عوام کو درپیش دیرینہ چیلنجز پر قابو پانے کے لیے جمہوریت ناگزیر ہے ، ا پرامن، مستحکم اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کے لیے مضبوط جمہوری ادارے ضروری ہیں۔صدر مملکت آصف علی زرداری کا جمہوریت کے عالمی دن پر پیغام
عوام کو درپیش دیرینہ چیلنجز پر قابو پانے کے لیے جمہوریت ناگزیر ہے ، ا پرامن، مستحکم اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کے لیے مضبوط جمہوری ادارے ضروری ہیں۔صدر مملکت آصف علی زرداری کا جمہوریت کے عالمی دن پر پیغام

مزید خبریں
اسلام آباد۔15ستمبر (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے عوام کو درپیش دیرینہ چیلنجز پر قابو پانے کے لیے جمہوریت کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریت کی اصل طاقت عوام کے اعتماد اور شرکت میں مضمر ہے ،ایک پرامن، جامع، مستحکم اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کے لیے مضبوط جمہوری ادارے ضروری ہیں۔ 15 ستمبر کو منائے جانے والے جمہوریت کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ جمہوریت کے عالمی دن کے موقع پر ہم ان اصولوں کے لیے اپنی وابستگی کا اعادہ کرتے ہیں جو جمہوری اسلوب حکمرانی اور پاکستان کے آئینی نظام کو تقویت دیتے ہیں جن میں عوام کی خودمختاری اور رائے ، مساوات، آزادی، انسانی وقار، انصاف، قانون کی حکمرانی اور اختلاف رائے اور اقلیتی نقطہ نظر کا احترام شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت شہریوں کو ان فیصلوں میں بامعنی آواز دیتی ہے جو ان کی زندگیوں کی تشکیل کرتے ہیں اور عوامی اختیارات استعمال کرنے والوں کو عوام کے سامنے جوابدہ بناتے ہیں۔
صدر مملکت نے کہا کہ جمہوریت کا مطلب اکثریت کی بے لگام حکمرانی نہیں ہے، ایک حقیقی جمہوریت کے لیے ضروری ہے کہ اکثریت اقلیتوں کے جائز حقوق اور آواز کو سنے، ان کا احترام کرے اور ان کے لئے مناسب گنجائش پیدا کرے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے جمہوریت ہمارے عوام کو درپیش دیرینہ چیلنجز پر قابو پانے کے لیے ناگزیر ہے، نمائندہ ادارے، جوابدہ حکومت اور قانون کی حکمرانی عوامی پالیسی کو لوگوں کی ضروریات کو زیادہ موثر طریقے سے پورا کرنے، ضروری خدمات تک رسائی کو بہتر بنانے، عدم مساوات کو کم کرنے اور سب کے لیے مواقع پیدا کرنے کے قابل بناتے ہیں، اس لیے ایک پرامن، جامع، مستحکم اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کے لیے مضبوط جمہوری ادارے ضروری ہیں۔صدرمملکت نے کہا کہ پاکستان کا جمہوری سفر سیاسی رہنمائوں، جماعتوں، کارکنوں، سول سوسائٹی اور شہریوں کی ہمت، استقامت اور قربانیوں سے عبارت ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی تاریخی قیادت میں پاکستان نے 1973ء کے آئین کی متفقہ منظوری کے ذریعے ایک فیصلہ کن جمہوری سنگ میل حاصل کیا۔ اس نے ہمارا وفاقی پارلیمانی نظام قائم کیا، بنیادی حقوق کی ضمانت دی اور صوبائی خود مختاری کے لیے آئینی ڈھانچہ فراہم کیا، یہ بدستور ہمارے جمہوری نظام کی بنیاد ہے اور وہ بندھن ہے جو وفاق کو یکجا رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ شہید جمہوریت محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے اس جدوجہد کو غیر معمولی جرات کے ساتھ آگے بڑھایا اور بالآخر جمہوریت کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ صدر مملکت نے ان تمام سیاسی رہنمائوں، کارکنوں اور شہریوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے ظلم و جبر کو برداشت کیا اور آئین اور عوام کے خود پر حق حکمرانی کے دفاع میں قربانیاں دیں۔
صدر مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ آئیے ہم اس دن آئین کی بالا دستی ، بنیادی حقوق کے تحفظ، پارلیمنٹ اور دیگر جمہوری اداروں کے استحکام ،رواداری اور مکالمے کو فروغ دینے اور قومی زندگی میں خواتین، نوجوانوں اور اقلیتوں کی بامعنی شرکت کو یقینی بنانے کے اپنے اجتماعی عزم کی تجدید کریں۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی اصل طاقت عوام کے اعتماد اور شرکت میں مضمر ہے، آج جو اقلیتی نقطہ نظر ہے وہ کل اکثریت کی رائے بن سکتی ہے،اسی لیے ہر نقطہ نظر کو سننا اور اس کا احترام کرنا چاہیے، جمہوریت میں شور و ہنگامہ ہو سکتا ہے لیکن انسانی تاریخ نے اس سے بہتر نظام حکومت پیدا نہیں کیا، خاموشی صرف قبرستانوں میں ہوتی ہے، ایک زندہ معاشرے کو بحث، اختلاف اور پرامن عدم اتفاق کے لیے کشادہ رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ عوام کی مرضی سیاسی اختیار کا حتمی سرچشمہ اور ہمارے نظام حکومت کی رہنمائی کرنے والی بنیادی قوت بنی رہے۔







