سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی پالیسیوں میں جمہوری اداروں کی نگرانی ناگزیر ہے
موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی پالیسیوں میں جمہوری اداروں کی نگرانی ناگزیر ہے، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق

مزید خبریں
کیپ ٹائون ۔16ستمبر (اے پی پی):سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی پالیسیوں میں جمہوری اداروں کی نگرانی ناگزیر ہے، موسمیاتی تبدیلی سے خوراک، پانی، صحت سمیت زندگی کے مختلف شعبے متاثر ہو رہے ہیں، پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق ان خیالات کا اظہار سپیکر نے بدھ کو یہاں 69 ویں کامن ویلتھ پارلیمانی کانفرنس میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں پارلیمانی قیادت کے کردار کے حوالے سے اپنے خطاب میں کیا ۔سپیکر نے کسی ملک کا نام لیے بغیر دریائوں میں اچانک پانی کی آمد اور پانی روکنے جیسے مسائل اجاگر کیے اور 6 نکاتی تجاویز پیش کیں۔ بھارتی مندوبین نے اس خطاب میں خلل ڈالنے کی کوشش کی جس پر جمیکا کی سپیکر و میزبان نے ان کو خاموش رہنے یا ہال سے باہر نکل جانے کا کہا۔ اس موقع پر کانفرنس کےدیگر شرکا کی جانب سے بھارتی مندوبین کو سپیکر سردار ایاز صادق کا خطاب تحمل سے سننے کی تلقین بھی کی گئی ۔ سپیکر سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ موسمیاتی موافقت کی پالیسیاں عوام کی موثر شمولیت کے ساتھ تشکیل دی جانی چاہئیں۔موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے موسمیاتی انصاف اور جمہوری اداروں کی شمولیت ضروری ہے۔ موسمیاتی تبدیلی جیسے عالمی چیلنجز پر پارلیمانی مکالمہ سنجیدہ، بامقصد اور تعمیری ہونا چاہیے۔ موسمیاتی پالیسیوں کے عملی نفاذ کے لیے پارلیمانوں کا کردار اہم ہے۔بین الاقوامی موسمیاتی مالی معاونت پارلیمانی نگرانی کے دائرے میں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمان موسمیاتی موافقت کے لیے قانون سازی، بجٹ کی نگرانی اور کمیٹیوں کے ذریعے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے خواتین، نوجوانوں اور معاشرے کے دیگر طبقات کی شمولیت ناگزیر ہے۔موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے پارلیمانوں کو باہمی تجربات سے استفادہ کرنا چاہیے۔موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پارلیمانوں کو اختلافات کے بجائے تعاون اور بامعنی مکالمے کو فروغ دینا چاہیے۔مضبوط اور متحرک معاشروں کے لیے مضبوط جمہوری ادارے ناگزیر ہیں۔موسمیاتی موافقت منصفانہ مالی معاونت اور جمہوری جوابدہی سے ہی موثر بن سکتی ہے۔سپیکر سردار ایاز صادق کے خطاب کے دوران پیدا ہونے والی صورتحال کے باوجود موسمیاتی موافقت اور موسمیاتی انصاف پر گفتگو جاری رہی۔سپیکر سردار ایاز صادق نے کسی ملک یا وفد کا نام لیے بغیر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اصولی موقف، عالمی برادری کی ذمہ داریوں پر زور دیا ۔سپیکر سردار ایاز صادق کے خطاب کو کانفرنس کے شرکا کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی اور بین الاقوامی مندوبین نے ان کے خطاب کو سراہا۔








