دھان کے کاشتکار زرعی زہروں کا محفوظ استعمال یقینی بنائیں، نقصان دہ کیڑوں ،بیماریوں کے تدارک کے لیے صرف سفارش کردہ اور محفوظ زہریں ہی استعمال کریں اور دھان کی باقیات کو ہر گز آگ نہ لگائیں
دھان کے کاشتکار زرعی زہروں کا محفوظ استعمال یقینی بنائیں،اور دھان کی باقیات کو ہر گز آگ نہ لگائیں، ڈاکٹر افتخار حسین بھٹی

مزید خبریں
سیالکوٹ۔ 15 ستمبر (اے پی پی):دھان کے کاشتکار زرعی زہروں کا محفوظ استعمال یقینی بنائیں، نقصان دہ کیڑوں ،بیماریوں کے تدارک کے لیے صرف سفارش کردہ اور محفوظ زہریں ہی استعمال کریں اور دھان کی باقیات کو ہر گز آگ نہ لگائیں ۔ان خیالات کا اظہار اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت سمبڑیال ڈاکٹر افتخار حسین بھٹی نے منگل کو دھان کے کاشتکاروں کے نام اپنے ایک پیغام میں کیا۔ انہوں نے کہاکہ نقصان دہ کیڑوں اور بیماریوں کے تدارک کے لیے صرف سفارش کردہ اور محفوظ زہریں ہی استعمال کی جائیں جبکہ ممنوعہ زہریں ہرگز استعمال نہ کریں۔ زہروں کے استعمال اور فصل کی برداشت کے درمیان وقفہ لازمی مدنظر رکھا جائے تاکہ جنس میں زرعی زہروں کی باقیات قابلِ قبول حد میں رہیں۔انہوں نے کہا کہ دھان کی اگیتی کاشتہ فصل کٹائی کے مراحل سے گزر رہی ہے، کاشتکار دھان کی فصل کی برداشت اس وقت کریں جب بالائی دانے مکمل طور پر پک چکے ہوں اور نچلے دو تا تین دانے بھر چکے ہوں اور دانوں میں نمی کا تناسب 20 تا 22 فیصد ہونا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ برداشت کے لیے ترجیحا رائس ہارویسٹر مشین استعمال کریں اور کٹائی کا عمل شبنم ختم ہونے کے بعد شروع کریں۔انہوں نے کہا کہ برداشت کے بعد مونجی کو بڑے ڈھیروں میں جمع نہ کریں کیونکہ اس سے خراب ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جو چاول کے معیار پر اثر انداز ہوتا ہے، فصل کو اچھی طرح سکھا کر محفوظ کریں اور ذخیرہ کرتے وقت نمی کا تناسب 12 تا 13 فیصد سے زیادہ نہ ہونے دیں۔انہوں نے دھان کے کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وزیر اعلی پنجاب سموگ کنٹرول پروگرام کے تحت فصل کی باقیات کو آگ لگانے پر مکمل پابندی عائد ہے، سموگ کے حوالے سے تحصیل بھر میں پروگرامز کا بھی انعقاد کیا جارہا ہے اور لوگوں کو اس کے نقصانات کے بارے میں بتایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ فصل کی باقیات کو جلانے سے زمین میں موجود نامیاتی مادہ اور مفید جاندار ختم ہو جاتے ہیں جبکہ اس کی باقیات سے اٹھنے والا دھواں فضائی آلودگی اور سموگ کا باعث بنتا ہے جو انسانی صحت اور ٹریفک حادثات کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے لہذا کاشتکار دھان کی باقیات کی تلفی کیلئے سپر سیڈرز یا محکمہ زراعت کے مقامی زرعی ماہرین کے مشورہ سے کریں۔








