صوبہ ہزارہ سمیت نئے صوبے وقت کی اہم ضرورت ہیں،سردار محمد یوسف

وفاقی وزیر مذہبی امور و چیئرمین صوبہ ہزارہ تحریک سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ پاکستان میں نئے صوبے بنانا وقت کی ضرورت ہے، صوبہ ہزارہ کے قیام کے حوالے سے اسمبلیوں میں وقتاً فوقتاً قراردادیں پیش ہوتی رہی ہیں

اسلام آباد۔10ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر مذہبی امور و چیئرمین صوبہ ہزارہ تحریک سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ پاکستان میں نئے صوبے بنانا وقت کی ضرورت ہے، صوبہ ہزارہ کے قیام کے حوالے سے اسمبلیوں میں وقتاً فوقتاً قراردادیں پیش ہوتی رہی ہیں، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاملے پر باضابطہ قومی سطح پر بحث کی جائے اور اختیارات کے ساتھ چھوٹے انتظامی یونٹس قائم کئے جائیں تاکہ عوام کو ان کی دہلیز پر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔وہ ہزارہ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں "صوبوں اور انتظامی یونٹس سے متعلق قومی مباحثہ” سے خطاب کر رہے تھے۔ مباحثے میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، اراکین پارلیمنٹ، صحافیوں، دانشوروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی اور نئے صوبوں و انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔سردار محمد یوسف نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ صوبہ ہزارہ قائم ہونا چاہئے، ہم اقتدار میں ہوں یا نہ ہوں، صوبہ ہزارہ کے قیام کی تحریک چلاتے رہے ہیں اور آئندہ بھی اس کے لئے آواز بلند کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان میں ڈویژن اور دیگر انتظامی یونٹس قائم کئے جا سکتے ہیں تو نئے صوبے کیوں نہیں بن سکتے؟ ہم بہتر انتظامی نظام اور عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے سے عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں گے، اس لئے چھوٹے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے کو سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر قومی مفاد میں زیر بحث لانا چاہئے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین سینیٹر طلحہ محمود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ طویل عرصے سے صوبہ ہزارہ کے قیام کے حوالے سے آواز اٹھاتے رہے ہیں اور 2010ء میں بھی سینیٹ میں اس معاملے کو اٹھایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ ہزارہ کے قیام پر ایک طویل عرصے سے بات ہو رہی ہے، اس مسئلے کو مزید نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے۔سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت اگر 400 ارب روپے دیئے جاتے ہیں تو یہ بھی دیکھا جانا چاہئے کہ ان میں سے کتنی رقم اضلاع اور تحصیلوں تک پہنچ رہی ہے۔ ۔سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے کہا کہ نئے صوبوں کا قیام اس وقت پاکستان کی ضرورت ہے، صوبائی اسمبلیاں اس حوالے سے متفقہ قراردادیں منظور کر چکی ہیں، اس کے باوجود معاملے کو روک کر رکھا گیا ہے۔محمد علی درانی نے کہا کہ نئے صوبوں کا قیام پاکستان کے مفاد کی بات ہے، ۔انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ اسمبلی سے قرارداد منظور ہونے کے بعد وہ محض نظرانداز کرنے سے ختم نہیں ہو جاتی، اگر کسی قرارداد کو ختم کرنا مقصود ہو تو اس کے خلاف باقاعدہ قرارداد منظور کرنا ضروری ہے۔تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شہزادہ گستاسپ خان نے کہا کہ ہر تحریک کے پیچھے ایک واضح مقصد ہونا چاہئے اور صوبوں کا قیام بنیادی طور پر ایک انتظامی معاملہ ہے، بہتر گورننس کے لئے انتظامی یونٹ جتنا چھوٹا ہوگا، اسے اتنا ہی بہتر انداز میں چلایا جا سکے گا،صوبہ ہزارہ کا مطالبہ کسی نفرت یا تعصب کی بنیاد پر نہیں بلکہ بہتر انتظامی نظام اور عوامی سہولیات کے لئے ہے۔استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما اور پارلیمانی سیکرٹری برائے مواصلات گل اصغر خان نے کہا کہ ان کی جماعت میں بھی نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے تفصیلی بحث ہو چکی ہے اور یہ کام بہت پہلے ہو جانا چاہئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی بھی دیر نہیں ہوئی، پاکستان میں نئے صوبے بنائے جا سکتے ہیں۔انہوں نے مختلف ممالک کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک نے بہتر انتظامی نظام کے لئے متعدد ریاستیں اور انتظامی یونٹس قائم کیے ہیں۔ اگر انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹس بنائے جائیں تو اس میں نقصان کیا ہے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نئے صوبوں کے قیام کے عمل کو جلد از جلد آگے بڑھایا جائے۔قومی مباحثے میں نظامت کے فرائض ہزارہ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر لقمان شاہ اور جنرل سیکرٹری نوید الرحمان نے انجام دئیے۔ تقریب سے رکن صوبائی اسمبلی سونیا شاہ، سینئر صحافی عمار مسعود، ایم کیو ایم کے صفیان چیمہ ایڈووکیٹ، پروفیسر سجاد قمر، جنید قاسم اور سردار یاسر کڑلال نے بھی خطاب کیا۔شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان میں انتظامی امور کو بہتر بنانے، وسائل کی منصفانہ تقسیم، عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور حکمرانی کو مؤثر بنانے کے لئے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی سطح پر زیر بحث لایا جانا چاہئے۔