مکہ معاہدے میں شامل کسی بھی فریق پر حملے کی صورت میں رکن ممالک باہمی مشاورت سے لائحہ عمل طے کریں گے ، ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا عرب ٹی وی کو انٹرویو

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ مکہ معاہدے میں شامل کسی بھی فریق پر حملے کی صورت میں رکن ممالک باہمی مشاورت سے لائحہ عمل طے کریں گے اور اسی کے مطابق عمل درآمد کیا جائے گا۔عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ بھارت اپنی …

راولپنڈی۔16ستمبر (اے پی پی):پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ مکہ معاہدے میں شامل کسی بھی فریق پر حملے کی صورت میں رکن ممالک باہمی مشاورت سے لائحہ عمل طے کریں گے اور اسی کے مطابق عمل درآمد کیا جائے گا۔عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ بھارت اپنی فوجی طاقت بڑھانے کے لئے بے تحاشا وسائل خرچ کر رہا ہے جبکہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتیں خالصتاً دفاعی نوعیت کی ہیں تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم کسی اسلحے کی دوڑ میں شریک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے کسی بھی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں، ہمیں اپنی دفاعی صلاحیتوں پر بھرپور اعتماد ہے اور ہم نہ صرف اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں بلکہ جارحیت کی سزا دینے کی بھی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ سیاسی مقاصد کا تعین ہمیشہ ملک کی سیاسی قیادت کرتی ہے، فوج اور ریاست کے اہداف الگ الگ نہیں ہوتے، پاکستان کے تمام تر مقاصد اور ترجیحات سیاسی قیادت کے دائرہ اختیار میں ہی آتی ہیں۔افغانستان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹس میں افغانستان میں موجود درجنوں دہشت گرد تنظیموں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

پاکستان کا اصولی مؤقف ہے کہ افغانستان کو عالمی دہشت گردی کا گڑھ نہیں بننا چاہئے۔ افغان طالبان حکومت پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لئے عناصر کو تربیت دے رہی ہے جبکہ ہمارا واحد اور دوٹوک مطالبہ ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف ہرگز استعمال نہ ہونے دیا جائے۔مکہ معاہدے کے فریق پر حملے کی صورت میں پاکستان کے ردعمل کے طریقہ کار پر بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دفاعی وعدوں پر عملدرآمد کا طریقہ کار کبھی عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا جاتا، حملے کی صورت میں کیا ردعمل ہوگا اس کا فیصلہ تینوں ممالک باہم لائحہ عمل طے کر کے ہی کریں گے اور اسی طریقہ کار کے تحت کارروائی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدے پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے، عالمی سطح پر سب جانتے ہیں کہ یہ اقدام خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے جس کا بنیادی مقصد خطے میں امن اور استحکام کو برقرار رکھنا ہے، دنیا بھر میں اس نوعیت کے دیگر دفاعی معاہدے بھی موجود ہیں جن کے تحت ایک دوسرے کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے، عسکری اور سکیورٹی کارروائیوں سے متعلق معلومات حساس اور خفیہ نوعیت کی ہوتی ہیں لہٰذا معاہدے کے تحت عملی اقدام کا حتمی فیصلہ بھی یہ تینوں ممالک مل کر کریں گے۔ت

رجمان پاک فوج نے واضح کیا کہ جیسا کہ عنوان سے ہی عیاں ہے یہ ایک دفاعی نوعیت کا باہمی تعاون ہے جس میں کوئی جارحانہ پہلو شامل نہیں، یہ معاہدہ ایک دوسرے کو معاونت فراہم کرنے کے لئے ہے جبکہ ان ممالک کے دیگر ریاستوں کے ساتھ اپنے آزادانہ اور خود مختارانہ تعلقات بدستور قائم ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے تعلقات اچانک وجود میں نہیں آئے، چین سمیت پوری دنیا بخوبی آگاہ ہے کہ یہ برادرانہ تعلقات کتنے دیرینہ اور تاریخی ہیں، اب ان تاریخی تعلقات کو باضابطہ اور ایک واضح معاہدے کے فریم ورک میں ڈھال دیا گیا ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ معاہدے میں شامل تینوں ممالک کے چین کے ساتھ بہترین مراسم ہیں خاص طور پر پاکستان اور چین کے تعلقات انتہائی سٹریٹجک اور غیر معمولی نوعیت کے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لئے ایران اور امریکا کے مابین ثالثی کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پاکستان امن و استحکام کا غیر متزلزل حامی ہے اور تمام دوست ممالک کے ساتھ کثیر الجہتی سفارتی تعلقات کی پالیسی کے باعث پاکستان کو دنیا میں ایک منفرد مقام حاصل ہے، اسی غیر جانبدار اور متوازن حیثیت کی بدولت پاکستان امن کے فروغ کے لئے ایک مخلص اور دیانتدار ثالث کا کردار مؤثر طریقے سے ادا کر سکتا ہے۔