فیڈرل بورڈآف ریونیو(ایف بی آر)نے کہاہے کہ ساتویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت ایف بی آر کے کلیکشن چارجز دو فیصد نہیں بلکہ ایک فیصد ہیں، 2010 میں ایف بی آر کے کلیکشن چارجز پانچ فیصد سے کم کرکے ایک فیصد کئے گئے تھے
ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت ایف بی آر کے کلیکشن چارجز دو فیصد نہیں بلکہ ایک فیصد ہیں،ترجمان ایف بی آر

مزید خبریں
اسلام آباد۔14ستمبر (اے پی پی):فیڈرل بورڈآف ریونیو(ایف بی آر)نے کہاہے کہ ساتویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت ایف بی آر کے کلیکشن چارجز دو فیصد نہیں بلکہ ایک فیصد ہیں، 2010 میں ایف بی آر کے کلیکشن چارجز پانچ فیصد سے کم کرکے ایک فیصد کئے گئے تھے۔ ایف بی آر کے ترجمان نے سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ایکس پرخیبرپختونخوا کے مشیرخزانہ کی جانب سے جاری اعدادوشمار پر اپنے ردعمل میں وضاحت کرتے ہوئے کہاہے کہ کلیکشن چارجز ایف بی آر کی مجموعی ٹیکس وصولیوں پر نہیں بلکہ مجموعی قابلِ تقسیم محاصل پر عائد ہوتے ہیں، گزشتہ مالی سال کے اعداد و شمار کو بنیاد بنایا جائے تو ایک فیصد کلیکشن چارجز کی مالیت 260 ارب روپے نہیں بلکہ تقریبا 125 سے 130 ارب روپے بنتی ہے ۔ترجمان نے بتایاکہ کہا کہ تمام صوبوں کے اتفاق رائے سے طے پانے والے ساتویں این ایف سی ایوارڈ اور آئین کے آرٹیکل160 کےتحت ایک فیصد کٹوتی وفاقی حکومت کی جانب سے قابل تقسیم محاصل کی تقسیم سے قبل کی جاتی ہے اور یہ رقم وفاق کے پاس برقرار رہتی ہے ،یہ رقم ایف بی آر کو بطور فیس ادا نہیں کی جاتی ۔ترجمان نے کہاکہ ایف بی آر کا اپنا بجٹ ہر سال پارلیمنٹ کی جانب سے الگ سے منظور کیا جاتا ہے اور اس کی تفصیلات مطالباتِ زر میں شامل ہوتی ہیں۔








