتبِ فکر کے مسلم رہنماؤں کو غیر مسلم مذہبی برادریوں کے نمائندوں کے ساتھ ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا۔حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کے مطابق کمیٹی کا قیام پیغامِ پاکستان کے اصولوں کو عملی شکل دینے اور انتہا پسندی، دہشت گردی، فرقہ وارانہ تشدد، نفرت انگیز تقاریر اور مذہبی عدم برداشت کے خلاف ایک متحدہ قومی ردِعمل تشکیل دینے کے مقصد سے عمل میں لایا گیا۔حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پہلے سال کے دوران کمیٹی کی نمایاں کامیابیوں میں سے ایک مختلف مکاتبِ فکر کی نمائندگی کرنے والے علماء اور مذہبی رہنماؤں کے درمیان زیادہ اتحاد کا فروغ ہے۔انہوں نے یاد دلایا کہ ناقدین اکثر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء ایک ساتھ نماز بھی ادا نہیں کر سکتے۔

ان کے بقول قومی پیغامِ امن کمیٹی نے بار بار مشترکہ اجتماعات اور اجتماعی نمازوں کے ذریعے اس تاثر کو غلط ثابت کرنے میں مدد دی ہے۔مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہنماؤں نے جامعۃ الرشید، جامعہ اشرفیہ، منہاج القرآن اور دیگر بڑے دینی مدارس سمیت اہم مذہبی اداروں میں منعقدہ اجتماعات میں ایک ساتھ شرکت کی جس سے یہ واضح ہوا کہ مذہبی اختلافات لازماً سماجی تقسیم کا باعث نہیں بننے چاہئیں۔ حال ہی میں مسیحی، ہندو، شیعہ اور سنی نمائندوں پر مشتمل ایک کثیر المذاہب اور کثیرالمسالک وفد نے بھی مشترکہ طور پر جامعہ اشرفیہ کا دورہ کیا جہاں شرکاء نے برداشت، باہمی احترام اور سماجی ہم آہنگی کے عزم کا اعادہ کیا۔حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ان اقدامات نے یہ مضبوط پیغام دیا ہے کہ پاکستان کی مذہبی قیادت مذہب اور فقہ کے جائز اختلافات کا احترام کرتے ہوئے قومی مفاد کے معاملات پر متحد ہو کر کھڑی ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے پہلے سال کی ایک اہم خصوصیت مسیحی، ہندو، سکھ اور دیگر غیر مسلم نمائندوں کی قومی امن اور ہم آہنگی کی سرگرمیوں میں فعال شرکت رہی ہے۔مذہبی رہنماؤں اور اقلیتی برادریوں کے ارکان نے مشترکہ طور پر عبادت گاہوں کا دورہ کیا اور بین المذاہب کانفرنسوں میں شرکت کی جس کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا کہ پاکستان اپنے تمام شہریوں کا یکساں طور پر وطن ہے۔کمیٹی کی سرگرمیوں میں غیر مسلم شہریوں کی جان، مال، عزت اور عبادت گاہوں کے تحفظ کے لئے آواز بلند کرنا بھی شامل رہا، جبکہ پُرامن بقائے باہمی اور مذہبی آزادی کے احترام پر زور دیا گیا۔ اگست میں کمیٹی اور اس سے وابستہ تنظیموں سے تعلق رکھنے والے علماء نے ملک بھر میں جمعہ کے خطبات بھی دیئے جن میں اسلام میں غیر مسلموں کے حقوق اور پُرامن بقائے باہمی کے اصولوں کو اجاگر کیا گیا۔

حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ایسے اقدامات کا مقصد محض بیانات جاری کرنا نہیں بلکہ مختلف برادریوں کے درمیان اعتماد پیدا کرنا اور نچلی سطح پر مکالمے کے عملی راستے قائم کرنا ہے۔حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے محرم الحرام اور یومِ عاشورہ کے پُرامن انعقاد کو مذہبی علماء، حکومت اور سکیورٹی اداروں کے درمیان تعاون کی ایک اہم مثال قرار دیا۔قومی پیغامِ امن کمیٹی نے مذہبی رہنماؤں اور متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر تحمل کو فروغ دینے، فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کی روک تھام اور پیغامِ پاکستان ضابطۂ اخلاق پر عمل درآمد کی حوصلہ افزائی کے لیے کام کیا۔بعد ازاں کمیٹی نے ملک بھر میں پُرامن عاشورہ کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے علماء، مشائخ، مجالس اور جلوسوں کے منتظمین، پولیس، سکیورٹی اداروں اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کی اجتماعی کوششوں کو سراہا۔

حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ اس تجربے نے ثابت کیا کہ جب مذہبی قیادت امن کے لیے متحد ہو تو وہ تنازعات کی روک تھام اور سماجی استحکام برقرار رکھنے میں ریاست کی ایک مؤثر شراکت دار بن سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے مسلسل اس مؤقف کو برقرار رکھا ہے کہ دہشت گردی، انتہا پسندی، فرقہ وارانہ تشدد اور بے گناہ لوگوں پر حملوں کا اسلام میں کوئی جواز نہیں۔کمیٹی نے اس پیغام کو بھی مضبوط بنانے کے لیے کام کیا ہے کہ تشدد، نفرت یا بدامنی کو فروغ دینے کے لئے مذہب کا استعمال قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔مختلف قومی اور صوبائی فورمز پر علماء نے کھلے عام دہشت گردی کو مسترد کیا اور پرتشدد انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لئے ملک کی مسلح افواج، پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کے عزم کا اظہار کیا۔

جنوری میں کمیٹی کے ارکان نے پیغامِ پاکستان کو فروغ دینے کی قومی کوشش میں بھی حصہ لیا، جس کے تحت ملک بھر کے علماء سے کہا گیا کہ وہ جمعہ کے خطبات میں امن، قومی اتحاد اور دہشت گردی کے ردِعمل کا متحدہ پیغام دیں۔حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ملک کے مدارس، مساجد، علماء اور منابر نے ثابت کیا ہے کہ وہ انتہا پسندانہ بیانیوں کا مقابلہ کرنے اور پاکستان کی قومی مزاحمت و استقامت کو مضبوط بنانے میں تعمیری کردار ادا کر سکتے ہیں۔حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان کی مذہبی قیادت کی جانب سے ظاہر کیے گئے اتحاد کی اہمیت مشکل قومی اور علاقائی حالات کے دوران بالخصوص نمایاں رہی، جن میں ایران، اسرائیل اور امریکا کا بحران، خطے کی سکیورٹی کی صورتحال، محرم الحرام اور دیگر حساس ادوار شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہنماؤں نے اتحاد اور ذمہ داری کی بے مثال سطح کا مظاہرہ کیا اور اس امر کو یقینی بنایا کہ اختلافات کو قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہ دی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ کمیٹی کا طریقۂ کار امن، صبر، مکالمے اور قومی اتحاد کو فروغ دینا جبکہ دہشت گردی اور تشدد کو دوٹوک انداز میں مسترد کرنا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ علماء اور مذہبی رہنماؤں کے بڑے اجتماعات نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ محراب و منبر دہشت گردی، انتہا پسندی اور ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کے خلاف پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔قومی پیغامِ امن کمیٹی نے مذہبی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کے شہداء کی قربانیوں کا احترام کریں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ مساجد، مدارس اور دیگر مذہبی ادارے امن، قومی اتحاد اور ذمہ دار شہری ہونے کے مراکز بنیں۔

حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے 6 فروری 2026ء کو اسلام آباد کے ترلائی علاقے میں واقع خدیجۃ الکبریٰ مسجد میں نمازِ جمعہ کے دوران نمازیوں کو نشانہ بنانے والے تباہ کن خودکش حملے کا بھی حوالہ دیا۔اس حملے میں 30 سے زائد نمازی شہید اور 170 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جو ایک دہائی سے زائد عرصے میں دارالحکومت میں ہونے والے مہلک ترین حملوں میں سے ایک بن گیا۔انہوں نے کہا کہ اس سانحے نے فرقہ وارانہ نفرت کی روک تھام اور عبادت گاہوں و بے گناہ شہریوں کے تحفظ کے لیے قومی پیغامِ امن کمیٹی کے مشن کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ حملہ اسلام کی تعلیمات اور انسانی اقدار کے سراسر منافی تھا، جس سے دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف تمام مذہبی برادریوں اور علماء کے متحد ہو کر کھڑے ہونے کی ضرورت مزید واضح ہوئی۔ کمیٹی اور مذہبی قیادت نے متاثرین اور ان کے خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے سانحات سے متاثرہ افراد کو امداد فراہم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی نے اسلام آباد سے باہر اپنی ادارہ جاتی موجودگی کو مضبوط بنانے کی جانب بھی پیش رفت کی ہے، جبکہ صوبائی اور ضلعی سطح کے ڈھانچے تشکیل دئیے جا رہے ہیں تاکہ اس کا امن کا پیغام پورے پاکستان کی برادریوں تک پہنچ سکے۔انہوں نے ملک بھر میں ضلعی سطح پر قومی پیغامِ امن کمیٹیوں کو فعال کرنے پر بھی زور دیا اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ اور فرقہ واریت کے خاتمے میں ان کے کردار کو سراہا۔صوبائی حکومتوں، علماء، پولیس اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ ہونے والے اجلاسوں نے فرقہ وارانہ کشیدگی کے ممکنہ ذرائع سے نمٹنے کے لیے ایک وسیع تر نیٹ ورک تشکیل دیا ہے، تاکہ انہیں شدت اختیار کرنے سے پہلے ہی روکا جا سکے۔سندھ میں، مثال کے طور پر، صوبائی اور قومی کمیٹی کے نمائندوں نے صوبائی حکومت کے ساتھ امن، مذہبی ہم آہنگی، بین المذاہب مکالمے اور انتہا پسندانہ و نفرت پر مبنی بیانیوں کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔

حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ کمیٹی کے پہلے سال نے یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان کی مذہبی قیادت نہ صرف مذہبی امور بلکہ قومی سلامتی، سماجی استحکام، معاشرتی تعلقات اور پاکستان کے عالمی تشخص کے حوالے سے بھی بامعنی کردار ادا کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے اس امر کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ دنیا کے لیے پاکستان کا پیغام اسلام کی حقیقی تعلیمات، یعنی امن، برداشت، رحمت، انسانی وقار اور بقائے باہمی کا پیغام ہو۔حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے بریفنگ کے دوران کہا، “دوستوں اور حتیٰ کہ ہم سے اختلاف رکھنے والوں نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کی مذہبی قیادت نے اسلام کے پُرامن پیغام کی حقیقی نمائندگی کی ہے۔

حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ کمیٹی پیغامِ پاکستان کے تحت طے پانے والے اصولوں کو پاکستانی معاشرے میں عملی اقدامات کی شکل دینے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔کمیٹی کے ایجنڈے میں بین المسالک اور بین المذاہب مکالمے کو مضبوط بنانا، نفرت انگیز تقاریر اور انتہا پسندانہ پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنا، سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینا، اقلیتوں اور عبادت گاہوں کا تحفظ اور نوجوانوں کو تشدد و فرقہ وارانہ نفرت مسترد کرنے کی ترغیب دینا شامل ہے۔حالیہ اقدامات میں غیر مسلموں کے حقوق، بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنسوں، امن سیمینارز اور حساس مذہبی مواقع کے لیے مربوط تیاریوں کے حوالے سے ملک گیر مذہبی پیغام رسانی شامل ہے۔

حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے وزیراعظم محمد شہباز شریف، وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں، سکیورٹی اداروں اور مذہبی قیادت کا کمیٹی کے پہلے سال کے دوران اس کے کام میں تعاون پر شکریہ ادا کیا۔انہوں نے ملک کی اعلیٰ عسکری قیادت، بالخصوص چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، اور سکیورٹی اداروں کی رہنمائی اور تعاون کو بھی امن و استحکام کے مشترکہ مقصد کو آگے بڑھانے میں اہم قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کی کامیابیوں کو اختتام نہیں بلکہ ایک طویل المدتی قومی کوشش کے آغاز کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

مستقبل کے حوالے سے حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی ایسی پاکستان کی تعمیر میں مدد کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کرے گی جہاں امن، برداشت، مذہبی ہم آہنگی، باہمی احترام اور سماجی یکجہتی معاشرے کی نمایاں خصوصیات بن جائیں۔انہوں نے کہا کہ کسی فرد یا گروہ کو مذہب کے نام پر ذاتی، فرقہ وارانہ یا سیاسی مفادات کے لیے شہریوں کو خوف زدہ کرنے یا ان کا استحصال کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ محراب و منبر نے گزشتہ ایک سال کے دوران اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے، اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ علماء اور مذہبی رہنما آنے والے برسوں میں اس سے بھی زیادہ مضبوط کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اختتام کیا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی قومی سطح سے صوبائی اور نچلی سطح تک پُرامن اور روادار پاکستان کے فروغ کے لیے اپنا کام جاری رکھے گی۔پاکستان ہمیشہ متحد اور مضبوط رہے گا، اور ان شاء اللہ امن، برداشت اور مذہبی ہم آہنگی کا پیغام پورے ملک میں مزید مضبوط ہوتا رہے گا۔لہٰذا قومی پیغامِ امن کمیٹی کا پہلا سال مذہبی ہم آہنگی کے اعلانات سے آگے بڑھتے ہوئے مذہبی رہنماؤں، اقلیتی نمائندوں، حکومتوں اور سکیورٹی اداروں کی اجتماعی عملی کوشش کی جانب ایک اہم منتقلی کی علامت ہے جس کا مقصد امن، برداشت اور قومی اتحاد کو پاکستان کے سماجی ڈھانچے کی مستقل خصوصیت بنانا ہے۔