وفاقی وزیر احسن اقبال کا ڈیجیٹل معیشت اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط بنانے پر زور

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل معیشت پیداوار، تجارت، طرز حکمرانی اور انسانی ترقی کا اہم محرک بن چکی ہے جبکہ ایس سی او خطے کے لئے تیز رفتار ترقی، معیاری روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ترقیاتی خلا ء کم کرنے کا یہ ایک بڑا موقع ہے۔

ارومچی، سنکیانگ۔14ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل معیشت پیداوار، تجارت، طرز حکمرانی اور انسانی ترقی کا اہم محرک بن چکی ہے جبکہ ایس سی او خطے کے لئے تیز رفتار ترقی، معیاری روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ترقیاتی خلا ء کم کرنے کا یہ ایک بڑا موقع ہے۔وفاقی وزیر نے ان خیالات کا اظہار پیر کو ارومچی میں ایس سی او ڈیجیٹل اکانومی فورم 2026 میں ڈیجیٹل معیشت میں ایس سی او تعاون سے متعلق وزارتی سطح کے بند کمرہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ احسن اقبال چین کے سرکاری دورے پر ہیں جہاں وہ فورم میں شرکت کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ڈیجیٹل تبدیلی کو اپنے قومی ترقیاتی ایجنڈے کا مرکزی حصہ بنایا ہے جبکہ’’ای-پاکستان‘‘اڑان پاکستان‘‘ کے پانچ بنیادی ستونوں میں شامل ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025، پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی اور نیشنل اے آئی پالیسی کو ڈیجیٹل عوامی خدمات، ڈیٹا پر مبنی پالیسی سازی اور ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لئے اہم اقدامات قرار دیا۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبے میں چین کے ساتھ تعاون کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، خصوصاً سی پیک جوائنٹ ورکنگ گروپ برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و انڈسٹری اور چین-ایس سی او پاکستان مصنوعی ذہانت ایپلی کیشن کوآپریشن سینٹر کے ذریعے تعاون کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان پلیٹ فارمز کے ذریعے مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سکیورٹی، تحقیق اور مہارتوں کی ترقی کے شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔وفاقی وزیر نے ’’ایس سی او ڈیجیٹل کنکٹیویٹی اینڈ کمپیوٹ کوریڈور‘‘ کے قیام کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس میں سرحد پار فائبر لنکس، مضبوط اور محفوظ نیٹ ورکس، ڈیٹا سینٹرز، سیٹلائٹ کنکٹیویٹی اور باہمی طور پر مربوط کلاؤڈ و کمپیوٹنگ وسائل کو شامل کیا جائے۔انہوں نے زور دیا کہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر سے صرف حکومتوں ہی نہیں بلکہ جامعات، اسٹارٹ اپس، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار، خواتین، نوجوانوں اور دور دراز علاقوں میں رہنے والی آبادی کو بھی فائدہ پہنچنا چاہئے۔ احسن اقبال نے ڈیجیٹل تعاون میں اعتماد کے فروغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پرائیویسی، سائبر سکیورٹی، احتساب، شفاف ڈیٹا تک رسائی اور قومی خودمختاری کے احترام کو یقینی بنانا ضروری ہے۔انہوں نے ’’ایس سی او خودمختار اے آئی انفراسٹرکچر اینڈ گورننس فریم ورک‘‘ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے رکن ممالک کی قومی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان، “Turning Vision into Action: Connectivity, Innovation and Shared Prosperity” کے عنوان کے تحت ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی صدارت سنبھالتے ہوئے ڈیجیٹل معیشت میں ایس سی او تعاون کو باقاعدہ وزارتی مکالمے، تکنیکی رابطہ کاری اور نتیجہ خیز منصوبوں کے ذریعے ادارہ جاتی شکل دینے کی حمایت کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایس سی او تعاون کی کامیابی کا حتمی پیمانہ ٹھوس نتائج ہونے چاہئیں جن میں تیز تر تجارت، مضبوط صنعتیں، بہتر عوامی خدمات، ہنرمند افرادی قوت اور وسیع تر ڈیجیٹل مواقع شامل ہیں۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان ایس سی او کے رکن ممالک کے ساتھ مل کر رابطہ کاری، جدت اور باہمی اعتماد کو مشترکہ ڈیجیٹل خوشحالی میں تبدیل کرنے کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