بی 2 بی کانفرنس پاکستانی اور چینی کاروباری اداروں کے درمیان براہِ راست روابط کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے، خلیل ہاشمی

بی 2 بی کانفرنس پاکستانی اور چینی کاروباری اداروں کے درمیان براہِ راست روابط کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے، خلیل ہاشمی

بیجنگ۔13ستمبر (اے پی پی):پاکستان اور چین نے جدید مینوفیکچرنگ، مصنوعی ذہانت (اے آئی ) اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر سمیت اہم شعبوں میں کاروباری روابط اور تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ عزم بیجنگ میں چائنا انٹرنیشنل فیئر فار ٹریڈ اِن سروسز (CIFTIS) 2026 کے موقع پر منعقدہ پاکستان-چین B2B کانفرنس کے دوران ظاہر کیا گیا۔ کانفرنس کا موضوع “Win-Win Partnerships,” تھا، جس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام، کاروباری رہنمائوں اور نجی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔

کانفرنس میں سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور تجارتی تعاون کے نئے مواقع تلاش کیے گئے۔ اس موقع پر چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کانفرنس پاکستانی اور چینی کاروباری اداروں کے درمیان براہِ راست روابط کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ یہ کانفرنس چین میں پاکستانی سفارتخانے اور IBI Guolian Gufen کے اشتراک سے منعقد ہوئی جس میں تقریباً 100 افراد نے شرکت کی اور کاروباری روابط اور نیٹ ورکنگ کے حوالے سے بات چیت کی۔ پاکستانی سفیر خلیل ہاشمی نے پاکستانی اور چینی حکام اور کاروباری رہنمائوں کی فعال شرکت کا خیرمقدم کیا اور اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان عملی کاروباری مواقع پیدا کیے جائیں۔

کانفرنس میں بیجنگ میونسپلٹی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل یانگ شو، بیجنگ کمرشل بیورو کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل لی یی، IBI کے ڈائریکٹر اور TDD Global کے بانی لیو جون زیہائی جبکہ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے پیٹرن اِن چیف اور دن گروپ کے چیئرمین ایس ایم تنویر نے شرکت کی۔ کانفرنس میں دونوں ممالک کے باہمی تجارتی مفادات کے شعبوں کی نشاندہی کی گئی اور ٹیکنالوجی پر مبنی ابھرتے ہوئے شعبوں میں شراکت داری کے امکانات کا جائزہ لیا گیا، خاص طور پر جدید مینوفیکچرنگ، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر توجہ دی گئی کیونکہ یہ شعبے عالمی اقتصادی ترقی میں تیزی سے اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور بین الاقوامی سرمایہ کاری و صنعتی تعاون کے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔

شرکا نے ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینے پر بھی تبادلہ خیال کیا تاکہ پاکستان اور چین کی کمپنیاں اپنی صلاحیتوں، مہارت اور مارکیٹ کے مواقع کو یکجا کر سکیں۔ B2B فارمیٹ نے کاروباری نمائندوں کو وسیع دوطرفہ اقتصادی معاملات سے آگے بڑھ کر ممکنہ شراکت داروں، سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں کے ساتھ براہِ راست رابطے کا موقع فراہم کیا۔ پاکستانی سفیر نے شرکا کی فعال شرکت پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسے پلیٹ فارمز پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی و کاروباری روابط کو مزید گہرا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

چائنا انٹرنیشنل فیئر فار ٹریڈ اِن سروسز 2026 کے موقع پر منعقد ہونے والی اس کانفرنس نے پاکستانی کاروباری اداروں کو چین کی تیزی سے پھیلتے ہوئے سروسز اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے منسلک ہونے اور بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ روابط قائم کرنے کا موقع فراہم کیا۔ یہ کانفرنس پاکستان اور چین کے اقتصادی تعلقات میں کاروبار سے کاروبار (B2B) تعاون پر بڑھتی ہوئی توجہ کی عکاسی کرتی ہے۔

دونوں ممالک روایتی شعبوں سے آگے بڑھ کر ٹیکنالوجی، جدت، مینوفیکچرنگ اور ڈیجیٹل سروسز میں تعاون کو وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔ یہ کانفرنس شرکا کے لئے کاروباری نیٹ ورکنگ، شراکت داروں کی تلاش اور ممکنہ سرمایہ کاری و مشترکہ منصوبوں پر تبادلہ خیال کے لیے ایک مرکوز پلیٹ فارم ثابت ہوئی۔

کانفرنس نے اقتصادی تعاون کے اگلے مرحلے میں نجی شعبے کے اہم کردار کو بھی اجاگر کیا جس میں براہِ راست کاروباری شراکت داریاں سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، صنعتی ترقی اور دونوں معیشتوں کے درمیان مزید انضمام میں معاون ثابت ہونے کی توقع ہے۔پاکستان-چین B2B کانفرنس نے دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کو عملی، پائیدار اور باہمی مفاد پر مبنی تجارتی شراکت داریوں میں تبدیل کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کا کردار ادا کیا، جس سے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے درمیان ”Win-Win“ تعاون کے مشترکہ وژن کو مزید تقویت ملی۔