پانڈا بانڈ پاکستان اور چین کے دیرینہ تزویراتی تعلقات کے مالیاتی پہلو کو مضبوط بنانے کا باعث بنے گا، یہ ہمارے پائیدار فنانسنگ فریم ورک کے عین مطابق ہے، سینیٹر محمداورنگزیب
پانڈا بانڈ پاکستان اور چین کے دیرینہ تزویراتی تعلقات کے مالیاتی پہلو کو مضبوط بنانے کا باعث بنے گا، یہ ہمارے پائیدار فنانسنگ فریم ورک کے عین مطابق ہے، سینیٹر محمداورنگزیب

مزید خبریں
اسلام آباد۔16ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کا پہلا پائیدار ساورن پانڈا بانڈ چین کی دنیا کی دوسری بڑی اور گہری کیپٹل مارکیٹ تک رسائی کے ساتھ ساتھ پاکستان اور چین کے دیرینہ تزویراتی تعلقات کے مالیاتی پہلو کو مزید مضبوط بنانے کا باعث بنے گا۔ پاکستان کےلئے2026 ایشیا پیسیفک کلائمیٹ بانڈز ایوارڈ کے موقع پرگفتگوکرتے ہوئے وزیرخزانہ نے کلائمیٹ بانڈز انیشی ایٹو کے اہم اعزاز پر گہرے تشکر کا اظہار کیا۔
وزیرخزانہ نے کہاکہ پہلا پائیدار پانڈا بانڈ کئی حوالوں سے اہمیت کاحامل ہے ،پاکستان نے پہلی مرتبہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی اور دوسری گہری کیپٹل مارکیٹ سے رجوع کیا ہے جس سے پاکستان کے لیے سرمائے کے نئے اور وسیع ومتنوع ذرائع کے دروازے کھلے ہیں ،اس سے چین اور پاکستان کے دیرینہ تزویراتی تعلقات کے مالیاتی پہلو کو مزید تقویت ملے گی۔وزیرخزانہ نے کہاکہ پانڈابانڈ کو مارکیٹ کی جانب سے انتہائی مثبت ردعمل ملا، تین سالہ بانڈ 2.5 فیصد کی انتہائی مسابقتی شرح پر جاری کیا گیا جبکہ اس کے لیے موصول ہونے والے آرڈرز جاری کردہ بانڈ کے حجم سے تین گنا زیادہ تھے ، یہ پاکستان کے بہتر ہوتے معاشی بنیادی اشاریوں، اصلاحات کی سمت اور خودمختار مالیاتی ساکھ پر مارکیٹ کے اعتماد کا واضح اظہار ہے۔
انہوں نے کہاکہ اس بانڈ کی پائیدار نوعیت اس کی ایک اور اہم خصوصیت ہے کیونکہ بانڈ سے حاصل ہونے والے فنڈز ماحول دوست اور سماجی شمولیت پر مبنی سرمایہ کاری کے منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے جن میں پانی، توانائی اور صحت کے شعبے شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ بانڈ پاکستان کے پائیدار فنانسنگ فریم ورک کے عین مطابق اور سٹیٹ بینک کی گرین ٹیکسونومی اور کلائمیٹ پراسپیریٹی پلان سے بھی ہم آہنگ ہے۔
وزیرخزانہ نے کہاکہ پاکستان چین کی کیپٹل مارکیٹ میں صرف ایک مرتبہ بانڈ جاری کرنے تک محدود نہیں رہے گا، ابتدائی اور پہلے پانڈا بانڈ کا حجم 1.75 ارب چینی یوآن تھا جبکہ نیشنل ایسوسی ایشن آف فنانشل مارکیٹ انسٹی ٹیوشنل انویسٹرز نے مجموعی طور پر 7.2 ارب چینی یوآن کے پانڈا بانڈ پروگرام کی منظوری دی ہے ،پاکستان آئندہ بھی چینی کیپٹل مارکیٹ سے رجوع اور ضرورت کے مطابق مزید بانڈز جاری کرے گا۔
وزیر خزانہ نے ایوارڈ کے منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے چین کی حکومت، چینی ریگولیٹرز بالخصوص پیپلز بینک آف چائنا اوراین اے ایف ایم آئی آئی ، کریڈٹ انہانسمنٹ فراہم کرنے والے اداروں اے آئی آئی بی اور ایشیائی ترقیاتی بینک ، سرمایہ کاروں، انڈر رائٹرز، مشیران اور وزارت خزانہ کی اپنی ٹیم کا بھی شکریہ ادا کیا جن کی کاوشوں سے یہ اہم اور اولین لین دین کامیابی سے مکمل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے یہ اعزاز حاصل کرنا باعث فخر ہے اور حکومت اس اعتراف پر منتظمین کی شکر گزار ہے۔








