ایس ای سی پی کی انشورنس گارنٹیز کو محفوظ اور مؤثر بنانے کے لئے اہم اصلاحات کی تجویز

سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے کریڈٹ اور شورٹی شپ انشورنس کے فریم ورک کو مضبوط بنانے کے لئے اہم اصلاحات تجویز کی ہیں، ان اصلاحات کا مقصد تعمیراتی منصوبوں، سرکاری ٹھیکوں، پبلک پروکیورمنٹ اور تجارتی سرگرمیوں میں استعمال ہونے والے انشورنس بانڈز اور گارنٹیز کو زیادہ واضح، محفوظ اور قابلِ اعتماد بنانا ہے۔

اسلام آباد۔16ستمبر (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے کریڈٹ اور شورٹی شپ انشورنس کے فریم ورک کو مضبوط بنانے کے لئے اہم اصلاحات تجویز کی ہیں، ان اصلاحات کا مقصد تعمیراتی منصوبوں، سرکاری ٹھیکوں، پبلک پروکیورمنٹ اور تجارتی سرگرمیوں میں استعمال ہونے والے انشورنس بانڈز اور گارنٹیز کو زیادہ واضح، محفوظ اور قابلِ اعتماد بنانا ہے۔

بدھ کو ایس ای سی پی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کریڈٹ اور شورٹی شپ انشورنس میں بڈ بانڈز، پرفارمنس بانڈز، موبلائزیشن ایڈوانس گارنٹیز اور کسٹمز گارنٹیز شامل ہیں۔ ٹھیکیدار یا کاروباری ادارہ اپنی معاہداتی ذمہ داریاں پوری نہ کرے تو یہ گارنٹیز سرکاری اداروں، منصوبوں کے مالکان اور دیگر متعلقہ فریقوں کو مالی نقصان سے تحفظ فراہم کرتی ہیں۔مجوزہ اصلاحات میں بانڈز اور گارنٹیز کی شرائط کو واضح بنانا، انشورنس کمپنیوں کے لئے بہتر مالیاتی ذخائر اور سالوینسی مارجن، خطرات کے مطابق قیمت کا تعین، لازمی ہرجانہ معاہدے اور مضبوط ری انشورنس انتظامات شامل ہیں۔ ان اقدامات سے معاہدوں میں ابہام، کلیمز کی ادائیگی میں تاخیر اور طویل قانونی تنازعات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

ایس ای سی پی نے کریڈٹ اور شورٹی شپ انشورنس کو انشورنس کاروبار کے محدود زمرے میں شامل کرنے کی بھی تجویز دی ہے۔ اس اقدام سے یہ کاروبار کرنے والی انشورنس کمپنیوں کی مالی صلاحیت اور اہلیت کی زیادہ سخت جانچ ممکن ہوگی۔چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ مجوزہ اصلاحات سے رسک مینجمنٹ اور انشورنس کمپنیوں کی مالی صلاحیت بہتر ہو گی، معاہدوں میں وضاحت آئے گی اور انشورنس بانڈز اور گارنٹیز پر عوامی اعتماد بڑھے گا۔ایس ای سی پی نے انشورنس کمپنیوں، ٹھیکیداروں، کاروباری اداروں، سرکاری محکموں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورتی مقالے پر آراء اور تجاویز طلب کر لی ہیں۔ مشاورتی مقالہ ایس ای سی پی کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔

 

مزید خبریں