وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی وجہ سے عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں ملک بھر میں سادگی و کفایت شعاری مہم کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق یہ فیصلہ اسلام آباد میں وزیراعظم کی زیر صدارت منعقدہ کفایت شعاری اور توانائی کے تحفظ کے اقدامات پر اہم اجلاس میں ہوا …
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں ملک بھر میں سادگی و کفایت شعاری مہم کی منظوری دے دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔17ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی وجہ سے عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں ملک بھر میں سادگی و کفایت شعاری مہم کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق یہ فیصلہ اسلام آباد میں وزیراعظم کی زیر صدارت منعقدہ کفایت شعاری اور توانائی کے تحفظ کے اقدامات پر اہم اجلاس میں ہوا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پوری دنیا مہنگائی کی لپیٹ میں ہے، سب سے پہلے حکومت اور اشرافیہ سے قربانی کا آغاز کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ معاشی طور پر کمزور اور متوسط طبقے کیلئے فیول سبسڈی کا آغاز ہو چکا ہے، موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی گاڑیوں کو 100 روپے فی لیٹر کے تناسب سے سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم نے غیر ضروری سرکاری اخراجات میں کمی اور قومی وسائل کے دانشمندانہ استعمال کو یقینی بنانے اور متعلقہ اداروں کو کفایت شعاری اقدامات پر موثر اور فوری عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں حکومتی اخراجات میں کمی، ایندھن کے تحفظ اور سرکاری وسائل کے موثر استعمال کے لیے اضافی کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن میں تین ماہ کے لیے 50 فیصد کمی کے اقدام پر عملدرآمد کی منظوری دی گئی۔ ایمبولینسز، فائر بریگیڈ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ضروری خدمات کی گاڑیاں اس اقدام سے مستثنیٰ ہوں گی جبکہ انتظامی یا غیر آپریشنل نوعیت کی گاڑیوں کے لیے استثنا کی اجازت نہیں ہوگی۔ اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے نان ای آر ای بجٹ میں 5 فیصد کمی، سرکاری سطح پر ہر قسم کی نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی اور آئی ٹی سے متعلق خریداری کے علاوہ تمام پائیدار اشیاء کی خریداری پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ تین ماہ کے لیے سرکاری دوروں اور بیرون ملک سفری سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔
ناگزیر بیرون ملک دوروں کی صورت میں وزراء، مشیران، وزرائے مملکت، معاونین خصوصی اور سرکاری افسران اکانومی کلاس میں سفر کریں گے۔ اجلاس میں سرکاری امور کے لیے ویڈیو کانفرنسنگ اور ٹیلی کانفرنسنگ کے زیادہ سے زیادہ استعمال، سرکاری عشائیوں کے انعقاد پر پابندی، سوائے غیر ملکی وفود کے اعزاز میں ضروری عشائیوں اور حکومت کے زیر اہتمام سرکاری سیمینارز، تربیتی پروگراموں اور کانفرنسوں کے انعقاد میں غیر ضروری اخراجات سے گریز کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں سنگل ڈش کے اقدام پر بھی عملدرآمد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔دکانیں، مارکیٹس، شاپنگ مالز، بازار اور دیگر عمومی کاروباری مراکز رات 9 بجے جبکہ شادی ہالز اور دیگر تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک بند ہوں گے۔
ریستوران، کیفے، کھانے پینے کے مراکز اور سٹینڈ الون فروٹ و سبزی کی دکانوں کے لیے بندش کا وقت رات 11 بجے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، طبی مراکز، ہسپتال، بیکریاں، پٹرول و سی این جی سٹیشنز، الیکٹرک وہیکل چارجنگ سٹیشنز، جم، کھیلوں کی سہولیات، آئی ٹی کمپنیوں اور کال سینٹرز کو اوقات کار کی پابندیوں سے استثنا دے دیا گیا۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ کفایت شعاری اور ایندھن کے تحفظ کے اقدامات کی نگرانی کے لیے قائم کمیٹی وزارتوں، ڈویژنز، محکموں، سرکاری اداروں اور صوبائی حکومتوں سے عملدرآمد رپورٹس حاصل کرے گی، عدم تعمیل اور رکاوٹوں کی نشاندہی کرکے اصلاحی اقدامات تجویز کرے گی اور وزیراعظم کو ہفتہ وار پیش رفت رپورٹ پیش کرے گی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ہدایت کی کہ کفایت شعاری کے اقدامات پر بلاامتیاز عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور حکومتی اخراجات میں کمی کے ساتھ ساتھ توانائی اور ایندھن کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2026-27 میں پہلے سے نافذ کفایت شعاری اقدامات کو جاری رکھنے کی منظوری بھی دی جا چکی ہے جبکہ یہ اقدامات وفاقی حکومت کے منسلک محکموں، سرکاری ملکیتی اداروں، قانونی اداروں اور ریگولیٹری اتھارٹیز پر بھی لاگو ہوں گے۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احد خان چیمہ، علی پرویز ملک، عطاء اللہ تارڑ اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔








