چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے ڈیجیٹل گورننس، بنیادی شناختی نظام، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے شعبوں میں پاکستان اور صومالیہ کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ترقی پذیر ممالک کے درمیان باہمی تجربات اور عملی حل کا تبادلہ ناگزیر ہے۔چیئرمین سینیٹ نے ان خیالات کا اظہار یہاں مقامی ہوٹل میں صومالیہ-پاکستان پیئر …
پاکستان اور صومالیہ کے درمیان ڈیجیٹل گورننس میں تعاون مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، سید یوسف رضا گیلانی

مزید خبریں
اسلام آباد۔16ستمبر (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے ڈیجیٹل گورننس، بنیادی شناختی نظام، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے شعبوں میں پاکستان اور صومالیہ کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ترقی پذیر ممالک کے درمیان باہمی تجربات اور عملی حل کا تبادلہ ناگزیر ہے۔چیئرمین سینیٹ نے ان خیالات کا اظہار یہاں مقامی ہوٹل میں صومالیہ-پاکستان پیئر لرننگ پروگرام برائے بنیادی شناخت اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کی اختتامی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔
چیئرمین سینیٹ نے پروگرام کے انعقاد اور کامیاب تکمیل پر اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کو سراہتے ہوئے کہا کہ بامعنی بین الاقوامی تعاون محض رسمی معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ علم، تجربات اور عملی حل کے تبادلے کے ذریعے اداروں کو مضبوط بنانے اور عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کا نام ہے۔انہوں نے نادرا اور صومالیہ کی نیشنل آئیڈینٹی فکیشن اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی کے درمیان شراکت داری کو ترقی پذیر ممالک کے باہمی تعاون کی ایک مؤثر مثال قرار دیا۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ بنیادی شناختی نظام محض ڈیٹا بیس یا رجسٹریشن دستاویز نہیں بلکہ جدید ریاست کی بنیاد کا اہم ستون ہے جو شہریوں کو سرکاری و نجی خدمات تک رسائی، مالیاتی شمولیت اور مؤثر طرز حکمرانی کے مواقع فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نادرا کے ذریعے پاکستان کا تجربہ شناختی نظام کو وسیع تر حکمرانی اور عوامی خدمات کی فراہمی کے پلیٹ فارم میں تبدیل کرنے کے حوالے سے اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان قومی ترقی کے ایجنڈے میں ای گورننس اور ڈیجیٹل تبدیلی کو مرکزی اہمیت دے رہا ہے تاہم اس عمل میں پارلیمان کا مؤثر کردار ناگزیر ہے تاکہ ٹیکنالوجی کو جامع، محفوظ، جوابدہ اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔ چیئرمین سینیٹ نے سینیٹ کی ڈیجیٹلائزیشن کے سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ای آفس اور دیگر ڈیجیٹل پارلیمانی اقدامات کے ذریعے ایوانِ بالا بتدریج پیپر لیس ای پارلیمنٹ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں سینیٹ موبائل ایپلی کیشن کے اجراء کو زیادہ مؤثر، شفاف اور عوام دوست پارلیمان کی جانب اہم قدم قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے حال ہی میں ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن (WAICO) میں بانی رکن کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی ہے جو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بالخصوص گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے درمیان عالمی تعاون کے لئے پاکستان کے عزم کا مظہر ہے۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان اور صومالیہ کی پارلیمانیں قانون سازی، نگرانی، ڈیجیٹل تبدیلی اور عوامی شمولیت کے شعبوں میں تجربات کے تبادلے کے ذریعے ادارہ جاتی روابط مزید مستحکم کر سکتی ہیں۔ انہوں نے او آئی سی کے دائرہ کار میں ڈیجیٹل شناخت، ای گورنمنٹ، مالیاتی شمولیت اور مصنوعی ذہانت سمیت ٹیکنالوجی کے وسیع تر تعاون کے امکانات کو بھی اجاگر کیا۔
چیئرمین سینیٹ نے ترقیاتی شراکت داروں بالخصوص یو این ڈی پی پر زور دیا کہ وہ ساؤتھ۔ساؤتھ اور ٹرائی اینگولر کوآپریشن کے تحت ایسے اقدامات کی مسلسل معاونت جاری رکھیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ پروگرام پاکستان اور صومالیہ کے درمیان دیرپا ادارہ جاتی تعاون کی بنیاد مزید مستحکم کرے گا۔تقریب میں یو این ڈی پی پاکستان کے ریزیڈنٹ نمائندہ ڈاکٹر سیموئل رزک، صومالیہ کی نیشنل آئیڈینٹی فکیشن اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل عبدی والی علی، معزز مہمانان، ماہرین اور مقررین نے شرکت کی۔







