سعودی عرب کے صنعتی شعبے کا جی ڈی پی میں حصہ 16 فیصد تک پہنچ گیا، سعودی فیڈریشن آف چیمبرز کے چیئرمین کا صنعتی فورم سے خطاب

جدہ ۔16ستمبر (اے پی پی):سعودی فیڈریشن آف چیمبرز کے چیئرمین عبداللہ صالح کامل نے کہا ہے کہ سعودی عرب پیٹرو کیمیکلز، مشینری و آلات، خوراک و ادویات، ٹیکسٹائل اور تعمیراتی سامان سمیت کئی دیگر شعبوں میں نمایاں اور قائدانہ حیثیت اختیار کر چکا ہے، سعودی مصنوعات عالمی منڈیوں میں مضبوط حریف بن کر ابھری ہیں، جس کا ثبوت برادر اور دوست ممالک کے درآمد کنندگان کی جانب سے بڑھتی ہوئی …

جدہ ۔16ستمبر (اے پی پی):سعودی فیڈریشن آف چیمبرز کے چیئرمین عبداللہ صالح کامل نے کہا ہے کہ سعودی عرب پیٹرو کیمیکلز، مشینری و آلات، خوراک و ادویات، ٹیکسٹائل اور تعمیراتی سامان سمیت کئی دیگر شعبوں میں نمایاں اور قائدانہ حیثیت اختیار کر چکا ہے، سعودی مصنوعات عالمی منڈیوں میں مضبوط حریف بن کر ابھری ہیں، جس کا ثبوت برادر اور دوست ممالک کے درآمد کنندگان کی جانب سے بڑھتی ہوئی طلب اور غیر تیل برآمدات میں مسلسل اضافے کے اعداد و شمار ہیں۔ عبداللہ صالح کامل نے یہ بات سعودی صنعتی فورم 2026 کے دوسرے ایڈیشن سے اپنے خطاب میں کہی۔

یہ فورم 14 تا 16 ستمبر تک جدہ سپر ڈوم میں خادمِ حرمین شریفین کے مشیر اور مکہ ریجن کے گورنر شہزادہ خالد بن فیصل بن عبدالعزیز کی سرپرستی میں منعقد ہو اہے۔ فورم میں مکہ ریجن کے نائب گورنر شہزادہ سعود بن مشال بن عبدالعزیز نے بھی شرکت کی ۔عبداللہ صالح کامل نے کہا کہ مملکت کے صنعتی شعبے نے نمایاں ترقی کی ہے، مختلف معاشی سرگرمیوں میں صنعتی اداروں کی تعداد سعودی ویژن 2030 کے دور کے آغاز میں تقریباً 7 ہزار تھی جو اب بڑھ کر15 ہزارسے تجاوز کر گئی ہے۔انہوں نے ایسے نئے شعبوں کے ابھرنے پر بھی روشنی ڈالی جنہیں پہلے لائسنس جاری نہیں کیے گئے تھے، جن میں خاص طور پر دفاعی صنعتیں شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ لائسنس یافتہ دفاعی کمپنیوں کی تعداد اب 347 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں مسلسل اضافے کے باعث مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں صنعتی شعبے کا حصہ 16 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔عبداللہ صالح کامل نے سعودی عرب کی صنعتی قیادت کا سہرا خادمِ حرمین شریفین کی حکومت کی حمایت، نیز مملکت کی معاشی طاقت اور مسابقتی فوائد کے سر باندھا، ان فوائد میں بنیادی خام مال کی دستیابی اور قانون سازی و حکومتی سہولت کاری کے ذریعے صنعتی ایکو سسٹم کی ترقی شامل ہے، جس نے نجی شعبے کی مسابقتی صلاحیت کو مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے مملکت کے جدید بنیادی ڈھانچے اور عالمی منڈیوں سے قربت کا بھی ذکر کیا اور ساتھ ہی پرعزم قیادت اور نجی شعبے کی تعریف کی جس نے سرمایہ کاری، ترقی اور مسابقت کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔

عبداللہ صالح کامل نے کہا کہ سعودی فیڈریشن آف چیمبرز صنعت سے متعلقہ سرکاری اداروں کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری کے ماڈل کے تحت کام کرتی ہے تاکہ مقامی اور بین الاقوامی سطح پر مملکت کے اہداف کو آگے بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے اس فورم کو اس شراکت داری کی ایک نمایاں مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ فیڈریشن کا مقصد اسے ایسے مواقع پیدا کرنے اور معاون عوامل تیار کرنے کے پلیٹ فارم کے طور پر قائم کرنا ہے جو فیصلہ سازی میں معاون ہوں، شراکت داریوں کو تقویت دیں اور سعودی ویژن 2030 کے اہداف کے مطابق صنعتی شعبے کی ترقی کو فروغ دیں۔

چیئرمین نے اگلے مرحلے میں نجی شعبے کے بڑھتے ہوئے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس شعبے کو مملکت میں اعلیٰ قدر والی صنعتوں کو راغب کرنے، انہیں مقامی سطح پر قائم کرنے اور مختلف صنعتی شعبوں میں جدت اور ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے مزید اہل بننے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مصنوعی ذہانت، چوتھے صنعتی انقلاب کی ٹیکنالوجیز اور اس شعبے میں دیگر معاون عوامل اور ابھرتی ہوئی پیش رفت سے فائدہ اٹھانے کی اہمیت پر بھی زور دیا، جس کا مقصد سعودی عرب کو عالمی اقتصادی نقشے پر ایک صنعتی قوت کے طور پر مستحکم کرنا ہے۔اپنی گفتگو کے اختتام پر، کامل نے مکہ ریجن کے ڈپٹی گورنر شہزادہ سعود بن مشعل بن عبدالعزیز کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے خطے کے نجی شعبے کی حمایت میں اہم اثرات کے حامل اقدامات کے آغاز اور چیلنجز سے نمٹنے اور طریقہ کار کو بہتر بنانے کی مسلسل کوششوں پر ان کی تعریف کی، جس سے یہ خطہ اعلیٰ قدر والے منصوبوں کے لیے پرکشش بنا ہے اور مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔تین روزہ فورم کا انعقاد سعودی چیمبرز فیڈریشن نے اپنی نیشنل انڈسٹریل کمیٹی کی نمائندگی میں کیا ہے، جس میں جدہ چیمبر کا تعاون اور وزارتِ صنعت و معدنی وسائل (اور اس سے منسلک اداروں) نیز مکہ ریجن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی سٹریٹجک شراکت داری شامل ہے۔

مزید خبریں