قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے حکومتی یقین دہانیاں کا اجلاس، پرائیویٹ ہیلتھ کیئر اسٹیبلشمنٹ کے انتظامی اداروں کے پیرامیڈیکل سٹاف کو کم از کم اجرت کی ادائیگی یقینی بنانے کی ہدایت
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے حکومتی یقین دہانیاں کا اجلاس، پرائیویٹ ہیلتھ کیئر اسٹیبلشمنٹ کے انتظامی اداروں کے پیرامیڈیکل سٹاف کو کم از کم اجرت کی ادائیگی یقینی بنانے کی ہدایت

مزید خبریں
اسلام آباد۔17ستمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے حکومتی یقین دہانیاں نے ہدایت کی ہے کہ اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی سے پرائیویٹ ہیلتھ کیئر اسٹیبلشمنٹ کے انتظامی اداروں کے پیرامیڈیکل سٹاف کو کم از کم اجرت کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے ۔ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو پارلیمنٹ ہائوس میں کمیٹی کی چیئر پرسن بیگم نزہت صادق کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان سمیت متعلقہ سرکاری اداروں کے اعلی افسران نے شرکت کی۔ کمیٹی نے پرائیویٹ ہیلتھ ہسپتالوں اور صحت کے دیگر اداروں میں کام کرنے والے پیرا میڈیکل سٹاف کو کم از کم اجرت کی عدم ادائیگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
کمیٹی اسلام آباد کے نجی ہسپتالوں میں پیرامیڈیکل سٹاف کو تنخواہوں سے متعلق ایک سوال پر نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اور کوآرڈینیشن کے وزیر کی طرف سے ایوان کے فلور پر دی گئی یقین دہانی کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا کہ وزارت قومی صحت خدمات نے استدلال کیا تھا کہ یہ معاملہ وزارت یا اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا اور یہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لیبر ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ آئی سی ٹی لیبر ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ وہ اسلام آباد کی حد تک کم از کم اجرت آرڈیننس اور ویسٹ پاکستان شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹ آرڈیننس کے نفاذ کے ذمہ دار ہیں تاہم موجودہ قانونی فریم ورک کے تحت خاص طور پر نجی ہسپتالوں میں کام کرنے والے پیرامیڈیکس کے لیے کم از کم اجرت تجویز کرنے اور نافذ کرنے کی کوئی واضح دفعات نہیں ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بیمار اور کمزور افراد کے علاج یا نگہداشت کے ادارے مذکورہ بالا دونوں قوانین کے عمل سے مستثنیٰ ہیں۔ وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز کے نمائندے نے بتایا کہ اسلام آباد ہیلتھ کیئر اتھارٹی کی جانب سے ہسپتالوں اور صحت کے اداروں کی رجسٹریشن کا عمل ایک ہفتے میں شروع ہو جائے گا اور اس کے مطابق کم از کم اجرت کی ادائیگی کے معاملے کو حل کیا جا سکے گا۔ کمیٹی نے ایشین چیمپئنز ٹرافی 2024 میں شرکت کرنے والے پاکستان ہاکی سکواڈ کے ارکان کی جانب سے بورڈنگ اور رہائش کے چارجز کی ادائیگی کے حوالے سے یقین دہانی کراتے ہوئے کمیٹی نے وزارت اور پاکستان سپورٹس بورڈ سے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ سپورٹس فیڈریشنز کھلاڑیوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کریں کیونکہ وہ پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارت آئی پی سی اور پاکستان سپورٹس بورڈ باقاعدگی سے گرانٹس فراہم کرتے ہیں تاکہ سپورٹس فیڈریشن کو بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں میں پاکستانی ٹیموں کی شرکت کے انتظامات کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔ فوری صورت میں وزارت اور پاکستان سپورٹس بورڈ نے 10000 روپے کی گرانٹ فراہم کی ہے۔ مالی سال 2023-24 کے دوران پاکستان ہاکی فیڈریشن کو 96 ملین کی مجموعی رقم کے علاوہ وزارت نے ایشین چیمپئن شپ ٹرافی 2024 میں شرکت کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے خاص طور پر 23 ملین روپے فراہم کیے اور کافی مالی وسائل ہونے کے بعد بورڈنگ اور لاجنگ پر چارجز کی ادائیگی نہیں ہوتی۔
سیکرٹری آئی پی سی نے دلیل دی کہ میڈیا میں آنے والی خبریں غلط بنیادوں پر ہیں اور ان میں میرٹ نہیں ہے۔ کمیٹی نے جواب سننے کے بعد یقین دہانی نمٹا دی۔ کمیٹی نے اسلام آباد کے دیہی علاقوں بالخصوص جگیوٹ روڈ اور سکندر اعظم روڈ کی سڑکوں کی خراب حالت کے حوالے سے یقین دہانی کراتے ہوئے دونوں سڑکوں کی بحالی/تعمیراتی کام مکمل نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔ کمیٹی کا موقف تھا کہ یہ کام 2023ء میں شروع کیا گیا تھا اور ابھی تک نامکمل ہے۔ کمیٹی نے اجلاس میں سی ڈی اے کے چیئرمین یا کسی اعلیٰ افسر کی عدم شرکت پر بھی برہمی کا اظہار کیا ۔







