وزیراعظم کی خصوصی ریلیف سکیم حقیقی مستحق افراد کو فوری ریلیف کی فراہمی کا موثر نظام ہے، بڑی گاڑیاں سکیم میں شامل نہیں، موٹر سائیکل، رکشہ، چنگچی اور 800 سی سی تک گاڑیاں مستفید ہوں گی، عطاء اللہ تارڑ
وزیراعظم کی خصوصی ریلیف سکیم حقیقی مستحق افراد کو فوری ریلیف کی فراہمی کا موثر نظام ہے، بڑی گاڑیاں سکیم میں شامل نہیں، موٹر سائیکل، رکشہ، چنگچی اور 800 سی سی تک گاڑیاں مستفید ہوں گی، عطاء اللہ تارڑ

مزید خبریں
اسلام آباد۔14ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم کی خصوصی ریلیف سکیم کا بنیادی مقصد تیل کی قیمتوں میں اضافے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے حقیقی مستحق افراد کو فوری ریلیف فراہم کرنا ہے، سکیم میں بڑی گاڑیوں کو شامل نہیں کیا گیا جبکہ موٹر سائیکل، رکشہ، چنگ چی اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان اس سکیم سے مستفید ہوں گے، سکیم کے لئے پہلی بار شفاف ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا گیا ہے، رجسٹریشن اور فیول کے حصول کا عمل ایس ایم ایس کے ذریعے ہوگا۔ پیرکو یہاں وفاقی وزراء شزہ فاطمہ خواجہ اور علی پرویز ملک کے ہمراہ وزیراعظم فیول ریلیف سکیم کے حوالے سے پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم کی خصوصی ریلیف سکیم کا بنیادی مقصد تیل کی قیمتوں میں اضافے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے حقیقی مستحق افراد کو فوری ریلیف فراہم کرنا ہے۔
اس سکیم سے صرف مستحق افراد ہی مستفید ہوں گے، بڑی گاڑیوں کو اس میں شامل نہیں کیا گیا جبکہ موٹر سائیکل، رکشہ، چنگچی اور 800 سی سی تک کی گاڑیاں اس کے دائرہ کار میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کا نظام پہلی بار متعارف کرایا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے سکیم کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ رجسٹریشن کے لیے موبائل فون سے REG لکھ کر اسپیس کے بعد شناختی کارڈ نمبر، گاڑی کا رجسٹریشن نمبر، متعلقہ صوبے کا کوڈ اور گاڑی کی رجسٹریشن کی تاریخ درج کرکے 9771 پر ایس ایم ایس بھیجنا ہوگا۔ رجسٹریشن کے بعد پٹرول حاصل کرنے کے لیے TOK لکھ کر 9771 پر بھیجنے سے فیول لینے کی اجازت کا پیغام موصول ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سکیم میں شفاف طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے تاکہ صرف حقیقی مستحق افراد ہی اس سے مستفید ہوں۔ وزیراعظم نے تمام متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو سکیم کی موثر نگرانی اور بلا تعطل سہولت کی فراہمی کے لیے 24 گھنٹے دستیاب رہنے کی ہدایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سکیم کی نگرانی کے لیے وار روم قائم جبکہ عوامی رہنمائی کے لیے کال سینٹر بھی فعال کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت اطلاعات و نشریات سکیم سے متعلق عوامی آگاہی کے لیے تمام دستیاب ذرائع ابلاغ بروئے کار لا رہی ہے جبکہ اہل افراد کو ایس ایم ایس کے ذریعے بھی آگاہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے عام آدمی کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے خصوصی ریلیف سکیم کا اجراء کیا جس کی وہ ذاتی طور پر نگرانی کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر چاروں صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹریز کو سکیم کی سٹیئرنگ کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے نائب وزیراعظم کو صوبوں سے مشاورت کی ذمہ داری سونپی اور ہدایت کی کہ پرائس کنٹرول میکنزم اور کمیٹیاں یقینی بنائیں کہ سکیم کے اجرا کے بعد کرایوں میں اضافہ نہ ہو اور چنگچی و رکشہ استعمال کرنے والے مسافروں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف ملے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر کفایت شعاری کے اقدامات جاری ہیں، مارکیٹس اور ریسٹورنٹس مقررہ اوقات پر بند کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہنگامی صورتحال کے دوران اٹھائے گئے کفایت شعاری اور سادگی کے بعض اقدامات جاری ہیں جبکہ دیگر کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ کن اقدامات کو دوبارہ نافذ کرنے کی ضرورت ہے، اس حوالے سے بھی جلد فیصلہ کیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، بہتر ہوتا کہ وہ ماڈل گورننس کی مثالیں پیش کرتی کہ صوبے میں غریب عوام کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی، اعلیٰ معیار کے ہسپتال، یونیورسٹیاں اور تعلیمی ادارے قائم کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پی ٹی آئی کی دھرنوں کی کال کھوکھلی ہے، اس کے پیچھے کوئی واضح مطالبہ نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت کے دوران کوئی ایک ماڈل منصوبہ ہی بتا دے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم کی ایف بی آر اصلاحات کو عالمی بینک اور آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر نے سراہا ہے جبکہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کو بھی عالمی سطح پر پذیرائی مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا دنیا بھر میں احترام کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کو ساڑھے 12 سال ہو چکے ہیں تاہم صوبے میں کوئی ایسا انقلابی اقدام نظر نہیں آتا جسے ماڈل گورننس کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں دانش سکول اور پی کے ایل آئی جیسے منصوبے قائم کیے گئے، دانش سکولوں کے طلبہ آج فورسز میں خدمات انجام دینے کے ساتھ ڈاکٹرز اور انجینئرز بھی بن رہے ہیں جبکہ پی ٹی آئی نے جس میٹرو بس منصوبے کو جنگلہ بس کہا، وہ خود انہوں نے پشاور میں شروع کی۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کھوکھلے نعروں کی کوئی حیثیت نہیں، اگر خیبر پختونخوا میں ساڑھے 12 سالہ دور حکومت کے دوران کوئی مثالی طرز حکمرانی قائم کی گئی ہوتی تو ہم کہتے کہ انہوں نے اپنے صوبے میں اعلیٰ ماڈل گورننس قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پہلے بزدار کو مسلط کیا، پھر محمود خان اور اب سہیل خان آفریدی کو۔ انہوں نے کہا کہ دانش سکول، پی کے ایل آئی اور دیگر اصلاحات کی عالمی سطح پر پذیرائی ہوئی ہے تاہم خیبر پختونخوا حکومت کے گورننس ماڈل کی کوئی ایک نمایاں عالمی کیس سٹڈی بھی سامنے نہیں آئی۔ ایک سوال کے جواب میں عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم نے بجٹ سے قبل وعدہ کیا تھا کہ تنخواہ دار طبقے کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش کی جائے گی جس کے تحت بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لئے ٹیکس سلیبز میں شرح کم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ کم تنخواہ لینے والے ملازمین پر ٹیکس کی شرح ایک فیصد سے بھی کم ہے جبکہ دیگر سلیبز میں بھی نمایاں کمی کی گئی ہے، اس کے علاوہ ایکسپورٹرز نے بھی بجٹ کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام میں رہتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ملکی سطح پر کی جانے والی اصلاحات کو عالمی سطح پر سراہا گیا جس کے نتیجے میں معیشت میں گنجائش پیدا ہوئی اور اس کا ریلیف نچلی سطح تک منتقل کیا جا سکا۔ ایک اور سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ جنگی صورتحال کے باعث جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہونے سے آر ایل این جی کی سپلائی بھی متاثر ہوئی جس کے باعث ہونے والی بجلی کی لوڈشیڈنگ کو وزیراعظم کی ہدایت پر زیادہ سے زیادہ دو گھنٹے تک محدود کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ عرصے کے دوران بجلی کے شعبے میں ہونے والی اصلاحات تاریخی نوعیت کی ہیں اور مزید لوڈشیڈنگ نہیں بڑھنے دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کا معاملہ حل کرکے گنجائش پیدا کی گئی ہے اور اب بھی پاور سیکٹر میں اصلاحات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے سولر کے معاملے پر ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے اس بحث کو منطقی انجام تک پہنچایا جبکہ اب توجہ پاور سیکٹر اصلاحات پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بحران کے خاتمے کے ساتھ ہی بجلی کے شعبے میں مزید بہتری آئے گی۔








