شعبہ بجلی کو درپیش پالیسی اور ریگولیٹری مسائل کے حل کیلئے متعلقہ وزارتوں، ریگولیٹرز اور اداروں کے درمیان مربوط کوششوں کی ضرورت ہے، وزیرخزانہ محمداورنگزیب

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے بجلی کے شعبے کو درپیش پالیسی اور ریگولیٹری مسائل کے حل کے لئے متعلقہ وزارتوں، ریگولیٹرز اور اداروں کے درمیان مربوط کوششوں کی ضرورت پر زور دیا ہے

اسلام آباد۔14ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے بجلی کے شعبے کو درپیش پالیسی اور ریگولیٹری مسائل کے حل کے لئے متعلقہ وزارتوں، ریگولیٹرز اور اداروں کے درمیان مربوط کوششوں کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ انہوں نے یہ بات پیرکویہاں وزارت خزانہ میں وزیراعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی بجلی کے شعبے کے ریگولیٹری نظام میں بہتری و اصلاحات سے متعلق سٹیئرنگ کمیٹی کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ کمیٹی کے قیام کا مقصد بجلی کے شعبے کے ریگولیٹری فریم ورک کو مضبوط بنانے، کارکردگی، سرمایہ کاری اور مسابقت کے فروغ کے لئے اصلاحات کا جائزہ لینا اور انہیں آگے بڑھانا ہے۔کمیٹی نے موجودہ ریگولیٹری نظام کا جائزہ لیا اور بجلی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور آپریشنل ماحول کو بہتر بنانے کے اقدامات پر غور کیا۔کمیٹی نے نجی شعبے کی شرکت میں سہولیات کی فراہمی ، طویل مدتی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور شعبے میں کارکردگی اور مسابقت کو بڑھانے کے لئے ایک واضح، قابل پیش گوئی اور مستقل ریگولیٹری فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس میں ریگولیٹری اور پالیسی فریم ورک کو عالمی سطح پر رائج بہترین طریقہ کار سے ہم آہنگ کرنے کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور پاکستان کے ادارہ جاتی اور مارکیٹ کے حالات کو بھی مدنظر رکھنے پر زور دیا گیا۔ کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ اصلاحات کے ذریعے سرمایہ کاری اور شعبے کی کارکردگی کو فروغ دیا جائے، شفافیت، مناسب حفاظتی اقدامات اور ضوابط کوعملی کرنے کو بھی یقینی بنایا جائے۔کمیٹی نے بجلی کے شعبے کو درپیش پالیسی اور ریگولیٹری مسائل کے حل کے لئے متعلقہ وزارتوں، ریگولیٹرز اور اداروں کے درمیان مربوط کوششوں کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزیر خزانہ نے ٹھوس اور عملی نتائج پر مبنی، مقررہ مدت کے اندر اصلاحات کے عمل مکمل کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ اس سے شعبے کی کارکردگی اور سرمایہ کاری کے نتائج میں نمایاں بہتری آئیگی۔وزیر خزانہ نے بجلی کے شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے، مسابقت کے فروغ اور شعبے کی ترقی میں نجی شعبے کی شرکت اور سرمایہ کاری کی صلاحیت پرروشنی ڈالی، انہوں نے واضح ٹائم لائنز اور ذمہ داریوں کے تعین کے ساتھ ایک جامع اور مرحلہ وار روڈ میپ مرتب کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس میں تکنیکی ورکنگ گروپ کے کردار کا بھی جائزہ لیا گیا جو تفصیلی تجزیہ کرنے اور سٹیئرنگ کمیٹی کے غور کے لئے شعبہ وار تجاویز تیار کرے گا۔اجلاس میں سرمایہ کاروں اور دیگر متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ منظم مشاورت کی اہمیت پر زور دیا گیا تاکہ ان کی آرا ء حاصل کی جا سکیں اور ریگولیٹری نظام میں بہتری کے متقاضی شعبوں کی نشاندہی کی جا سکے۔کمیٹی نے اتفاق کیا کہ تکنیکی ورکنگ گروپ نشاندہی کئے گئے شعبوں پر مزید کام کرے گا اور سٹیئرنگ کمیٹی کے غور کے لئے مخصوص تجاویز اور سفارشات پیش کرے گا۔ سٹیئرنگ کمیٹی بجلی کے شعبے میں بہتری اور اصلاحات سے متعلق تکنیکی ورکنگ گروپ کی تجاویز اور سفارشات کا جائزہ لے کر ان کی منظوری دے گی، تجاویز پر عملدرآمد کی نگرانی کرے گی اور بروقت عملدرآمد کے لیے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ضروری پالیسی ہدایات جاری کرے گی۔اجلاس میں وفاقی وزیر توانائی، نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کے نیشنل کوآرڈینیٹر، وزیراعظم کے نجکاری امور کے مشیر، وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات، چیئرمین نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی اور متعلقہ ڈویژنز و وزارتوں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

مزید خبریں