ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے یونیورسٹیوں کو ڈیجیٹل طور پر تیار کرنے اور اعلیٰ تعلیم میں مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) کو شامل کرنے پر ایک تفصیلی مشاورت کی تاکہ جدید ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے مکمل فائدہ اٹھایا جا سکے۔
ایچ ای سی کی اعلیٰ قیادت کی یونیورسٹیوں کو ڈیجیٹل طور پر تیار کرنے اور اعلیٰ تعلیم میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے پر تفصیلی مشاورت

مزید خبریں
اسلام آباد۔10ستمبر (اے پی پی):ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے یونیورسٹیوں کو ڈیجیٹل طور پر تیار کرنے اور اعلیٰ تعلیم میں مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) کو شامل کرنے پر ایک تفصیلی مشاورت کی تاکہ جدید ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے مکمل فائدہ اٹھایا جا سکے۔دنیا بھر میں اعلیٰ تعلیم کے منظر نامے کو تبدیل کرنے میں مصنوعی ذہانت کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نیاز احمد اختر کی سربراہی میں سینئر مینجمنٹ کمیٹی نے اعلیٰ تعلیم کی بدلتی ہوئی ضروریات، کیمپس کی زندگی، اور اداروں کی آپریشنل اور بنیادی ڈھانچے کی صلاحیتوں کے مطابق ضروری اقدامات پر غور کیا۔ اس نشست کی نمایاں خصوصیت ہواوے گلوبل ایجوکیشن ڈویژن کے نائب صدر اور چیف ٹیکنالوجی آفیسر مینگ گینچانگ کی خصوصی پریذنٹیشن تھی۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن کی قیادت نے مقامی حالات، موجودہ نظام کی مضبوطی اور کمیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یونیورسٹیوں کی ڈیجیٹل تیاری کے لیے ایک حکمت عملی اور لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مرحلہ وار ترقیاتی نقطہ نظر کی ضرورت پر زور دیا جس میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور ابتدائی تجربات، نظام کی توسیع اور انضمام، اور نظام کو پائیدار اور جدید بنانا شامل ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل انضمام کی حکمت عملیوں پر عمل درآمد کے مواقع اور چیلنجز کی نشاندہی کی اور بنیادی کورسز، جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کورسز، ایپلی کیشن ڈویلپمنٹ کورسز، اور تصدیقی سند (سرٹیفیکیشن) کورسز کے ذریعے تعلیمی پروگراموں میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے پر بھی بحث کی۔ ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے عالمی سطح پر اس شعبے میں ہونے والی پیش رفت سے ہم آہنگ رہنے کے لیے اعلیٰ تعلیم میں ڈیجیٹل اپ گریڈیشن کی مسلسل کوششوں پر زور دیا۔
انہوں نے مصنوعی ذہانت کی بہتر آگاہی کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچے کو ڈیجیٹل بنانے کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کی تعلیم و تربیت، نصابی تبدیلیوں اور مالی ضروریات کے حتمی نتائج حاصل کرنے کے لیے مؤثر نشستوں اور رابطوں کی ہدایت کی۔ مینگ گینچانگ نے ڈیجیٹل پیش رفت اور مصنوعی ذہانت سے مختلف صنعتوں پر مرتب ہونے والے اثرات کی تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت زیادہ تر صنعتوں کے بنیادی پیداواری نظام میں مرکزی حیثیت حاصل کر چکی ہے جن میں وئیر ہائوسز، حکومت، پٹرول پمپ، ٹریفک کے نظام، گاڑیاں، لوجسٹکس، ڈیزائننگ، مینوفیکچرنگ، توانائی، تفریح، ہوائی اڈے، صحت کی دیکھ بھال کے نظام، دیکھ بھال و مرمت، ریٹیل، اور کسٹمر سروس شامل ہیں۔ گینچانگ نے اس بات کی تصدیق کی کہ مصنوعی ذہانت اعلیٰ تعلیم سے وابستہ صلاحیتوں (ٹیلنٹ) پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنا انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے ترجیحات کے تعین، اہداف کے حصول اور جہاں ضرورت ہو وہاں تبدیلیاں کر کے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ترقی کے لیے چین کے اختیار کردہ طریقہ کار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہواوے نے جدت کے ذریعے صارفین اور معاشرے کے لیے زیادہ فائدہ مند تخلیق کرنے کی خاطر تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ) میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سال 2035ء مصنوعی ذہانت سے متحرک ایک ذہین دنیا کا شاہد ہو گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت نے تعلیمی نظام میں کس طرح انقلاب برپا کیا ہے، کیونکہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پیداواری طریقوں میں تبدیلی لا رہی ہیں جس سے صلاحیتوں کی مانگ میں تبدیلیاں آ رہی ہیں۔
پاکستان کی قومی مصنوعی ذہانت پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 40 سے زائد ممالک اور علاقے مصنوعی ذہانت کو اپنے قومی عمومی تعلیمی نظام میں شامل کر رہے ہیں۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی سے پیدا ہونے والے صلاحیتوں کے خلا (تعلیمی نتائج اور معاشرتی ضروریات کے درمیان خلا)، روزگار کے بحران، اور ان چیلنجز کے حل بشمول نئی پیداواری ورک فورس کی تیاری اور طبیعی نظام میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے پر بھی تفصیل سے بات کی۔شرکاء نے ڈیجیٹل دور میں صلاحیتوں کو نکھارنے کے چیلنجز، نصاب کا ایک منظم حل، مصنوعی ذہانت کی آگاہی کا ایک متحد فریم ورک، مصنوعی ذہانت کی صلاحیت میں اضافہ اور سٹریٹجک تبدیلی، اور زیادہ سے زیادہ اثرات کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے موجودہ بنیادی ڈھانچے کے استعمال کے چیلنجز کو بھی غور و خوض کے تحت لایا۔ فورم نے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبے میں چینی یونیورسٹیوں کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کے لیے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کنسورشیم آف یونیورسٹیز کو استعمال کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔








