وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دیرینہ اور تزویراتی نوعیت کے تعلقات قائم ہیں، دونوںممالک کے درمیان دوطرفہ اقتصادی اور سرمایہ کاری تعاون میں مزیداستحکام آئے گا
پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دیرینہ اور تزویراتی نوعیت کے تعلقات قائم ہیں، وزیرخزانہ محمداورنگزیب کی انٹرنیشنل فوڈز سٹفس کمپنی کے وفد سے ملاقات میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد۔14ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دیرینہ اور تزویراتی نوعیت کے تعلقات قائم ہیں، دونوںممالک کے درمیان دوطرفہ اقتصادی اور سرمایہ کاری تعاون میں مزیداستحکام آئے گا۔انہوں نے یہ بات پیرکویہاں انٹرنیشنل فوڈز سٹفس کمپنی کے وفد سے ملاقات میں کہی جس کی قیادت آئی ایف ایف سی او کے گلوبل گروپ ڈائریکٹر عبدالغنی عبداللہ اور آئی ایف ایف سی او پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ارشدالدین احمد نے کی۔ اجلاس میں آئی ایف ایف سی او پاکستان کے چیف فنانشل آفیسر محمد جواد، متحدہ عرب امارات کے سفارتخانے کے ہیڈ آف پروٹوکول ڈیپارٹمنٹ خلیل احمد اعوان اور سفارتخانے کی اکنامک ریسرچر کنول عاصم نے بھی شرکت کی۔وزیر خزانہ نے آئی ایف ایف سی او کے وفد کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کے غذائی اور مینوفیکچرنگ شعبوں میں کمپنی کی طویل عرصے سے جاری سرمایہ کاری اور خدمات کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ آئی ایف ایف سی او کے مسلسل روابط اور مقامی روزگار، مینوفیکچرنگ اور متعلقہ صنعتوں کے فروغ میں کمپنی کے کردار کی بھی تائیدکی۔عبدالغنی عبداللہ نے وزیر خزانہ کو آئی ایف ایف سی او گروپ کے عالمی آپریشنز اور پاکستان کے ساتھ اس کے طویل مدتی روابط کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ گروپ بڑے غذائی مصنوعات تیار کرنے والے ادارے کے طور پر کام کر رہا ہے اور خوردنی تیل ، زراعت، حیوانی غذائیت اور خوراک سے متعلق دیگر شعبوں میں سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آئی ایف ایف سی او کے لئے ایک اہم مارکیٹ ہے اور گروپ نے ملک میں مزید سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔عبدالغنی عبداللہ نے وزیر خزانہ کو آئی ایف ایف سی او گروپ کے عالمی آپریشنز کے بارے میں مزید آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ متحدہ عرب امارات میں قائم یہ کثیرالقومی کمپنی تقریبا 50ً ممالک میں کام کر رہی ہے اور غذائی مصنوعات کی تیاری، تیل و چکنائیاں، کنفیکشنری، ڈیری، زراعت، پولٹری اور حیوانی غذائیت سمیت مختلف شعبوں میں متنوع موجودگی رکھتی ہے۔ انہوں نے غذائی تحفظ کے فروغ میں آئی ایف ایف سی او کے کردار اور عالمی منڈیوں میں اس کی موجودگی کو اجاگر کیا۔ وفد نے وزیر خزانہ کو آئی ایف ایف سی او پاکستان کی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے حجم کے بارے میں بھی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنی 2006 سے پاکستان میں کام کر رہی ہے اور اب تک تقریبا 100 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکی ہے، کمپنی نے ایک آئل اینڈ فیٹس ریفائنری سے آغاز کیا اور اب دو ریفائنریوں اور پانچ مینوفیکچرنگ سائٹس تک اپنی سرگرمیوں کو وسعت دے چکی ہے۔ کمپنی نے بیجوں کی کرشنگ، حیوانی غذائیت اور فیڈ ملز کے شعبوں میں بھی اپنی سرگرمیوں کو متنوع بنایا ہے جس سے روزگار، مقامی ویلیو ایڈیشن اور وسیع تر غذائی سپلائی چین میں کردار ادا ہو رہا ہے۔ وفد نے پاکستان میں مزید سرمایہ کاری کے فروغ بالخصوص ملک کے صنعتی اور غذائی شعبوں میں ترقی کے وسیع امکانات کے پیش نظر دلچسپی کا اظہار کیا ۔ وفد نے بتایا کہ آئی ایف ایف سی او پاکستان میں کام کرنے والی بڑی کمپنیوں کو مصنوعات فراہم کرتا ہے اور اسے اپنے صارفین، وسیع تر معیشت اور کاروباری سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ترقی کے نمایاں مواقع نظر آتے ہیں۔ وزیر خزانہ نے پاکستان میں مزید سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینے میں آئی ایف ایف سی او کی دلچسپی کا خیرمقدم کیا اور وفد کو حکومت کی جانب سے مسلسل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے موجودہ سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے اور ایسے کاروباری ماحول کی تشکیل کی اہمیت پر زور دیا جو نئی سرمایہ کاری، صنعتی ترقی، روزگار اور ملک کے اندر زیادہ ویلیو ایڈیشن کی حوصلہ افزائی کرے۔وزیر خزانہ نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی روابط کے فروغ کے لئے متحدہ عرب امارات کے سفارتخانے کی جانب سے فراہم کردہ تعاون اور سہولت کاری کو بھی سراہا۔ انہوں نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دیرینہ اور تزویراتی نوعیت کے تعلقات پر زور دیتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ دوطرفہ اقتصادی اور سرمایہ کاری تعاون مزید مستحکم ہوگا۔عبدالغنی عبداللہ نے حکومت کی جانب سے فراہم کردہ تعاون کو سراہا اور پاکستان کے لئے آئی ایف ایف سی او کے طویل مدتی عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے روزگار، مقامی مینوفیکچرنگ اور وسیع تر غذائی شعبے میں کمپنی کے کردار کو اجاگر کیا اور ملک میں آئی ایف ایف سی او کی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے دائرہ کار کو مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے اعتماد کا اظہار کیا۔







