وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ سے روانڈا کی پاکستان میں ہائی کمشنر ہریریمانا فاتو (H.E. Harerimana Fatou) نے ملاقات کی۔ ملاقات میں روانڈا ہائی کمیشن کے فرسٹ سیکرٹری کویبُوکا ایسڈراس (Kwibuka Esdras) بھی موجود تھے۔ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے سینئر حکام جن میں ڈائریکٹر جنرل عبدالسمیع اور ڈائریکٹر عرفان مروت شامل تھے، نے بھی ملاقات میں شرکت کی۔
وفاقی وزیر بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ کی روانڈا کے ساتھ تجارتی و سرمایہ کاری روابط مزید مستحکم کرنے کے عزم کی یقین دہانی

مزید خبریں
اسلام آباد۔10ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ سے روانڈا کی پاکستان میں ہائی کمشنر ہریریمانا فاتو (H.E. Harerimana Fatou) نے ملاقات کی۔ ملاقات میں روانڈا ہائی کمیشن کے فرسٹ سیکرٹری کویبُوکا ایسڈراس (Kwibuka Esdras) بھی موجود تھے۔ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے سینئر حکام جن میں ڈائریکٹر جنرل عبدالسمیع اور ڈائریکٹر عرفان مروت شامل تھے، نے بھی ملاقات میں شرکت کی۔وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے روانڈا کی ہائی کمشنر کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان اور روانڈا کے درمیان دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی تعاون کو مزید فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان روانڈا کے ساتھ اپنے اقتصادی روابط کو اہمیت دیتا ہے اور روانڈا کے سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔روانڈا کی ہائی کمشنر نے وفاقی وزیر کا ان کے مصروف شیڈول میں سے وقت نکال کر ملاقات کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ وفاقی وزیر سے اس سے قبل بھی دو سے زائد مرتبہ ملاقات کر چکی ہیں اور ان مسلسل روابط کے باعث انہیں پاکستان میں اپنائیت اور گھر جیسا احساس ہوتا ہے۔ہائی کمشنر نے وفاقی وزیر کو روانڈا-پاکستان سرمایہ کاری فورم میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی جو 23 سے 25 ستمبر 2026ء کو کیگالی، روانڈا میں منعقد ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر تجارت سے مشاورت کے بعد اس پروگرام کو سرمایہ کاری فورم کا نام دیا گیا ہے کیونکہ اس کا دائرہ کار وسیع ہے اور اس میں دونوں ممالک کے نجی شعبوں کو بڑے پیمانے پر شامل کرنے پر توجہ دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ روانڈا پاکستان کے نجی شعبے کے ساتھ مزید مضبوط روابط کا خواہاں ہے، بالخصوص ادویہ سازی، ٹیکسٹائل اور دیگر اہم شعبوں میں پاکستانی کاروباری اداروں کے ساتھ تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے ہائی کمشنر سے دریافت کیا کہ ان کی پاکستان میں تعیناتی کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں کس حد تک بہتری آئی ہے۔ اس پر ہائی کمشنر نے بتایا کہ روانڈا اور پاکستان کے درمیان کاروباری سرگرمیوں میں 55 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان مزید تجارتی اور سرمایہ کاری تعاون کے وسیع امکانات کی عکاسی کرتا ہے۔ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کے درمیان مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کے امکان پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل بورڈ آف انویسٹمنٹ عبدالسمیع نے بتایا کہ مفاہمت کی یادداشت مستقبل کی شراکت داری کے لیے ایک باقاعدہ فریم ورک فراہم کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے ذریعے دونوں ممالک کے اداروں کو ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے، باہمی روابط بڑھانے اور سرمایہ کاری کے مواقع کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع ملے گا۔فریقین نے مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے (Bilateral Investment Treaty) کے امکانات کا بھی جائزہ لینے پر اتفاق کیا تاکہ سرمایہ کاری کے لیے مزید مضبوط قانونی اور ادارہ جاتی بنیاد فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ اور روانڈا کی ہائی کمشنر نے اس امر پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور روانڈا کے لیے ایک دوسرے کی ضروریات، ترجیحات اور سرمایہ کاری کے مواقع کو بہتر طور پر سمجھنا ضروری ہے۔ دونوں جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ ایسے شعبوں کی نشاندہی کی جائے جہاں دونوں ممالک کی معیشتیں ایک دوسرے کے لیے مفید ثابت ہو سکیں اور باہمی فائدے کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ملاقات میں دونوں ممالک کے متعلقہ سرمایہ کاری بورڈز اور اداروں کے درمیان باقاعدہ روابط کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔
