پاکستان اور کینیا کے درمیان تجارتی تعلقات کو بڑھانے کیلئے مسلسل رابطوں کی ضرورت ہے، ہائی کمشنرکینیا

پاکستان میں کینیا کے ہائی کمشنر لیفٹیننٹ جنرل (ر) پیٹر مبوگو نجیرونے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات کو بڑھانے کیلئے مسلسل رابطوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ وہ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں بزنس کمیونٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کینیا کے درمیان اچھے تعلقات کے باوجود دو طرفہ تجارت بہت کم ہے جسے بہتر کرنے کی ضرورت …

فیصل آباد۔ 16 ستمبر (اے پی پی):پاکستان میں کینیا کے ہائی کمشنر لیفٹیننٹ جنرل (ر) پیٹر مبوگو نجیرونے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات کو بڑھانے کیلئے مسلسل رابطوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ وہ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں بزنس کمیونٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کینیا کے درمیان اچھے تعلقات کے باوجود دو طرفہ تجارت بہت کم ہے جسے بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی بہت سے پاکستانی کینیا سے تجارت کر رہے ہیں لیکن ان میں اضافہ کیلئے مسلسل رابطے ضروری ہیں۔ انہوں نے فیصل آباد چیمبر کے ممبران سے کہا کہ دو طرفہ مواقعوں کی نشاندہی کرکے اُن سے فائدہ اٹھانے کیلئے حکمت عملی بھی وضع کریں تاکہ مثبت پیشرفت کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ کمرشل قونصلر اور سیکنڈ قونصلر بھی اُن کے ساتھ آئے ہیں تاکہ تجارت سے متعلقہ مسائل پر فوری طور پر بات چیت ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ کینیا اور پاکستان کے درمیان انفارمیشن ٹیکنالوجی، کھیلوں، فارماسوٹیکل، سرجیکل، ٹیکسٹائل اور مشینری سمیت کئی شعبوں میں تعاون بڑھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کینیا میں صنعتیں قائم کر کے پورے افریقہ کو ڈیوٹی فری برآمدات کی جا سکتی ہیں۔ہائی کمشنر نے کہا کہ کینیا کے امریکہ اور چین سے بھی فری ٹریڈ ایگریمنٹ ہیں جن سے اُن کے ملک میں صنعتیں لگانے والے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ دونوں ملکوں کے تاجروں کے درمیان بی ٹو بی میٹنگز کے علاوہ چیمبرز میں بھی تعاون بڑھانے کے سلسلہ میں مدد کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پوری دنیا افریقہ سے تجارت کی بات کررہی ہے۔ کینیا میں بہترین بنیادی ڈھانچے اور سستی ہنر مند افرادی قوت کے علاوہ وہاں کا لٹریسی ریٹ بھی 90فیصد ہے جبکہ ویزے کا بھی کوئی مسئلہ نہیں۔نائب صد ر چیمبر انجینئر عاصم منیر کے ایک سوال کے جواب میں ہائی کمشنرکینیانے کہا کہ ہر شہر میں اعزازی قونصلر تعینات نہیں کئے جا سکتے جبکہ اُن کا ملک پہلے ہی ای ویزا کی سہولت مہیا کر رہا ہے۔قبل ازیں فیصل آباد چیمبر کے صدر فاروق یوسف شیخ نے دوسری مرتبہ فیصل آباد چیمبر کا دورہ کرنے پر کینیا کے ہائی کمشنر لیفٹیننٹ جنرل (ر) پیٹر مبوگو نجیروکا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ فیصل آباد ملک کا تیسرا بڑا شہر ہے جبکہ ریونیو جنریشن میں اس کا دوسرا نمبر ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد ٹیکسٹائل کی مجموعی برآمدات میں 57فیصد کا حصہ ڈال رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے یہ شہر صرف ٹیکسٹائل کی وجہ سے جانا جاتا تھا مگر اب یہاں ٹائلز، فارماسوٹیکل، آئی ٹی، لائٹ انجینئرنگ، سرجیکل اور دیگر کئی شعبوں کی صنعتیں قائم ہیں جن میں پانچ سو سے زائد چینی، ترک اور انڈونیشیا کی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیمبر کے سینئر نائب صدر نوید اکرم شیخ 20سے زائد افریقی ممالک کو کنفکشنری کی برآمدات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کینیا کے ذریعے تجارت کا مقصد تمام دوسرے افریقی ملکوں میں آسانی سے داخل ہوناہے کیونکہ وہاں سے ڈیوٹی فری برآمدات کی جا سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اچھے تعلقات کے باوجود اس وقت پاکستان اور کینیا کی دو طرفہ تجارت 1بلین ڈالر ہے جسے آئندہ پانچ سالوں میں دوگنا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کینیا سے تجارت میں حائل بعض مسئلوں کی بھی نشاندہی کی اور کہا کہ ان کو ترجیحی بنیادو ں پر حل کیا جائے۔ سوال و جواب کی نشست میں بیرسٹر محمد دانش اور حلیم اختر ملک نے بھی حصہ لیا۔ آخر میں نوید اکرم شیخ نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ صدر فاروق یوسف شیخ اور کینیا کے ہائی کمشنر لیفٹیننٹ جنرل (ر) پیٹر مبوگو نجیروکے درمیان شیلڈوں اور تحائف کا بھی تبادلہ ہوا۔ اس موقع پر کینیا کے سیکنڈ قونصلر روبن روٹو، کمرشل اتاشی بونا فیس نجگونا اور پروٹوکول آفیسر محترمہ ماہ رخ محسن بھی موجود تھیں۔

مزید خبریں