نامور شاعراور صحافی صابر ظفر کی سالگرہ ہفتہ کو منائی گئی

نامور شاعراور صحافی صابر ظفر کی سالگرہ ہفتہ کو منائی گئی

اسلام آباد۔12ستمبر (اے پی پی):نامور شاعراور صحافی صابر ظفر کی سالگرہ ہفتہ 12 ستمبر کو منائی گئی۔ صابر ظفر 12 ستمبر 1949کو کہوٹہ، راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے شاعری کی ابتدا 1968سے کی۔ صابر ظفر نے دوسال بذریعہ ڈاک رئیس امروہوی سے اصلاح بھی لی اور ماہنامہ اپنی زمین میں کچھ عرصہ بطور معاون مدیر کام کیا ۔صابر ظفر عہد حاضر کے ایک اہم غزل گو شاعر ہیں۔ ان کی شاعری میں دو مختلف جہتیں ہیں۔

روایتی غزل ان کا بنیادی حوالہ ہے اور گیت نگاری میں بھی انہیں یدِ طولیٰ حاصل ہے۔صابر ظفر غزل کی روایت کو مضبوط کرنے والے عہد حاضر کے شعرا میں ایک نمایاں شاعر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ ان کی شاعری میں زندگی اپنی تلخ حقیقتوں کے ساتھ دکھائی دیتی ہے۔ ان کی مشہور تصانیف میں ابتدا،دُھواں اور پھول،پاتال،جتنی آنکھیں اچھی ہوں گی،دریچہ بے صدا کوئی نہیں،لہو ترنگ،دُکھوں کی چادر،بارہ دری میں شام،عشق میں روگ ہزار،ایک تری یاد رہ گئی باقی،بے آہٹ چلی آتی ہے موت،چین اک پل نہیں،اپنے رنگوں میں ڈوب جانے والے،محبت کا نیل کنٹھ،کوئی لو چراغ قدیم کی،نامعلوم،پرندوں کی طرح شامیں،محبت دور کی آواز تھی،سانول موڑ مہاراں،زنداں میں زندگی امر ہے

،خاموش بدن کی خود کلامی،ہر چیز کلام کر رہی ہے،ستارہ وار سخن،آئینوں کی راہداریاں،اباسین کے کنارے،غزل خطاطی،صندل کی طرح سلگتے رہنا،سب اپنے خیال کی دھنک،غزل اندر غزل،گردش مرثیہ،پلکوں میں پروئی ہوئی رات،سر بازار می رقصم،جمال ماورائے جسم و جاں،رانجھا تخت ہزارے کا،اساطیر کم نما،آوارگی کے پر کھلے،غزل نے کہا،لہو سے دستخط،شہادت نامہ اور مذہب عشق (کلیات) شامل ہیں۔ ان کی سالگرہ کے موقع پر ادبی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے انہیں بھر پور خراج تحسین پیش کیا گیا۔