ڈائریکٹر جنرل عبدالسمیع نے تجویز دی کہ دونوں ممالک کے سرمایہ کاری سے متعلق اداروں کے درمیان آن لائن اجلاسوں کا سلسلہ شروع کیا جا سکتا ہے جس کے ذریعے ادارہ جاتی تعاون، تجربات کے تبادلے اور سرمایہ کاری کے مواقع کی نشاندہی کو فروغ دیا جائے گا۔روانڈا کی ہائی کمشنر نے بتایا کہ روانڈا کافی اور چائے کی پیداوار کے حوالے سے اہم ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان روانڈا سے کچھ چائے براہِ راست درآمد کرتا ہے، تاہم بڑی مقدار کینیا کے ذریعے پاکستان پہنچتی ہے، حالانکہ چائے روانڈا میں پیدا ہوتی ہے۔ہائی کمشنر نے پاکستان اور روانڈا کے درمیان براہ راست چائے کی درآمد کو فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کراچی کی چائے کی صنعت سے وابستہ متعلقہ ایسوسی ایشن کے ساتھ ملاقات کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ روانڈا کا ایک وفد اکتوبر 2026ء میں پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ پاکستانی کاروباری برادری کے ساتھ براہِ راست روابط قائم کیے جا سکیں۔ہائی کمشنر نے روانڈا کے ایک خشکی میں گھرے ہوئے ملک (Landlocked Country) ہونے کے باعث درپیش تجارتی و لاجسٹک مشکلات سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ روانڈا سمندری راستے سے تجارت کے لیے بڑی حد تک کینیا کی بندرگاہ استعمال کرتا ہے، جبکہ بینکنگ چینلز کے ذریعے رقوم کی منتقلی اور تجارت میں درمیانی کردار رکھنے والے عناصر بھی بعض اوقات مشکلات کا باعث بنتے ہیں۔
وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے روانڈا کے وفد کو یقین دلایا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست تجارتی و کاروباری روابط کے فروغ اور درپیش مسائل کے حل کے لیے مکمل سہولت کاری فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ چیمبرز آف کامرس، کاروباری تنظیموں اور نجی شعبے کے نمائندگان کے ساتھ ملاقاتیں اور روابط بھی ترتیب دیے یا ان میں سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ افریقی مارکیٹ پاکستانی کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے بے پناہ مواقع رکھتی ہے اور پاکستان کو افریقی ممالک کے ساتھ براہِ راست کاروباری روابط کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ روانڈا کے ساتھ تعاون کے ذریعے پاکستان افریقہ میں اپنی تجارتی اور سرمایہ کاری موجودگی کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔ہائی کمشنر نے بتایا کہ روانڈا کو پاکستان سے چاول، ادویات، طبی آلات، ٹیکسٹائل، کھیلوں کا سامان اور دیگر مصنوعات کی درآمد میں دلچسپی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان براہِ راست روابط میں اضافہ دوطرفہ تجارت کو نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے۔وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے روانڈا کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دیتے ہوئے یقین دلایا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ روانڈا کے ساتھ مستقبل کے تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ہر ممکن سہولت کاری جاری رکھے گا۔
وفاقی وزیر نے روانڈا کی ہائی کمشنر کو اپنے حلقہ انتخاب کے دورے کی دعوت بھی دی۔ انہوں نے چنیوٹ میں فاسٹ نیشنل یونیورسٹی کے دورے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی روابط، ادارہ جاتی تعاون اور طلبہ کے تبادلے جیسے اقدامات پر بھی مستقبل میں غور کیا جا سکتا ہے۔ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانے، نجی شعبے کے درمیان براہ راست رابطے بڑھانے اور باقاعدہ مشاورت کے ذریعے پاکستان اور روانڈا کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات کو عملی شراکت داری میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ پاکستان اور روانڈا کے درمیان باہمی مفاد پر مبنی تجارتی و سرمایہ کاری تعاون کو فروغ دینے کے لیے مکمل تعاون اور سہولت کاری فراہم کرتا رہے گا۔








