کالعدم ’’جیک‘‘ کو اسلحہ سپلائی کرنے والے ملزم کا وڈیو بیان میں افغانستان سے اسلحہ منگوانے، دھرنوں میں مسلح افراد کی تعیناتی کا اعتراف
کالعدم ’’جیک‘‘ کو اسلحہ سپلائی کرنے والے ملزم کا وڈیو بیان میں افغانستان سے اسلحہ منگوانے، دھرنوں میں مسلح افراد کی تعیناتی کا اعتراف

مزید خبریں
اسلام آباد۔16ستمبر (اے پی پی):آزاد کشمیر میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) کی اعلیٰ قیادت کو غیر قانونی اسلحہ فراہم کرنے والے اہم ملزم ضیا نے اپنے اعترافی بیان میں انکشاف کیا ہے کہ وہ گزشتہ آٹھ سال سے غیر قانونی اسلحے کی خرید و فروخت میں ملوث ہے اور دو سال سے براہ راست ایکشن کمیٹی کی اعلیٰ قیادت، بالخصوص سردار امان، خواجہ مہران اور ناظم کشمیری کے ساتھ رابطے میں تھامیڈیا رپورٹس کے مطابق ملزم نے و ڈیو بیان میں سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ تین ماہ سے آزاد کشمیر میں جاری ایکشن کمیٹی کے دھرنوں میں مسلح افراد باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تعینات تھے جن کا بنیادی ٹاسک سکیورٹی فورسز کو روکنا اور ان پر حملے کرنا تھا۔ ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ خود بھی کشمیر موڑ پر قانون نافذ کرنے والے اداروں پر تین سے چار بار فائرنگ اور حملوں میں شامل رہا ہے۔
ملزم ضیا کے مطابق 26 اگست کو پلندری کے رہائشی ماجد نے سردار امان کشمیری کا خصوصی پیغام پہنچایا کہ کوٹلی سے پلندری آنے والی سکیورٹی فورسز کو کشمیر موڑ پر روکنے کے لیے فوری طور پر جدید اسلحے کا انتظام کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے افغانستان میں موجود اسلحہ ڈیلر زرشاد سے رابطہ کیا گیا، جسے ماجد نے ہنڈی کے ذریعے 8 لاکھ روپے ایڈوانس بھجوائے۔ ملزم نے بتایا کہ افغانستان سے 5 کلاشنکوفیں، ایک ایم فور رائفل اور چار ہزار گولیاں پشاور (باڑہ) لائی گئیں، جہاں سے زرشاد کے دوست اکبر نے یہ کھیپ آزاد کشمیر پہنچانی تھی۔
ملزم نے اعتراف کیا کہ 2 ستمبر کو جب وہ سہنسہ (آزاد کشمیر) میں اکبر سے اسلحہ وصول کرنے پہنچا تو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اسے اسلحے سمیت گرفتار کر لیا جبکہ اس کے دو ساتھی شاہد اور آفاق فرار ہو گئے۔ملزم ضیا نے دھرنوں میں موجود عسکریت پسندوں کا کچا چٹھا کھولتے ہوئے بتایا کہ راولاکوٹ گردوارے کے پاس موجود مسلح جتھے کی کمان سردار امان ادریس کر رہا ہے، جبکہ دریک دھرنے میں 40 سے 45 مسلح کارندے موجود ہیں جن کی قیادت خواجہ مہران اور ناظم کشمیری کر رہے ہیں۔
ملزم کے مطابق طارق، ساجد، اخلاق، اظہر اور ماجد نامی کارندے سردار امان کے انتہائی قریبی ہیں جن کے پاس سنائپر رائفلیں، ایل ایم جی اور دستی بم (گرنیڈز) موجود ہیں، اور کمیٹی کی اعلیٰ قیادت نے واضح ہدایت دی تھی کہ وہ مسلح کارروائیوں اور تشدد کے ذریعے ہی اپنے مقاصد حاصل کریں گے۔








