وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری ڈاکٹر مصدق ملک نے نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد جاری امدادی، تلاش، ریسکیو اور بحالی کی کوششوں میں پاکستان کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی ہے۔ بدھ کو وزارت موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نیپال کی سفیر ریتا ڈھیتال سے ملاقات کے دوران ڈاکٹر مصدق ملک نے قیمتی انسانی جانوں کے …
وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کی نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد ریسکیو اور بحالی کی کوششوں میں پاکستان کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی پیشکش

مزید خبریں
اسلام آباد۔16ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری ڈاکٹر مصدق ملک نے نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد جاری امدادی، تلاش، ریسکیو اور بحالی کی کوششوں میں پاکستان کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی ہے۔ بدھ کو وزارت موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نیپال کی سفیر ریتا ڈھیتال سے ملاقات کے دوران ڈاکٹر مصدق ملک نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سانحے کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا ازالہ الفاظ سے ممکن نہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان مشکل کی اس گھڑی میں نیپال کے ساتھ کھڑا ہے اور سرچ، ریسکیو اور ریکوری آپریشنز میں اپنے تجربے، تکنیکی صلاحیت اور دستیاب وسائل کے اشتراک کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ آفات کی بڑھتی ہوئی شدت اور پیچیدگی کے پیش نظر جدید ٹیکنالوجی کو ڈیزاسٹر رسپانس کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ سیٹلائٹس، ڈرونز اور مصنوعی ذہانت متاثرہ علاقوں کی نگرانی، نقصان کے تخمینے اور تلاش و بچائو کی کارروائیوں میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات کو مکمل طور پر روکا نہیں جا سکتا تاہم ان کے اثرات کو مشترکہ اقدامات کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے۔ خطے کے ممالک بالخصوص بالائی اور زیریں دریائی علاقوں سے وابستہ ممالک کو موسمیاتی خطرات، ابتدائی انتباہی نظام اور آفات سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا ہوگی۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان نیپال کے ساتھ Glacial Lake Outburst Floods (GLOFs) سے متعلق اپنے تجربات، خطرات کی نشاندہی اور دستیاب ڈیٹا شیئر کرنے کیلئے تیار ہے۔ملاقات میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث پیدا ہونے والے معاشی نقصانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سڑکوں، رابطہ کاری اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات سے نیپال کی معیشت پر بھی نمایاں دبائو پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک اتنے بڑے پیمانے پر موسمیاتی نقصانات اکیلے برداشت نہیں کر سکتے اور عالمی برادری کو موسمیاتی آفات سے متاثرہ ممالک کیلئے بروقت اور موثر مالی معاونت یقینی بنانا ہوگی۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے نقصانات اور تباہی کا معاملہ آئندہ سی او پی میں اٹھایا جائے گا، کیونکہ موسمیاتی آفات کے بڑھتے ہوئے معاشی اور انسانی اثرات عالمی سطح پر مشترکہ توجہ کے متقاضی ہیں۔
وفاقی وزیر نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے بھی نیپال کے عوام سے اظہار ہمدردی اور یکجہتی کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور نیپال ایک مشترکہ جغرافیہ اور مشترکہ موسمیاتی خطرات کا حصہ ہیں، ہمیں ان چیلنجز کا مقابلہ بھی مل کر کرنا ہوگا۔ نیپالی سفیر ریتا ڈھیتال نے پاکستان کی جانب سے اظہار یکجہتی اور تعاون کو سراہا اور وفاقی وزیر کو نیپال میں جاری امدادی اور بحالی کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ ملاقات میں پاکستان اور نیپال کے درمیان موسمیاتی خطرات کی تشخیص، جی ایل او ایف مانیٹرنگ، ابتدائی انتباہی نظام، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سمیت باہمی تعاون کے مختلف پہلوئوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔







