سیکرٹری ریلیف، بحالی و آبادکاری خیبر پختونخوا سہیل خان نے جمعرات کو ریسکیو 1122 اسٹیشن نوشہرہ کا اچانک دورہ کیا جہاں انہوں نے ریسکیو سروس کی آپریشنل تیاری، عملے کی کارکردگی، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت اور فیلڈ ریڈینس کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر نوشہرہ ملک اشفاق نے سیکرٹری ریلیف کو ضلع بھر میں ریسکیو 1122 کی مجموعی سرگرمیوں، سروسز اور کوریج کے حوالے …
سیکرٹری ریلیف خیبر پختونخوا کا ریسکیو 1122 اسٹیشن نوشہرہ کا اچانک دورہ

مزید خبریں
پشاور۔ 10 ستمبر (اے پی پی):سیکرٹری ریلیف، بحالی و آبادکاری خیبر پختونخوا سہیل خان نے جمعرات کو ریسکیو 1122 اسٹیشن نوشہرہ کا اچانک دورہ کیا جہاں انہوں نے ریسکیو سروس کی آپریشنل تیاری، عملے کی کارکردگی، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت اور فیلڈ ریڈینس کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر نوشہرہ ملک اشفاق نے سیکرٹری ریلیف کو ضلع بھر میں ریسکیو 1122 کی مجموعی سرگرمیوں، سروسز اور کوریج کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
سیکرٹری ریلیف کو بتایا گیا کہ ریسکیو 1122 نوشہرہ میں 329 اہلکار 9 اسٹیشنز کے ذریعے ہنگامی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے ساتھ ریسکیو 1122 کی کوآرڈینیشن کو بھی تسلی بخش اور مؤثر قرار دیا گیا۔ دورے کے دوران سیکرٹری ریلیف نے دریائی علاقوں کے قریب واقع کمزور اور خطرے سے دوچار گھروں، بالخصوص کچے مکانات کا سروے فوری طور پر شروع کرنے کی ہدایت کی تاکہ ممکنہ حادثات اور چھتیں گرنے کے خطرات سے بروقت نمٹا جا سکے۔
ڈی ای او نوشہرہ نے سروے تقریباً 15 دن میں مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔سیکرٹری ریلیف نے ریسکیو 1122 کے تمام اسٹیشنز میں جم کی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی اور اسٹیشن کے عملے کی جانب سے اپنی مدد آپ کے تحت شروع کیے گئے اقدام کو سراہا۔ اسی طرح تمام اضلاع میں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی افسران کے لیے سرکاری رہائش/ہاؤس اسٹے کی سہولت سے متعلق کیس آگے بڑھانے کی بھی ہدایت کی گئی۔ سیکرٹری ریلیف نے اسٹیشن میں عملے کی حاضری، حاضری رجسٹر، اسٹور روم اور ابتدائی طبی امداد کی ادویات کا بھی معائنہ کیا اور دریائے کابل میں عارضی واٹر ریسکیو پوائنٹس کے آپریشنز کےلیے موجود انفلٹیبل ریسکیو بوٹ کا مشاہدہ کیا۔
اس موقع پر تربیت یافتہ رضاکار بھی ریسکیو ٹیم کے ہمراہ فرائض انجام دے رہے تھے۔ سیکرٹری سہیل خان نے ریسکیو 1122 کے اہلکاروں کی فرض شناسی، پیشہ ورانہ صلاحیت اور عوامی تحفظ کے لیے مسلسل خدمات کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ دریائی علاقوں کے قریب رہائش پذیر شہریوں میں بھرپور آگاہی پیدا کی جائے اور انہیں خطرناک دریائی مقامات کا رخ کرنے سے روکا جائے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ عوامی آگاہی اور کمیونٹی انگیجمنٹ کو کسی بھی صورت نظرانداز نہ کیا جائے اور شہریوں کے ساتھ ہمدردی، خلوص اور ذمہ داری کے ساتھ رابطہ رکھا جائے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔








