اے آئی پلیٹ فارم پر چھوٹے کاشتکاروں کی مدد کیلئے جنوبی ایشیا میں ڈیزیز انٹیلی جنس انجن متعارف

مصنوعی ذہانت (اے آئی) پلیٹ فارم ’’ایگٹر نسک ‘‘نے جنوبی ایشیا میں اپنے ڈیزیز انٹیلی جنس انجن (ڈی آئی ای ) کی توسیع کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد چھوٹے کاشتکاروں کو فصلوں میں بیماریوں کے خطرات کی بروقت نشاندہی اور بہتر فیصلوں میں مدد فراہم کرنا ہے۔

اسلام آباد۔15ستمبر (اے پی پی):مصنوعی ذہانت (اے آئی) پلیٹ فارم ’’ایگٹر نسک ‘‘نے جنوبی ایشیا میں اپنے ڈیزیز انٹیلی جنس انجن (ڈی آئی ای ) کی توسیع کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد چھوٹے کاشتکاروں کو فصلوں میں بیماریوں کے خطرات کی بروقت نشاندہی اور بہتر فیصلوں میں مدد فراہم کرنا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ٹیکنالوجی کاشتکاروں کو بیماریوں کے ممکنہ خطرات سے قبل از وقت آگاہ کرنے، کھیتوں کے معائنے کو ترجیح دینے اور فصلوں کے تحفظ سے متعلق مؤثر اقدامات میں معاونت کرے گی۔ کمپنی کی طرف سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ایگٹر نسک مقامی ٹیم کے تعاون سے ایک موبائل ایپلی کیشن بھی تیار کر رہی ہے، جو جنوبی ایشیا کی اہم فصلوں، مقامی بیماریوں، زرعی طریقہ کار اور مقامی زبانوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی جائے گی۔

ایپ کے ذریعے کاشتکاروں کو بیماریوں سے متعلق الرٹس، کھیت کی سطح کی معلومات اور عملی رہنمائی فراہم کی جائے گی۔ایگرو نومی انوویشن اینڈ ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹر اسکاٹ پلاٹو نے کہا کہ بروقت بیماریوں سے متعلق معلومات سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے چھوٹے کاشتکار ہی اکثر ان سہولیات تک کم رسائی رکھتے ہیں، اس لیے کمپنی ٹیکنالوجی کو ان کیلئے کم لاگت، آسان اور قابلِ استعمال بنانا چاہتی ہے۔

کمپنی زرعی مصنوعات کے ریٹیلرز، پروسیسرز، برآمد کنندگان، کوآپریٹو اداروں اور اسپرے سروس فراہم کرنے والوں سمیت کاشتکاروں کی معاونت کرنے والے مختلف اداروں کے ساتھ تعاون کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔ایگٹر نسک (Agtrinsic )کے مطابق فصلوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے بہتر ذرائع نہ صرف کاشتکاروں بلکہ خوراک کی دستیابی، دیہی روزگار اور عالمی غذائی تحفظ کیلئے بھی اہم ہیں۔ کمپنی نے ٹیکنالوجی کیلئے امریکا اور بین الاقوامی سطح پر پیٹنٹ کے تحفظ کے حصول کا عمل بھی شروع کر رکھا ہے۔